@RebelByThought استعفیٰ نہیں دیا اک سال کی ایکسٹیشن تھی ختم ہو گئی آگے نہیں ملی ۔دوسری بات ٹھیک آپ کی اگلا اس بُرا ہی ہو سکتا اچھا تو ان کو سوٹ نہیں کرتا
جب آپ کسی بزرگ خاتون کو ان کے بالوں سے پکر کر گرائیں گے اور پھر سڑک پر گھسیٹں گے تو آپ کو کیا لگتا ہے کہ وہ آپ کے قصیدے پڑھیں گی؟ ان کے بیٹے کو ملیٹیری قید میں ڈالا، بھائی کو تنہائی میں رکھا ہےبغیر کوئی جائز کیس کے، ان کی ایک آنکھ کی بینائی لے لی، عوام کا مینڈیٹ چرایا، اور جو لوگ احتجاج کرنے نکلے، ان کو گولی مار کر شہید کیا ۔۔ یہ ہیں وہ ریڈ لائنز جو آپ روز کراس کرتے ہیں۔ اس وقت پوری قوم کو آپ کی نیت پر شک ہے کیونکہ آپ نے حق مانگنے کہ سارے دروازے بند کیے ہوئے ہیں-
اور جب اتنا ظلم کریں گے تو کبھی غلطی سے آپ کو کامیابی مل بھی گئی تو قوم آپ کے ساتھ نہیں کھڑی ہوگی کیونکہ آپ قوم کے ساتھ نہیں کھڑے-
ضد اور انا میں ظلم کرنے کے کچھ نقصانات ہوتے ہیں۔ قوم پیچھے نہیں کھڑی ہوتی۔ ان کو سڑکوں پر آنے سے روک سکتے ہیں آپ گولی سے ڈرا کر، مگر دلوں سے عمران خان کو نہیں نکال سکتے نہ ہی اپنے لیے کوئی اچھے جزبات پیدا کر سکتے ہیں۔
اللہ توبہ کا موقعہ دیتا ہے، اس وقت اللہ سے اور عوام سے معافی مانگنے کا وقت ہے تمام ظالموں کا۔ نفرتیں اور بڑھانے سے (اور ہر صوبے میں بڑھانے سے) پاکستان کا بہت نقصان ہوگا۔ یہ ملک اور اس کی عوام ہیں تو سب کچھ ہے، جب عوام بے دل ہوجائے اور ملک سے باہر جانے کے موقعے ڈھونڈ رہی ہو تو وہ ملک نہیں، محض ایک پلاٹ ہے اور جس پلاٹ میں لوگ نہیں رہنا چاہتے، اس کی قدر نیچے جاتی رہتی ہے، یہ بات آپ شاید ہم سے بھی بہتر سمجھتے ہیں۔
پاکستان کو نقصان پہنچانا بند کریں اور عدالتیں آزاد کریں۔ انصاف ہوگا ملک میں تو برکت آئے گی۔ اس کے علاوہ کوئی حل ہوتا تو چار سالوں میں مل چکا ہوتا۔
یہ جو ریڈ لائن کا شور مچایا ہوا ہے عسکری ٹاؤٹس نے اور اداروں نے، اس پر یقین اس لیے کبھی نہیں آتا کہ جو ان کے خلاف زہریلی باتیں کرتے تھے وہ تو آج ان کی گود میں بیٹھے ہیں۔ منافقت صاف دکھائی دے رہی ہے۔ اگر اتنی ہی ریڈ لائن ہے تو پہلے ان سب کو پکڑیں یا نوٹس ہی بھیج دیں!
آج کی ویڈیو بہت اہم ہے۔
81 دنوں سے محمد وقاص، نوید شہزاد، رضوان علی اور محمد عدنان قید میں ہیں، لیکن ان کے لیے مؤثر آواز نہیں اٹھائی جا رہی۔ میں نے پہلے بھی ان کے بارے میں ٹویٹ کی تھی، مگر ان ورکرز کے حق میں وہ آواز نہیں بن سکی جس کی ضرورت تھی۔
انہیں 28 اپریل 2026 کو اڈیالہ جیل کے باہر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ انہوں نے کچھ پوسٹر اٹھائے ہوئے تھے، جس کی وجہ سے انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
اس کے بعد انہیں شناخت پریڈ کے لیے اٹک جیل بھیج دیا گیا۔ ان پر 7 اپریل کی ایف آئی آر ڈالی گئی تھی۔
ان کی شناخت پریڈ 14 دن کے بجائے 19 دن میں مکمل ہوئی، اور اس دوران ان پر بہت ذہنی ٹارچر بھی کیا گیا۔
ان کی کینٹین اور ملاقاتیں مکمل طور پہ بند تھیں۔۔
اصول کے مطابق جب شناخت پریڈ مکمل ہو جاتی ہے تو اگلے دن ملزمان کو عدالت میں پیش کرنا پڑتا ہے، لیکن انہیں عید کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا۔
انہیں یکم جون 2026 کو عدالت میں پیش کیا گیا، اور پھر انہیں سات جسمانی ریمانڈ پر بیرونی تھانے بھیج دیا گیا۔
اس کے بعد ان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید تین دن کی توسیع کی گئی، پھر مزید سات دن کا جسمانی ریمانڈ بھی لیا گیا۔
14روزہ جسمانی ریمانڈ کے بعد انہیں جوڈیشل کر کے اٹک جیل بھیج دیا گیا۔
آج ان کی قید کو 81 دن ہو چکے ہیں، لیکن ابھی تک ان کی ضمانت نہیں ہوئی۔
کل ان کی ضمانت کی تاریخ لگی ہوئی ہے، لیکن اس کے بعد چھٹیاں آ جائیں گی۔ اگر کل انہیں ضمانت نہیں ملتی تو اطلاعات کے مطابق ہوسکتا ہے ان کی ضمانت چھٹیوں کے بعد لگے، جو کہ بہت زیادہ ظلم ہوگا۔
کل ان کی ضمانت کی تاریخ کا آخری دن ہے، اس لیے ان چاروں لوگوں کے لیے بھرپور آواز اٹھائیں۔
ان میں سے ایک کی طبیعت بھی خراب ہے، لیکن انہیں ڈاکٹر تک رسائی نہیں دی جا رہی۔
انہیں ہماری آواز کی ضرورت ہے۔
امید کرتے ہیں کہ انہیں ضمانت دے دی جائے گی۔
آواز اٹھائیں، کیونکہ آواز اٹھانے سے فرق پڑتا ہے۔
خدارا، سب ان کے لیے آواز اٹھائیں۔
جرنیلوں تم آؤ گے
اپنی گودڑی اٹھاؤ گے اور چلے جاؤ گے۔ تمہاری نظر اسلام آباد کے ایک ایک سیکٹر پر ہے، تم مونال پر قبضہ چاہتے ہو، تم پورے پاکستان پر قابض ہو۔ مگر یاد رکھو، اقتدار ہمیشہ کے لیے کسی کے پاس نہیں رہتا۔ اس ملک کا اصل مالک عوام ہے، نہ کہ بندوق کے زور پر فیصلے کرنے والے جرنیل۔
تمہاری حکومت اتنی کمزور ہے کہ تم مولانا فضل الرحمٰن کو گرفتار نہیں کر سکتے، اور نہ اکیلے جاوید ہاشمی کو خاموش کرا سکتے ہو۔ مولانا کے لاکھوں پیروکار ہیں، مگر اصل طاقت عوام کی ہے۔
آج میں آپ کو دو کہانیاں سناتا ہوں، جو ہمارے جرنیلوں اور آج کے ملکی حالات کی عکاسی کرتی ہیں۔
پہلی کہانی
آپ کو محمد شاہ رنگیلا اور سائرہ تو یاد ہوگی
ایک وقت تھا جب محمد شاہ رنگیلا دہلی پر حکومت کرتا تھا۔ اسے شراب و شباب سے فرصت نہ تھی۔ نادر شاہ نے دہلی پر حملہ کیا، قتلِ عام کیا، شہر اجاڑ دیا۔ جب محمد شاہ کو بتایا جاتا کہ نادر شاہ دہلی میں داخل ہو چکا ہے تو وہ بے پروائی سے کہتا: “کوئی ایک آدھا شہر لے جائے گا تو کیا ہو جائے گا؟” اور پھر اپنی طوائف سائرہ کی طرف اشارہ کر کے کہتا: “سائراں دے، جھوٹا!” مطلب سائرہ جھولاجھلاتی رہو!
آخرکار نادر شاہ اس تک پہنچ گیا، مگر کہا: “میں تمہیں اپنا بھائی بناتا ہوں، حکومت نہیں لوں گا۔” محمد شاہ کوہِ نور اپنی پگڑی میں چھپا چکا تھا۔ نادر شاہ نے کہا: “ہمارا دستور ہے کہ بھائی بنتے وقت پگڑی بدلی جاتی ہے۔” پگڑی بدلی گئی، اور کوہِ نور بھی چلا گیا۔
دوسری کہانی
ایک ملک میں نیا بادشاہ بنانا تھا۔ لوگوں نے فیصلہ کیا کہ صبح جو پہلا آدمی سامنے آئے گا، اسے بادشاہ بنا دیں گے۔ ایک شخص گودڑی اٹھائے آ رہا تھا، اسے بادشاہ بنا دیا گیا۔
وہ ہر مسئلے کا ایک ہی جواب دیتا: “پکاؤ حلوہ!”
ملک پر حملہ ہوا، تب بھی اس نے کہا: “پکاؤ حلوہ!” وہ کہتا تھا: “تم نہیں جانتے میری گودڑی میں کیا ہے۔” جب دشمن اس تک پہنچ گیا تو اس نے کہا: “میں تو حلوہ کھانے آیا تھا، لوگوں نے مجھے بادشاہ بنا دیا۔” اس نے حلوہ کھایا، اپنی گودڑی اٹھائی اور چلتا بنا۔
جب مشرقی پاکستان میں جنگ چھڑی تو یحییٰ خان کا طرزِ عمل بھی کچھ ایسا ہی تھا۔
آج بھی ہمارے جرنیل اسی ذہنیت کے اسیر دکھائی دیتے ہیں۔ اقتدار آتا ہے، وسائل پر قبضہ ہوتا ہے، حلوہ تقسیم ہوتا ہے، اور پھر گودڑی اٹھا کر رخصت ہو جاتے ہیں۔ نقصان مگر پاکستان کا ہوتا ہے، قیمت عوام ادا کرتے ہیں، اور تاریخ نئے ناموں کے ساتھ پرانی غلطیاں دہراتی رہتی ہے۔ اپنا حلوہ کھاؤ گے اور بھاگ جاؤگے!
جنرل ایوب نے الزام لگایا کہ جب سہروردی وزیر اعظم تھے، انھوں نے اپنے اختیارات کے غلط استعمال میں ایک شخص سیٹھ نور علی کو چاولوں کا پرمٹ دیا تھا۔ فوجی عدالت میں سہروردی نے اپنا کیس خود لڑا سہروردی نے ریکارڈ سے ثابت کر دیا کہ پرمٹ کے اجرا کے لیے وزارت تجارت کے سیکریٹری نے ان سے منظوری لی ہی نہیں، بلکہ خود ہی پرمٹ جاری کر دیا، اسکندر مرزا اور جنرل ایوب خاں کے کہنے پر۔
مگر فوجی عدالت نے سہروردی کو سات سالہ نااہلی کی سزا تو پھر بھی سنا دی پریس کو عدالتی کارروائی رپورٹ کرنے سے بزور بندوق روک دیا گیا
66 سال گزر گئے کیا بدلا
https://t.co/QYRtj2WDI8
جو لوگ دن رات سوشل میڈیا پر شکوے کرتے ہیں کہ پاکستانی اپنے حق کے لیے نہیں نکلتے وہ جان لیں کہ کشمیر اور بلوچستان میں عوام بڑی تعداد میں اپنے مطالبات کے حق میں باہر نکلے ہیں۔ دونوں جگہوں پر کئی دھرنے جاری ہیں مگر میڈیا میں مکمل بلیک آؤٹ سے خبر دبائی جا رہی ہے۔ اب آپکی ذمہ داری ہے کہ کھل کر انکی کوریج سوشل میڈیا پر کریں انکی آواز کو پوری دنیا تک پہنچائیں۔ تاکہ مایوسی کی جگہ امید جنم لے۔۔۔
@alhabtoorgroup لقد مرّ عامٌ على وعدنا بمساعدة السيد خلف أحمد صاحب. لا يسعنا إلا الدعاء إلى الله عز وجل. نسأل الله عز وجل أن يوفق خلف أحمد صاحب لتحقيق وعده.
https://t.co/LJ320YH9A4
@alhabtoorgroup I know that the help I am asking for is big, but I also know that it is neither big in front of my Allah nor big in front of Khalaf Ahmad Al Habtoor, to whom Allah has given so much
@alhabtoorgroup I know that the help I am asking for is big, but I also know that it is neither big in front of my Allah nor big in front of Khalaf Ahmad Al Habtoor, to whom Allah has given so much
@alhabtoorgroup I know that the help I am asking for is big, but I also know that it is neither big in front of my Allah nor big in front of Khalaf Ahmad Al Habtoor, to whom Allah has given so much
@alhabtoorgroup I know that the help I am asking for is big, but I also know that it is neither big in front of my Allah nor big in front of Khalaf Ahmad Al Habtoor, to whom Allah has given so much
@alhabtoorgroup نسأل الله تعالى أن يوفق معالي خلف أحمد الحبتور لتنفيذ وعده في القريب العاجل، آمين يا رب العالمين.
@KhalafAlHabtoor
https://t.co/lwijoAxMVA
@alhabtoorgroup I know that the help I am asking for is big, but I also know that it is neither big in front of my Allah nor big in front of Khalaf Ahmad Al Habtoor, to whom Allah has given so much
@alhabtoorgroup I know that the help I am asking for is big, but I also know that it is neither big in front of my Allah nor big in front of Khalaf Ahmad Al Habtoor, to whom Allah has given so much
ڈی آئی جی فیصل کامران نے صرف حقائق نہیں چھپائے بلکہ کھلے عام جھوٹ بولا، قوم کو گمراہ کیا، میڈیا کو جعلی اور من گھڑت کہانی تھمائی، اور خواتین کی جان کو مزید خطرے میں ڈالنے کے باوجود مریم نواز کی تعریفوں کے قصیدے پڑھتے رہے۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ پولیس افسر کم اور سرکاری ترجمانِ خوشامد زیادہ ہوں۔
سوال یہ نہیں کہ فیصل کامران کو معطل کیا جانا چاہیے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ اتنا بڑا جھوٹ بولنے، حقائق دبانے اور عوام کو دھوکا دینے کے بعد وہ اب تک عہدے پر کیوں بیٹھے ہیں؟
جو افسر سچ چھپائے، جھوٹ کو سرکاری مؤقف بنا کر بیچے، میڈیا کے ذریعے قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکے اور اوپر سے حکمرانوں کی مدح سرائی میں لگا رہے، وہ وردی نہیں، سیاسی وفاداری کا تمغہ پہن رہا ہوتا ہے۔
فیصل کامران نے واقعی جھوٹ بولا، حقائق مسخ کیے، اور اپنی ذمہ داری نبھانے کے بجائے مریم نواز کی خوشنودی حاصل کرنے کو ترجیح دی۔ ایسے افسر کے لیے معطلی بھی کم ہے؛ اسے عہدے سے ہٹانا چاہیے تاکہ کم از کم یہ پیغام تو جائے کہ ریاستی منصب چاپلوسی، جھوٹ اور عوام سے دھوکا دہی کا لائسنس نہیں۔
نائب وزیر اعظم کا رشتہ دار غیر مُلکی عورت سے زیادتی کرے تو پرچہ درج ہوتا ہے۔۔۔کوئی عام شہری یہ حرکت کرے تو اسکا انکاؤنٹر کیا جاتا ہے۔
ایک صوبہ دو قانون
اگر تم میں غیرت ہوتی تو ان پہ بھی FIR نا درج کرتے انکاؤنٹر کرتے۔
بے شرم حکومت منافقت کی کوہ ہمالیہ۔