سہیل ظفر چٹھہ صاحب توجہ درکار ہے
سہیل ظفر چٹھہ صاحب،
1-ڈی این اے میچ ہو چکا ہے
سہیل ظفر چٹھہ صاحب
2- گینگ ریپ، اغوا برائے تاوان اور تشدد ثابت ہو چکے ہیں
سہیل ظفر چٹھہ صاحب
3-لڑکیوں کا 164 کا بیان درست ثابت ہو چکا ہے
سہیل ظفر چٹھہ صاحب
غریب کمزور اور اشرافیہ کے لیے دو قانون کیوں ?۔
سہیل ظفر چٹھہ صاحب
جو غریب کے ساتھ سلوک ہوتا ہے وہ رضا ڈار کے ساتھ کب ہوگا?
ن لیگی صحافی عمار مسعود اسحاق ڈار کے نواسے رضا ڈار اور مریم نواز کا جتنے جذباتی انداز میں دفاع کر رہے ہیں،
اتنا تو شاید اسحاق ڈار خود بھی اپنے نواسے کا دفاع نہ کریں۔
لیکن ن لیگی طبلہ گروپ کی کیا بات ہے۔
They have ZERO self-respect, I swear! 👎
عمران خان بیوی کی سہیلی کی مبینہ کرپشن کا ذمہ دار ہے لیکن ڈار صاحب خدانخواستہ خدانخواستہ، نعوذ باللہ ،ثم نعوذ باللہ استغفرالہ نواسے کے جرائم میں ملوث نہیں ہیں 🙂
یہ لاہور کے صحافیوں کو کیا ہو گیا ہے یہ کونسا طریقہ ہے سوال وجواب کا۔۔ ایک ایک کرکہ بھی سوال ہوسکتے تھےلگتا ہے کسی پلان کے تحت پریس کانفرنس الٹ پلٹ کی گئی
دو عدد نمونہ ٹویٹ‼️
پہلا نمونہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ رضا ڈار کو صوبے اور وفاق سے کوئی سپورٹ نہیں اب صوبے میں اسکا ماما وزیر اور وفاق میں نانا نائب وزیراعظم- لاہور کا DIG اور CM دونوں نے جھوٹ بولا ملزموں کو بچانے کے لیے اور CCtV فوٹیج آنے پہ دونوں کا جھوٹ بھی پکڑا گیا لیکن تحقیقاتی صحافت آج خاموش ہے جبکہ گذشتہ تین سال انھوں نے عمران خان کی شلوار میں گزارے ہیں۔
دوسرے نمونے کا کچھ نہیں کیا جا سکتا، میراثیوں کے لیے چوہدری ہی سب کچھ ہوتا ہے اور اسکے ہر گناہ کو وہ پوری طرح اپناتے ہیں ویسے یہ وہی خباثت ہے جن سے کبھی marital rape کا بھی کانسپٹ ڈسکس کر کے دیکھ لیجیے گا سارا معاملہ Done and Dustis ہو جاے ہے ‼️
ڈی آئی جی فیصل کامران نے صرف حقائق نہیں چھپائے بلکہ کھلے عام جھوٹ بولا، قوم کو گمراہ کیا، میڈیا کو جعلی اور من گھڑت کہانی تھمائی، اور خواتین کی جان کو مزید خطرے میں ڈالنے کے باوجود مریم نواز کی تعریفوں کے قصیدے پڑھتے رہے۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ پولیس افسر کم اور سرکاری ترجمانِ خوشامد زیادہ ہوں۔
سوال یہ نہیں کہ فیصل کامران کو معطل کیا جانا چاہیے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ اتنا بڑا جھوٹ بولنے، حقائق دبانے اور عوام کو دھوکا دینے کے بعد وہ اب تک عہدے پر کیوں بیٹھے ہیں؟
جو افسر سچ چھپائے، جھوٹ کو سرکاری مؤقف بنا کر بیچے، میڈیا کے ذریعے قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکے اور اوپر سے حکمرانوں کی مدح سرائی میں لگا رہے، وہ وردی نہیں، سیاسی وفاداری کا تمغہ پہن رہا ہوتا ہے۔
فیصل کامران نے واقعی جھوٹ بولا، حقائق مسخ کیے، اور اپنی ذمہ داری نبھانے کے بجائے مریم نواز کی خوشنودی حاصل کرنے کو ترجیح دی۔ ایسے افسر کے لیے معطلی بھی کم ہے؛ اسے عہدے سے ہٹانا چاہیے تاکہ کم از کم یہ پیغام تو جائے کہ ریاستی منصب چاپلوسی، جھوٹ اور عوام سے دھوکا دہی کا لائسنس نہیں۔
اس بندے کو دنیا کی ہر بات کا علم ہے، صرف یہ پتہ نہیں کہ رضا ڈار کون ہے
دوسرا کہہ رہا ہے ’’اگر‘‘ الزامات ثابت ہو جائیں تو،،،، بھئی جب عام آدمی صرف الزام پر ہی مقابلے میں پار ہو جاتا ہے تو یہ ملزم کیوں نہیں؟
تو فرمائیے محترمہ اب ان کے ساتھ کیا ہونا چاہیے۔۔؟
خدانخواستہ اگر یہی درندے آپ کے خاندان کی کسی خاتون کے ساتھ ایسا ہولناک جرم کرتے تو آپ کی نگاہ میں ان کا کیا انجام ہونا چاہیے بتائیے۔۔۔
رضا ڈار کے ساتھ قانون ضابطہ دیکھا جائے گا یا سی سی ڈی استعمال کی جائے گی ۔۔؟
واہ سہیل ظفر چٹھہ صاحب واہ! غریب مرے تو “پولیس مقابلہ”، طاقتور پھنسے تو “قانونی کارروائی”۔ رضا ڈار کے کیس نے آپ کی ساری بہادری، غیرت اور انصاف کو ننگا کر دیا۔ اب کرسی چھوڑیں، گھر جائیں اور کچھ وقت توبہ استغفار میں گزاریں۔
اسحاق ڈار کا قریبی رشتہ دار غیر ملکی خواتین سے زیادتی اور اغوا برائے تاوان کے الزامات میں گرفتار۔ اب دیکھتے ہیں سی سی ڈی یہاں کچھ کرتی ہے یا سلیوٹ مارتی ہے۔