جو تاریخ کو مسخ کرتے ہیں، تاریخ انہیں مسخ کر دیتی ہے؛
جو تاریخ کا مذاق اڑاتے ہیں، تاریخ انکا مذاق اڑاتی ہے؛
جو تاریخ کو تبدیل کرتے ہیں، تاریخ انکے جغرافیے تبدیل کرتی ہے؛
جو تاریخ کی نہیں سنتے، تاریخ انکی چیخ تک نہیں سنتی؛
1/2
اگر ایران اس رائیل پر جوابی کارروائی نہ کرتا تو فرقہ پرستوں کی دکان بند نہیں ہوتی، 20 سے زائد فرقوں کا کاروبار اسی یہودی اور شیعہ ATM کارڈ پر چل رہے تھے!
@moona_sikander@SAQI7E اسی انفرادیت پر مبنی سوچ نے بیڑہ غرق کیا ہے۔
دنیا جب سے بنی ہے آج تک کوئی ایک مثال مل سکتی جس قوم میں انفرادی طور پر ہر شخص ٹھیک ہوا ہو؟
@anjumkhalid200@RoymukhtarRoy صحیح بات ہے۔
انتشار میں مزید انتشار۔
پیکنگ انکی یہ ہے اسلام کے نمائندے بنے ہوئے۔
ان کے نزدیک بس چند صحابہ کو اسلام سمجھ آیا۔ باقی 1300 سال سب ایویں رہے۔ اب ان کو اسلام سمجھ آیا ہے۔
@RoymukhtarRoy@anjumkhalid200 یہ سب ظالم نظام کے سامنے دیوار ضرور بنتے تھے۔
آپ تو اسی ظالم نظام کو قبول کرنے والے ایک بت کے پچاری ہو۔ پورا اکاونٹ بس یہی بتا رہا ہے۔
غلام ریاستوں میں الیکشن ایک ڈرامہ اور ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ رسول اللہ ﷺ نے پہلے غلاموں کو مکہ میں ابوجہل کی حکمرانی سے اور مدینہ کے سرمایہ پرست یہودیوں کے جبر سے آزادی دلائی۔ پھر جمہور کی آزادانہ رائے کی بنیاد پر حکومتیں مشاورت سے قائم ہوئی۔
انبیاء کو اپنے نظریے (عادلانہ نظام) کے قیام اور ظالم نظام کے خاتمے کیلئے جماعت کی ضرورت ہوتی تھی۔ اسی جماعت کی مدد سے قومی سطح پر سیاست میں کردار ادا کرتے تھے۔ تو آج ہم ہیروازم کا شکار ہوکر اپنی تمام امیدیں کسی ایک شخص سے کیوں لگائے بیٹھے ہیں؟
ہماری ملکی سیاست پر سرمایہ داروں کا قبضہ ہے اور ان کے لیے سیاست خدمت نہیں بلکہ محض ایک کاروبار ہے۔ وہ آج کروڑوں اس لیے خرچ کرتے ہیں تاکہ کل کو اربوں کما سکیں۔