حکومت اور کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ثالثی کے لیے مولانا فضل الرحمان کی بڑی پیشکش🚨
جے یو آئی کے صدر مولانا فضل الرحمان نے حکومت اور کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ثالثی کرنے کی پیشکش کر دی ہے۔ انہوں نے کالعدم کمیٹی سے مخلصانہ درخواست کی ہے کہ موجودہ حالات میں کشیدگی کو کم کرنے کی اشد ضرورت ہے، جس کے لیے مناسب وقت درکار ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے دوٹوک الفاظ میں مطالبہ کیا ہے کہ محرم الحرام کے مقدس مہینے کی حرمت اور تقدس کا پاس رکھتے ہوئے جاری دھرنا فوری طور پر ختم کیا جائے تاکہ مذاکرات کے لیے ایک سازگار اور پرامن ماحول پیدا ہو سکے۔
#Kashmir #JAAC
میں عوامی ایکشن کمیٹی کے اس اقدام کا خیرمقدم کرتا ہوں کہ انہوں نے مظفرآباد کی طرف کل کا مارچ موخر کیا ہے۔ کل تک ہم مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی باتیں کرتے تھے آج ہم کیا کررہے ہیں؟ خواجہ آصف نے جو باتیں کی ہیں وہ بطور وزیر دفاع نہیں کرنی چاہئیے تھیں۔ آپ نے لڑائی خواجہ آصف اور صلح اسحق ڈار کے حوالے کر رکھی ہے۔ مولانا فضل الرحمان
پاکستان کی سیاست میں مولانا کا کردار
امریکہ کی پاکستان میں نئے نامزد ہونے والے ڈپٹی چیف آف مشن برائے سیاسی امور ٹیری سٹیئرز گونزالیز نے مولانا فضل الرحمن کے در پر حاضری لگا دی
امریکہ کے پاکستان میں نامزد نئے ڈپٹی چیف آف مشن پاکستانی سیاستدانوں میں سب سے پہلے مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ
کیوں گئے
مولانا فضل الرحمن صاحب نہ حکومت میں ہیں نہ اپوزیشن لیڈر
پھر بھی حکومت اور اپوزیشن سمیت سفارتکار ان کے در پر حاضری لگاتے ہیں
ایسا کیوں ہے کہ پاکستان کی سیاست مولانا فضل الرحمن سے ادھوری ہے
اور ایسا کیوں کہ عہدہ نہ ہونے کے باوجود صدر مملکت، وزیراعظم، وزرا، اپوزیشن لیڈر اور تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین ان کے در پر حاضری لگاتے ہیں
الرحمان سے الوادعی ملاقات کی
ملاقات میں خطے میں امن وامان صورتحال، سیاسی سمیت دلچسپی کے باہمی امور پر گفتگو ہوئی
کشمیر ایکشن کمیٹی کے اکابرین کی درخواست پر میں نے کشمیر اور پاکستان کے بہترین مفاد کیلئے مصالحتی کردار ادا کرنے کی حامی بھری ہے۔ ثالثی کا کردار ادا کرنے کیلئے مجھے وقت اور مہلت درکار ہے تاکہ حکومت سے رابطہ کیا جاسکے اور مذاکرات کیلئے گفتگو کی جاسکے۔ کمیٹی اگلے کسی لائحۂ عمل کی طرف نہ جائے تاکہ مذاکرات کی طرف اور مسئلہ کے حل کی طرف پیش رفت کیلئے ہمیں راستہ مل سکے۔ مولانا فضل الرحمان
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان پارلیمنٹ میں خطاب جاری، پی ٹی وی پارلیمنٹ پر نشریات بند، نیشنل اسمبلی کی سرکاری لائیو بھی بندجبکہ قومی اسمبلی میں سکرینوں اور اسپیکر پر بھی آواز بند ، اجلاس میں وزیراعظم بھی شریک ہے
مولانا فضل الرحمٰن کا آزادکشمیر کی صورتحال پر ثالثی کا اعلان۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کئ قیادت نے مجھ سے رابطہ کرکے ثالثی کا کہا ہے۔ محرم الحرام کئ وجہ سے میں نے کمیٹی سے دھرنا ختم کرنے کا کہا ہے تاکہ ثالثی کا عمل شروع کر سکوں۔۔
مولانا نے بہترین سیاسی تدبر کے مطابق اچھا فیصلہ کیا ہے
ہو سکتا ہے یہ میری کوتاہ نظری ہو یا محض اتفاق ہو لیکن ایمل ولی خان صاحب کو میں نے جب بھی گفتگو کرتے دیکھا، جلال کی ایک ہی جیسی کیفیت میں دیکھا۔ اگر تو انہوں نے بڑے ہو کر پاکستان تحریک انصاف کا مرکزی رہنما بننا ہے تو پھر تو بالکل ٹھیک ہے، وہاں اسی رویے اور اسی طرز گفتگو کو دلاوری کہا جاتا ہے اور اسی کی پزیرائی ہوتی ہے۔ لیکن اگر انہوں نے ولی باغ کی سیاسی روایات کی وراثت سنبھالنی ہے تو پھر انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ رویہ انہیں بالکل بھی نہیں جچ رہا۔
ولی باغ کی سیاسی میراث کو لے کر چلنا ہے تو مزاج کی تہذیب کرنا ہوگی اور اس کی ایک ہی صورت ہے جو مجھے نظر آ رہی ہے۔ وہ صورت یہ ہے کہ ایمل ولی خان صاحب کبھی کبھار وقت نکال کر مولانا فضل الرحمن کے ہاں آیا جایا کریں اور ان سے سیکھا کریں ۔ روایتی سیاست کا ایک ہی مکتب باقی ہے جس کا نام ہے مولانا فضل الرحمن۔
مولانا کے مکتب سے رجوع کرنے کی تین بڑی وجوہات ہیں۔
آج کا کالم
لنک 👇
https://t.co/KsK7cJAtvM
ہمارے صدر صاحب کہتے ہیں کہ معاہدہ کرنا کیا قرآن و سنت کی بات ہے؟ آپ نے اپنے لیے تاحیات استثنیٰ لے لی۔ زرداری صاحب ہم کب آپ پر مقدمہ کرنا چاہتے ہیں لیکن کل کو صدارت کے بعد تم نے کسی جو قتل کر دیا تو تمہیں کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہو گا، مولانا فضل الرحمان
اگر اس ملک کو چلانا ہے شائستگی کے ساتھ چلانا ہے، آئین اور قانون کی روشنی میں چلانا ہے تو پھر جمعیۃ علماء اسلام کا راستہ کھولنا ہوگا، ہمیں مجبور مت کرو پھر، اگر تو گھی آرام سے ڈبے سے باہر آئے تو ٹھیک ورنہ پھر ٹیڑھی انگلی سے نکالا جائے گا۔ پاکستان میں جو سیاست ہو رہی ہے یہ سیاست آئین کی سیاست نہیں ہے، دلیل کی سیاست نہیں ہے، یہ قوت کی سیاست ہے، او معقول طریقے سے ہمارے ساتھ بات کرو، ہمیں مجبور مت کرو، آج اگر ہم نے آواز دی پورا پاکستان اول تا آخر اسلام آباد کی طرف چلنا شروع کر دے گا، ہمارے صوبے میں خون بہہ رہا ہے، بلوچستان میں خون بہہ رہا ہے اور ابھی کشمیر کے اندر خون بہانا شروع کر دیا ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے چارٹر آف ڈیمانڈ ڈیمانڈ پیش کیا ہے، سادہ قسم کی باتیں ہیں کوئی ایسی مشکل بات نہیں کہ اس کے لیے گولی چلائی جائے بلکہ بیٹھ کر بات کی جا سکتی ہے اور مسئلہ کو شائستگی کے ساتھ حل کیا جا سکتا ہے۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا چارسدہ میں خطاب
#شیخ_ادریس_کانفرنس_چارسدہ
ان حکمرانوں سے جب کہا جائے کہ تم ملک نہیں چلا سکتے، تم انسانی حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتےمیں نے آج ملکی معیشت پر بات کرنی تھی لیکن کیا وجہ ہے آج ہر پاکستانی امن و امان کی بات کررہا ہے، مولانا فضل الرحمان
چارسدہ میں جمعیت علمائے اسلام کی شیخ ادریس شہید کانفرنس نے خیبر پختونخوا کی سیاسی تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں اپنا نام درج کروا لیا۔ کانفرنس میں عوام کی غیر معمولی شرکت نے صوبے کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال پر نئی بحث چھیڑ دی ۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران عام تاثر یہ تھا کہ تحریک انصاف کی مقبولیت کی لہر نے عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام جیسی روایتی سیاسی جماعتوں کو صوبائی سیاست کے حاشیے پر دھکیل دیا اور اس سیاسی خلا میں پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) جیسی مرکز سے نسبتاً فاصلے پر کھڑی تحریکوں نے جگہ بنائی۔
تاہم حالیہ سیاسی منظرنامے میں تحریک انصاف کی مقبولیت میں آنے والی کمی کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلا کو پُر کرنے میں جمعیت علمائے اسلام نمایاں ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر ماضی میں ضم شدہ قبائلی اضلاع میں جمعیت کو زیادہ سیاسی رسائی اور سرگرمیوں کے مواقع میسر آتے تو ممکن ہے کہ وہاں پی ٹی ایم جیسی مرکز گریز تحریکوں کے لیے سیاسی جگہ اتنی وسیع نہ بنتی۔
چارسدہ کانفرنس کو اسی تناظر میں جمعیت علمائے اسلام کی بڑھتی ہوئی عوامی پذیرائی اور صوبے میں اس کے سیاسی اثر و رسوخ کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
@juipakofficial@PTIKPOfficial@ANPMarkaz@pmln_org@MediaCellPPP