عمران خان نے ہمیشہ پاکستان کا دفاع کیا ہے! پاکستان کے اُصولوں، خودمختاری اور عوام کے حق کا دفاع!
وہ اسرائیل کے خلاف پاکستان کے اُصولی موقف کے لئے لڑا، دنیا کے سامنے حرمتِ رسول کا مقدمہ لڑا، وہ 1992 میں کرکٹ کے میدان میں لڑا، وہ شوکت خانم بنا کر غریب، بے بس لوگوں کے ساتھ مل کر کینسر سے لڑا، پرائی جنگ میں اپنے بے گناہ لوگوں کا ناحق خون بہہ جانے پر لڑا اُس نے کہا کہ اپنے لوگوں کو کسی کی جنگ کا ایندھن نہیں بننے دوں گا، وہ عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے والوں سے لڑا، وہ اپنے ملک کی سالمیت پر ضرب لگانے والوں سے لڑا، وہ آج بھی لڑ رہا ہے اپنے لوگوں کی آزادی کے لئے۔
پاکستانیو! جو ہمیشہ ملک و قوم کے دفاع کے لئے ہر محاذ پر لڑا، اب اُس کے دفاع کے لیے ہم لڑیں گے!
#عمران_خان_کیلئے_ڈٹ_جاؤ
#ستمبر27_کی_کال_عوام_تیار
مشترکہ اعلامیہ
پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی اور کور کمیٹی کا مشترکہ اجلاس
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی اور کور کمیٹی کے مشترکہ اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، بالخصوص خیبرپختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ، دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور جاری پُرامن لانگ مارچ کے حوالے سے تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
اجلاس میں متفقہ طور پر درج ذیل مؤقف اختیار کیا گیا:
1۔ گورنر راج یا ایمرجنسی کی مخالفت: خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ کو صوبے کے عوام کے جمہوری مینڈیٹ، منتخب اسمبلی اور آئینی و جمہوری حقوق پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہوئے اس کی بھرپور مخالفت کا اعلان کیا گیا۔ اجلاس نے واضح کیا کہ ایسا کوئی بھی اقدام صوبے میں سیاسی کشیدگی، عوامی بے چینی اور احساسِ محرومی میں مزید اضافے کا باعث بنے گا۔
2۔ ضم شدہ اضلاع کے حقوق: اجلاس نے واضح کیا کہ ضم شدہ قبائلی اضلاع کے عوام کے آئینی و جمہوری حقوق، امن، ترقی اور خوشحالی کا تحفظ ناگزیر ہے۔ ان علاقوں کے عوام کو قومی دھارے میں شامل کرنے کا بنیادی مقصد ان کے حقوق کا تحفظ اور احساسِ محرومی کا خاتمہ تھا۔ ایسے کسی بھی اقدام کی مخالفت کی جائے گی جو ان مقاصد کے منافی ہو اور عوام میں مزید بے چینی پیدا کرے۔
3۔ دہشت گردی کے خلاف واضح مؤقف: سیاسی کمیٹی اور کور کمیٹی نے دہشت گردی کی ہر شکل اور ہر مظہر کی غیر مشروط مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف دہشت گردوں اور دہشت گردی کے خلاف ہے۔ تاہم دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے اختیار کیے جانے والے طریقۂ کار میں صوبائی اسمبلی کی منظور شدہ قراردادوں، صوبے کی سیاسی و پارلیمانی جماعتوں کے متفقہ مؤقف اور عوامی نمائندوں کی مشاورت کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے، تاکہ عوامی اعتماد اور تعاون کے ساتھ مؤثر اور پائیدار اقدامات ممکن بنائے جا سکیں۔
4۔ جمہوری قوتوں کے مؤقف کا خیرمقدم: اجلاس نے خیبرپختونخوا میں ممکنہ گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت کرنے والی سیاسی جماعتوں، بالخصوص عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی کے جمہوری مؤقف کا خیرمقدم کیا۔ دونوں کمیٹیوں نے دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی اپیل کی کہ وہ آئین کی بالادستی، جمہوری روایات اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔
5۔ پُرامن لانگ مارچ کی مکمل حمایت اور اختلافات سے متعلق خبروں کی سختی سے تردید: پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی اور کور کمیٹی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں جاری پُرامن لانگ مارچ کی متفقہ طور پر بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ان کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ اجلاس نے واضح کیا کہ آئینی و قانونی حقوق، پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی رہائی اور دیگر جائز مطالبات کے حصول کے لیے پُرامن احتجاج پاکستان تحریک انصاف کا آئینی و جمہوری حق ہے۔
دونوں کمیٹیوں نے اجلاس کے دوران بعض میڈیا حلقوں کی جانب سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور پارٹی کمیٹیوں کے درمیان مبینہ اختلافات سے متعلق نشر کی جانے والی غیر مصدقہ اور حقائق کے منافی خبروں کی سختی سے تردید کی۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اپنی مصروفیات کے باعث اجلاس میں شریک ہی نہیں ہو سکے، لہٰذا ان کے ساتھ کسی اختلاف یا اختلافی گفتگو کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس نوعیت کی کوئی بحث اجلاس میں ہوئی اور نہ ہی کوئی اختلاف سامنے آیا۔ اس کے برعکس، سیاسی کمیٹی اور کور کمیٹی کے تمام اراکین نے متفقہ طور پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے جاری پُرامن لانگ مارچ کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔
6۔ آئندہ کا لائحۂ عمل: اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ سیاسی صورتحال، بالخصوص خیبرپختونخوا میں کسی غیر معمولی آئینی یا انتظامی اقدام کی صورت میں، سیاسی کمیٹی اور کور کمیٹی دوبارہ مشترکہ اجلاس منعقد کرکے آئندہ کا متفقہ لائحۂ عمل طے کریں گی۔
اجلاس نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف آئین کی بالادستی، عوامی مینڈیٹ کے احترام، جمہوری اداروں کے تحفظ اور پُرامن سیاسی جدوجہد کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
منجانب:
مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ
پاکستان تحریک انصاف
ابہیر گل کے فیصلے انصاف نہیں، ناانصافیوں پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
عمران خان کی بہنوں کو بنیادی انسانی حقوق اور ملاقات سے محروم رکھنا، پی ٹی آئی سوشل میڈیا کارکنوں کی درخواستیں مسترد کرنا اور ایک ریٹائرڈ جنرل کو تحفظ دینا یہ سب عدالتی غیر جانب داری پر سنگین سوالات ہیں۔
قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے، عہدہ یا طاقت کسی کو جواب دہی سے بالاتر نہیں کر سکتی۔
#ShameOnJudges
#صوابی_انٹرچینج_۱۱_اکتوبر
As protesters march towards Islamabad demanding Imran Khan’s release, the government appears more focused on suppressing people’s rights than addressing their demands.
#FreeImranKhan#صوابی_انٹرچینج_۱۱_اکتوبر
Thousands of Imran Khan supporters are on the way to Islamabad to demand his release from prison. Pakistan’s former PM has been in jail since 2023. The government says it will not allow the march to enter the capital.
قاضی فائز عیسیٰ کے دور میں پی ٹی آئی کو انتخابی نشان سے محروم کرنے کے فیصلے نے جماعت کو ایک غیر معمولی انتخابی صورتحال سے دوچار کر دیا۔ بلے کا نشان چھن گیا، تو امیدواروں کو ٹماٹر، بینگن، ٹرک، سائیکل اور نہ جانے کون کون سے انتخابی نشانات پر الیکشن لڑنا پڑا۔
مگر تمام تر پابندیوں، دباؤ، عدالتی ناانصافیوں اور منفی بیانیوں کے باوجود عوامی حمایت کو ختم نہیں کیا جا سکا۔ نشان چھینا جا سکتا ہے، راستے روکے جا سکتے ہیں، مگر عوام کے دلوں سے عمران خان کی محبت نہیں نکالی جا سکتی!
#صوابی_انٹرچینج_۱۱_اکتوبر
#اب_راج_کرےگی_خلق_خدا
فارم 47 کے مینڈیٹ چور وزیراعلیٰ کے 820 دن:
پنجاب میں 540 دن دفعہ 144 نافذ! یعنی حکومتی مدت کا تقریباً 66 فیصد پابندیوں، پولیس کی لاٹھیوں اور خوف کی حکمرانی کی نذر۔ کیا یہی ہے حکومتی رِٹ اور امن و امان؟
مہارانی صاحبہ! کرسی، پروٹوکول اور اقتدار کے نشے میں اتنا بھی نہ کھو جائیں کہ یہ بھول جائیں کہ یہ سب عارضی ہے۔ فارم 47 کی بیساکھیوں پر کھڑی حکومت کو عوامی مینڈیٹ چرانے کا حساب ایک دن ضرور دینا پڑے گا۔
#صوابی_انٹرچینج_۱۱_اکتوبر
#نااہل_حکمران_عوام_پریشان
خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی باتیں کرنے والے مردان کے یہ مناظر دیکھیں! یہ صرف ایک شہر ہے، جہاں عوام اپنی حکومت اور عمران خان سے محبت کا اظہار کر رہی ہے۔
اگر اسٹیبلشمنٹ نے جنرل یحییٰ کی تاریخ دہراتے ہوئے عوامی مینڈیٹ کو کچلنے کی کوشش کی تو عوام پُرامن مزاحمت کے ذریعے اپنے حقوق اور جمہوریت کا دفاع کریں گے۔
#صوابی_انٹرچینج_۱۱_اکتوبر
#اب_راج_کرےگی_خلق_خدا
آنکھوں میں خواب سجائے، دلوں میں جذبۂ ایمانی لیے، عمران کے سپاہی تیار ہیں!
منزل ایک ہے، حقیقی آزادی! عزم ایک ہے، عمران خان کی رہائی! مقصد ایک ہے، جمہوریت کی بحالی!
#صوابی_انٹرچینج_۱۱_اکتوبر#اب_راج_کرےگی_خلق_خدا
“آپ کے اوپر جبر کا، ظلم کا نظام ہے۔ جو آپ سے نوالہ چھین رہا ہے۔ آپ پر مہنگائی کا طوفان برپا کر رہا ہے۔ پورے پاکستان نے آنا ہے، کسی کا انتظار نہیں کرنا۔”
@salmanAraja
کا لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب
#اب_راج_کرےگی_خلق_خدا#صوابی_انٹرچینج_۱۱_اکتوبر ۔
Hope is such a wonderful thing!
May Allah reward all those who are risking their lives in this Long March for democracy, justice and rule of law.
#اب_راج_کرےگی_خلق_خدا#ReleaseImranKhan
وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا پشتو میں مرادن میں خطاب:
"یہ لوگ گورنر راج اور ایمرجنسی کی دھمکیاں لگا رہے ہیں، ہم ان کی دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں۔ اگر انہوں نے یہ کیا تو ہم صوابی سے سیدھا پشاور اور پشاور سے اسلام آباد کا رخ کریں گے۔"
#صوابی_انٹرچینج_۱۱_اکتوبر
#اب_راج_کرےگی_خلق_خدا
2021 میں ہمیں بتایا گیا تھا کہ فاٹا کے انضمام / merger کی واپسی پاکستان دشمن قوتوں اور TTP کا ایجنڈا ہے، اور انضمام واپس لینا انہی قوتوں کو خوش کرنے کے مترادف ہوگا۔
مراد سعید کی کتاب میں طالبان کی واپسی اور آبادکاری کی عسکری پالیسی کا تیسرا نکتہ پڑھیں، جس کے مطابق سابقہ فاٹا کو دوبارہ وفاق کے زیرِ انتظام لانا یا انضمام ختم کرنا منصوبے کا حصہ تھا۔
آج اگر ایمرجنسی کے نام پر سابقہ فاٹا کو وفاقی کنٹرول میں لینے کی کوشش ہو رہی ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا یہ اسی پالیسی پر عمل درآمد نہیں جس سے مسلسل انکار کیا جاتا رہا؟ اور جو کل دشمن اور TTP کا ایجنڈا تھا، وہ آج قومی مفاد کیسے بن گیا؟
#AsimLaw
ہر نام کے پیچھے ایک خاندان ہے جو اپنے پیاروں کی واپسی کا منتظر ہے، ایک زندگی ہے جو قید میں رکی ہوئی ہے، اور ایک سوال ہے جس کا جواب دینا ہوگا۔
جبری گمشدگیوں سے لے کر فوجی عدالتوں میں سزاؤں اور قانونی تقاضوں کے بغیر طویل حراست تک، ہر شہری کو قانون کے تحت انصاف اور اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔
انصاف سب کے لیے، آزادی ہر شہری کا حق، اور ہر سوال کا جواب دینا ہوگا!
سوال ہوگا، جواب ہوگا، اب شروع ایک نیا باب ہوگا!
#صوابی_انٹرچینج_۱۱_اکتوبر
#اب_راج_کرےگی_خلق_خدا
ایک تحریک اٹھی تھی اور پاکستان معرضِ وجود میں آیا تھا، اب ایک تحریک اٹھی ہے اور پاکستان حقیقی آزادی حاصل کرے گا!
ہم اپنا حق لینے آ رہے ہیں، اپنے کپتان کی رہائی، اپنے مینڈیٹ اور اپنے پاکستان کی آزادی کے لیے!
#اب_راج_کرےگی_خلق_خدا#صوابی_انٹرچینج_۱۱_اکتوبر
بخدمت @SohailAfridiISF، وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا (@KPChiefMinister):
جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے دفتر کے سامنے جاری بھوک ہڑتال کے ذریعے یورپ میں مقیم پاکستانی برادری دنیا کو ایک واضح پیغام دے رہی ہے: ہم پاکستان کے عوام کے حقِ انصاف، آزادی اور جمہوریت کی جدوجہد میں ان کے ساتھ ہیں۔ ہماری آواز کو نہ دبایا جا سکتا ہے اور نہ ہی ہمارے عزم کو کمزور کیا جا سکتا ہے۔
9 سے 11 اکتوبر تک مسلسل تین روزہ بھوک ہڑتال کا مقصد عالمی برادری کی توجہ پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کی جانب مبذول کرانا ہے۔ @ImranKhanPTI سمیت سیاسی قیدیوں کی اسیری، ان کے اہلِ خانہ کی مشکلات، اختلافِ رائے رکھنے والے افراد کی جبری گمشدگیاں، کشمیر میں احتجاج کرنے والوں کی ہلاکتیں اور عدلیہ کی آزادی پر قدغنیں ایسے معاملات ہیں جن پر عالمی ضمیر کو خاموش نہیں رہنا چاہیے۔
یہ احتجاج صرف تین دن کی بھوک ہڑتال نہیں، بلکہ انصاف، انسانی وقار اور بنیادی حقوق کے لیے ایک مسلسل جدوجہد ہے۔ بھوک ہڑتال ختم ہونے کے بعد بھی ہم جنیوا سے برسلز اور یورپ کے دیگر دارالحکومتوں تک اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے، تاکہ پاکستان میں جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کا احترام یقینی بنایا جا سکے۔
ہماری جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک انصاف کی فراہمی اور بنیادی حقوق کا تحفظ ہماری آواز کا جواب نہیں بن جاتا۔
@UN@UNHumanRights@UN_HRC@UNGeneva@UN_SPExperts@eu_eeas@kajakallas@Europarl_EN@EP_HumanRights@amnesty@hrw