Priorities...
The Chief Minister of Indian Punjab built a thermal power plant worth 11 billion and managed to provide free electricity to 80% of households in the province.
The Chief Minister of Pakistan's Punjab bought an 11 billion jet so she could travel by air to 80% of the province.
Two leaders. Two priorities.
#مزاحمت_سے_ہوگی_خان_کی_رہائی
یہ منظر دیکھ کر کوئی وحشی درندہ ہی ہو جس کے دل میں انسانی ہمدردی نہ جاگے
ایک لڑکا اپنی ماں کی قبر سے لپٹ کر رو رہا ہے کہ اسے کتنا عرصہ ایک جھوٹے سیاسی کیس میں قید رکھا۔ وہ اپنی ماں سے مل ہی نہ سکا اور ماں دنیا سے چلی گئیں
یا اللّه۔ ظلم کا بدلہ آپ کے ذمے۔
عسکری بجٹ کی حرامزدگیاں ملاحظہ ہوں:
ہیومن رائٹس ڈویژن کے بجٹ میں 75 فیصد کمی کردی گئی۔
ڈیفنس ڈویژن کے بجٹ میں 110 فیصد اضافہ کردیا گیا۔
ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے بجٹ میں 36 فیصد کمی کردی گئی۔
وفاقی کیبنٹ ڈویژن کے بجٹ میں 300 فیصد اضافہ کردیا گیا۔
انڈسٹریز اور پروڈکشن ڈویژن کے بجٹ میں 55 فیصد کمی کردی گئی۔
وزارت داخلہ (سالے کی وزارت) کے بجٹ میں 50 فیصد اضافہ کردیا گیا۔
نیشنل فوڈ سیکیورٹی ڈویژن کے بجٹ میں 84 فیصد کمی کردی گئی۔
ٹاؤٹ عدلیہ کے بجٹ میں 105 فیصد اضافہ کردیا گیا۔
نیشنل ہیلتھ سروسز ڈویژن کے بجٹ میں 40 فیصد کمی کردی گئی۔
کلچر ڈویژن (ناچ گانے کی وزارت) کے بجٹ میں 60 فیصد اضافہ کردیا گیا۔
اٹامک انرجی کمیشن کے بجٹ میں 99 اعشاریہ 7 فیصد کٹوتی کردی گئی۔
میڈیا کے بجٹ میں پچاس فیصد اضافہ کردیا گیا۔
انسداد منشیات کے ڈویژن کا بجٹ صفر کردیا گیا۔
عسکری سرمایہ کاری کونسل کے بجٹ میں 503 ملین کا اضافہ کردیا گیا۔
نیوکلئیر ریگولیٹری اتھارٹی کا بجٹ ختم کردیا گیا۔
پارلیمانی افئیرز ڈویژن کو 2500 ملین دے دیئے گئے۔
اسی لئے عمران خان ان جرنیلوں کو برداشت نہیں ہوتا تھا کیونکہ اس کے دور میں ان حرامزدگیوں کی اجازت نہیں دی گئی۔ اسی لئے جاناں پانڈی اور سینما کی ٹکٹ بلیک کرنے والوں کی نسلوں کو اقتدار میں لایا گیا!!!
گرمی کی شدید لہر نے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔لیکن اس لہر اور اس کے خطرناک اثرات پر بحث، تحقیق اور گفتگو برطانیہ اور امریکہ میں ہو رہی ہے۔ امپیریل کالج لندن اور یونیورسٹی آف ہوائی میں محققین بیٹھے سوچ رہے ہیں کہ موسم کی یہ انگڑائی پاکستان کا کیا حشر کر سکتی ہے لیکن پاکستان کی کسی یونیورسٹی کے لیے یہ سرے سے کوئی موضوع ہی نہیں ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں بیٹھا ڈاکٹر رابرٹ روڈ دہائی دے رہا ہے کہ موسموں کے اس آتش فشاں کو سنجیدگی سے لیجئے ورنہ ہزاروں لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے لیکن پاکستان کے اہلِ دانش سیاست کی دلدل میں غرق ہوئے پڑے ہیں۔
ندی خشک پڑی ہے اور چشمے کا پانی نڈھال ہے۔ مارگلہ کے جنگل میں آج درجہ حرارت 42 کو چھو رہا ہے۔ عید پر بارش ہوئی تو درجہ حرارت 22 تک آ گیا تھا لیکن عید سے پہلے اپریل کے آخری دنوں میں بھی یہ 40 سے تجاوز کر گیا تھا۔ مارگلہ میں چیت اور وساکھ کے دنوں میں ایسی گرمی کبھی نہیں پڑی۔ یہ جیٹھ ہاڑ کا درجہ حرارت ہے جو چیت اور وساکھ میں آ گیا ہے۔ موسموں کی یہ تبدیلی بہت خطرناک ہے لیکن یہاں کسی کو پروا نہیں۔ اس معاشرے اور اس کے اہلِ فکر و دانش کو سیاست لاحق ہو چکی اور ان کے لیے سیاست کے علاووہ کسی موضوع پر بات کرنا ممکن نہیں رہا۔
موسموں کی اس تبدیلی سے صرف مارگلہ متاثر نہیں ہو گا، پورے ملک پر اس کے اثرات پڑیں گے۔ مارگلہ میں تو درجنوں چشمے ہیں اور ندیاں۔ کچھ رواں رہتی ہیں، کچھ موسموں کے ساتھ سوکھتی اور بہتی ہیں لیکن جنگل کے پرندوں اور جانوروں کے لیے یہ کافی ہیں۔ سوال تو انسان کا ہے، انسان کا کیا بنے گا؟ افسوس کہ انسان کے پاس اس سوال پر غور کرنے کا وقت نہیں۔
ابلاغ کی دنیا ان کے ہاتھ میں ہے جو سنجیدہ اور حقیقی موضوعات کا نہ ذوق رکھتے ہیں نہ اس پر گفتگو کی قدرت۔ نیم خواندگی کا آزار سماج کو لپیٹ میں لے چکا ہے۔ سرِ شام ٹی وی اسکرینوں پر جو قومی بیانیہ ترتیب پاتا ہے اس کی سطحیت اور غیر سنجیدگی سے خوف آنے لگا ہے۔ نوبت یہ ہے کہ دنیا چیخ چیخ کر ہمیں بتا رہی ہے کہ آپ ماحولیاتی تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں لیکن ہمارا دانشور صبح سے شام تک یہی گنتی کر رہا ہوتا ہے کہ کس قائدِ انقلاب کے جلسے میں کتنے لاکھ لوگوں نے شرکت کی۔ یہی حال سوشل میڈیا کا ہے۔ موضوعات کا افلاس آسیب بن چکا ہے۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن ماحولیات کی تباہی سے یکسر بے نیاز۔ گلی کوچوں سے پارلیمان تک یہ سوال کہیں زیرِ بحث ہی نہیں کہ درجہ حرارت بڑھنے کا مطلب کیا ہے؟زیرِ زمین پانی کی سطح جس تیزی سے گر رہی ہے، خوفناک ہے۔ چند سال پہلے اسلام آباد میں 70 یا 80 فٹ پر پانی مل جاتا تھا لیکن اب تین سے چار سو فٹ گہرے بور کرائیں تو بمشکل اتنا پانی دستیاب ہے کہ پانچ سے دس منٹ موٹر چل سکتی ہے۔ موسم کی حدت کا عالم یہی رہا تو پانچ دس سال بعد زیرِ زمین پانی چھ سات سو فٹ گہرائی میں بھی مل جائے تو غنیمت ہو گا۔
اسلام آباد دارالحکومت ہے لیکن پانی کا بحران اسے لپیٹ میں لے چکا ہے۔ ایک ٹینکر اب دو ہزار کا ملتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ ٹینکر بھی تو کنوؤں سے پانی بھر لاتے ہیں، زیرِ زمین پانی کی سطح یونہی نیچے جاتی رہی تو ٹینکرز کہاں سے پانی لائیں گے؟ ایک آدھ سیکٹر کو چھوڑ کر سارا شہر اس مصیبت سے دوچار ہے لیکن اپناکمال دیکھیے کہ شہر میں کسی محفل کا یہ موضوع نہیں ہے۔ نہ اہلِ سیاست کا، نہ اہلِ مذہب کا نہ اہلِ صحافت کا۔ سب مزے میں ہیں۔
یہ بحران صرف اسلام آباد کا نہیں، پورے ملک کا ہے۔ بس یہ ہے کہ کسی کی باری آج آ رہی ہے کسی کی کل آئے گی۔ جب فصلوں کے لیے پانی نہیں ہو گا اور فوڈ سیکیورٹی کے مسائل کھڑے ہو جائیں گے پھر پتا چلے گا کہ آتش فشاں پر بیٹھ کر بغلیں بجانے والوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔
جنگل کٹ رہے ہیں، درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، سمندر کی سطح بلند ہو رہی ہے (یعنی کراچی کے سر پر خطرہ منڈلا رہا ہے)، گلیشیئر پگھل رہے ہیں اور سیلابوں کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔ ابھی گلگت بلتستان میں گلیشئر کے پگھلنے سے حسن آباد پل تباہ ہوا ہے۔ کئی گھر اس کی لپیٹ میں آئے ہیں۔ خود اس پل کی تزویراتی اہمیت تھی کہ یہ چین اور پاکستان کو ملا رہا تھا۔ پل کی تزویراتی اہمیت کی نسبت سے یہ حادثہ ہمارے ہاں زیر بحث آ جائے تو وہ الگ بات ہے لیکن ماحولیاتی چیلنج کی سنگینی کو ہم آج بھی سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اخبارات، ٹی وی چینلز، سوشل میڈیا، پریس ٹاک، جلسہ عام۔۔۔ کہیں اس موضوع پر کوئی بات ہوئی ہو تو بتائیے۔
مارگلہ کی ندیاں بھی اجنبی ہوتی جا رہی ہیں۔ ابھی چند سال پہلے درہ جنگلاں کی ندی ساون بھادوں میں یوں رواں ہوئی کہ چار ماہ جوبن سے بہتی رہی۔ اب دو سال سے خشک پڑی ہے۔ ساون اس طرح برسا ہی نہیں کہ ندی رواں ہوتی۔ رملی کی ندی بہہ تو رہی ہے مگر….
🏥 “شفاء ہسپتال اسلام آباد” — ایک سرکاری زمین سے اربوں کے کاروبار تک کا سفر!
کہانی ایک “ٹرسٹ” سے شروع ہوئی…
مقصد بتایا گیا: فلاحِ انسانیت، سہارا ان کا جو صحت کے اخراجات نہیں اٹھا سکتے۔
اور حکومت نے بھی خیر سمجھ کر، دل بڑا کر کے، اسلام آباد میں قیمتی زمین I-8 کے لیے مختص جگہ سے مفت دے دی — کہ یہاں ایک ایسا اسپتال بنے گا جو مستحقین کے لیے “امید” کا دروازہ ہو گا۔
لیکن افسوس…!
شفاء ہسپتال آج “امید” نہیں، ایک ظلم کی صنعت بن چکا ہے۔
📍 فری زمین… لیکن فری سروس نہیں!
حکومت کی دی گئی زمین پر قائم یہ اسپتال آج لاکھوں روپے کے بل تھما رہا ہے۔
•ایک نارمل سرجری لاکھوں میں
•بیڈ چارجز آسمان پر
•غریب مریض دروازے سے ہی لوٹائے جاتے ہیں
یہ کون سا ٹرسٹ ہے؟
جس میں انسانیت کم، اور “کاروبار” زیادہ ہے؟
💰 عربوں کے خواب، ٹرسٹ کے نام پر!
یہ تصویر کسی ڈاکو کی نہیں بلکہ ڈاکوؤں کے علاقے پہ قبضہ کر کے آپریشن کی نگرانی کرنے والے شخص کی ھے جو کچے کے ڈاکوؤں کے ھاتھوں اپنے جواں سال فرزند شہادت کے بعد خدائی قہر بن کر گھوٹکی کے کچے میں ڈاکوؤں کے خلاف برسر پیکار ھے یہ شخص بلوچستان کی عظیم دھرتی سوئی ڈیرہ بگٹی سے تعلق رکھتا ھے کون ھے یہ شخص سب حیران ھوں گے کہ جہاں سندھ پنجاب بلوچستان کی پولیس ناکام ھوئی وھاں یہ شخص کیسے کامیاب ھو رھا ھے یہ ھے چیف آف کلپر وڈیرہ جلال خان عرف وڈیرہ جلالان کلپر جو آج اپنے سینکڑوں جانثار ساتھوں کے ساتھ پولیس اور رینجرز کی مدد کے لیے رضاکارانہ طور اس جنگ میں شامل ھوا بیٹے کی شہادت اور ھزاروں معصوموں کے قاتلوں کے لیے خدا کا قہر بنا ھوا ھے کچے کے ڈاکو جنکی دھشت پورے پاکستان میں پھیلی ھوئی تھی آج جلالان کلپر کچے کے ڈاکوؤں کے لیے دھشت کی علامت بنا ھوا ھے ڈاکو آئی جی سندھ سے رو رو کر اپیل کر رھے ھیں کہ ھم سرینڈر کرنے کو تیار ھیں ھمیں محفوظ طریقے سے جلالان کلپر کے قہر سے بچایا جائے کئی انعام یافتہ ڈاکوؤں کو مردار کر دیا ھے جلالان کے جانثاروں نے پورے پاکستان میں لوگ ھاتھ اٹھا اٹھا کر جلالان کلپر کے لیے دعا کر رھے ھیں سلامتی ھو
بریکنگ نیوز
فارم 45 کی تفصیلات کے مطابق، قومی اسمبلی میں PTI نے 179 نشستیں حاصل کیں
پنجاب 141 میں سے 106
سندھ 61 میں سے 24
خیبر پختونخوا 44 میں سے 42
بلوچستان 16 میں سے 4
اسلام آباد 3 میں سے 3
کل نشستیں 179
جب 2019 میں انڈیا نے پاکستان پر حملے کی دھمکی دی تو وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا ہم retaliate کرنے کا سوچیں گے نہیں ہم retaliate کریں گے۔
اگلی صبح DGISP نے فخر سے پریس کانفرنس کرکے اعلان کیا، ہمیں وزیراعظم نے آرڈر دیا تھا اور ہم نے انڈیا کو منہ توڑ جواب دے دیا ہے
انٹرا پارٹی فیصلہ سازی، تحریک انصاف کے آفیشل مؤقف کی منظوری و اشاعت اور قیادت کے کردار کے حوالے سے تحریک انصاف کا مؤقف:
پاکستان تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی، منظم اور مقبول ترین جمہوری جماعت ہے،
بانی چئیرمین عمران خان کے وژن کی روشنی میں تمام فیصلے وسیع تر مشاورت اور مکمل اتفاق رائے سے کیے جاتے ہیں،
چئیرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان کو بانی چئیرمین عمران خان، کور کمیٹی اور ہر سطح کے کارکنان اور قائدین کا مکمل اعتماد حاصل ہے،
بعض اراکین کی ذاتی آراء کی بنیاد پر جماعت میں تقسیم کے تاثر کی ترویج کی کوششیں نہایت قابلِ مذمت ہیں،
تحریک انصاف مکمل طور پر یکجا اور متحد ہو کر عام انتخابات کی جانب بڑھ رہی ہے،
کڑی محنت اور گہرے غور وخوض سے خیبر پختونخوا میں ٹکٹوں کی تقسیم کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں امیدواروں کے تعین کا عمل کل شام تک مکمل کر لیا جائے گا،
پوری قوم 8 فروری کو تاریخی انداز میں ووٹ ڈالنے نکلے گی اور عمران خان کے نامزد کردہ امیدواروں کو منتخب کر کے ملک سے لاقانونیت، دستور سے انحراف اور انصاف کے قتل کی روایت کے خاتمے کا اہتمام کرے گی، ترجمان تحریک انصاف
زرتاج گل کا اہم پیغام 🚨🚨🚨
ڈیرہ غازی خان کا ار او کا دفتر اتنی بڑی نفری سے بھرا پڑا ہے صرف اور صرف مجھے اغوا کرنے کے لیے
پاکستانیوں آپ کی مائیں بہنیں پوری کوشش کر رہی ہیں اس حقیقی ازادی میں ان کا ساتھ دیجیے
میں حلقےمیں پھررہاہوں
اورمجھے"استکام پارٹی"کاایک بھی ووٹ نظرنہیں آیا🤣
پورےپنجاب میں"پپلزپارٹی"کابھی ایک ووٹ نہیں ہے۔
ہمارےنوجوانوں کےدماغوں کےساتھ پتہ نہیں عمران خان نےکیاکردیاہے،پتہ نہیں"جادوکردیا"ہے۔
میں اس حقیقت کوتسلیم کرتاہوں۔
راجہ ریاض
😜🤣
ابھی توپارٹی شروع ہوئ ہے🔥
پی سی بی کو شرم آنی چاہیئے جو عمران خان کا نام لینے سے بھی کتراتے ہیں اور یہ ایک انڈین اینکر وکرانت گپتا ہے جو خان کی شان میں قصیدے پڑھتے نہیں تھک رہا!
#ShameOnPCB#عمران_خان_تو_آئے_گا@TheRealPCB