ایران دو ہیں۔
ایک وہ جو پاکستانی زائرین دیکھ کر جاتے ہیں (قم اور مشہد اور تہران کے کچھ پرانے حصے) اور دوسرا وہ ہے جو یورپین ٹورسٹس دیکھنے آتے ہیں ( اصفہان، شیراز، کاشان، یزد، تبریز اور جدید تہران)۔
میں نے دونوں دیکھے ہیں۔ اور تیسرا بھی جو ٹورسٹس نہیں دیکھ سکتے۔ یہ ایران یہاں رہنے اور سوسائٹی کا حصہ بن کر زندگی کرنے سے سمجھ میں آتا یے۔ یہ ایران ہزاروں سال پرانے تمدن کا تسلسل یے۔
ایران میں حکومتیں بھی دو ہیں۔ ایک وہ جو امریکہ سے برسرِپیکار ہے۔ دوسری وہ جو خدمت خلق میں جتی ہوئی ہے۔ یہ بلدیاتی حکومتیں ہیں۔ جیسے انگلینڈ میں city councils ہیں۔ اسے "شہرداری" کہتے ہ��ں۔ ہر شہردار کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا شہر دوسروں پر بازی لے جائے۔ سارے بڑے شہروں میں ایک صحت مند مقابلے کی فضا ہے۔ چھوٹے شہر بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔
یاد رہے ایرانی شہروں میں کمشنر، ڈپٹی کمشنر یا اسٹنٹ کمشنر نہیں ہوتے۔ انکی ضرورت ہی نہیں یے۔ یہ کالے انگریز نہیں ہیں۔ صرف ایک منتخب شہردار اور اسکی ٹیم ہوتی ہے۔ سارا انتظام انکے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ شہرداری بہترین کام کررہی ہے۔
پارلیمنٹ سپیکر محمد باقر قالیباف اور ایران کا سابق صدر محمود احمدی نژاد دونوں تہران کے شہردار رہ چکے ہیں۔ اسی سے ان کی طبیعت میں خدمت کا جذبہ پیدا ہوا ہے۔ قالیباف 12 سالوں تک تہران کا مئیر یعنی شہردار رہا۔
از جمی ورک
تصویریں "یزد" شہر کی ہیں۔
If you’re trying to reach me on Instagram or Facebook, I would like to let you know I have been suspended from both accounts. I have wanted to respond to as many Indians as possible, but my responses will now be delayed. I hope I will get my accounts back. @Meta