اسلام آباد سے لاہور: الیکٹرک گاڑی کا سفر جو ایک ڈراؤنا خواب بن گیا
اتوار کی گرم صبح تھی۔ گھڑی نے 10:30 بجائے ہی تھے ۔ ہم پورے اعتماد کے ساتھ اپنی الیکٹرک گاڑی میں اسلام آباد سے لاہور کے لیے روانہ ہوئے۔ راستہ جانا پہچانا تھا، گاڑی مکمل تیار تھی، اور منصوبہ بھی سادہ تھا: بھیرہ پہنچ کر بیٹری چارج کریں گے اور سفر آرام سے جاری رکھیں گے۔
مگر موٹروے پر دوڑتی گاڑی کے ساتھ ہمیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ اصل امتحان ابھی شرو�� ہونا باقی ہے۔
بھیرہ پہنچے تو دل ک�� ایک دھچکا لگا۔
ایک چارجنگ سٹیشن پر پہلا چارجنگ یونٹ دیکھا... بند۔
دوسرا دیکھا... وہ بھی خراب۔
تیسرا... وہ بھی کام نہیں کر رہا تھا۔
چوتھا... وہ بھی خاموش ۔۔ ۔
چار کے چار چارجر ناکارہ!
اب گاڑی کی بیٹری کم ہو رہی تھی اور پریشانی بڑھ رہی تھی۔ ہمارے پاس انتظار کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ امید کی آخری کرن لے کر ہم اگلے چارجنگ اسٹیشن، پنڈی بھٹیاں کی طرف روانہ ہوئے۔
راستے بھر ذہن میں ایک ہی سوال گردش کرتا رہا
"اگر وہاں بھی چارجنگ نہ ملی تو؟"
پنڈی بھٹیاں پہنچے تو صورتحال نے ایک اور جھٹکا دیا۔
چارجنگ اسٹیشن موجود تھا...
لیکن بجلی نہیں تھی۔
اب ہم ایک ایسی الیکٹرک گاڑی کے ساتھ ��ھڑے تھے جسے توانائی درکار تھی، مگر توانائی فراہم کرنے والا نظام خود اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔
وقت گزرتا گیا۔
گرمی شدت اختیار کرتی رہی۔
اور انتظار لمبا ہوتا گیا۔
11:40
بجے بھی صورتحال وہی تھی۔
ہم اب بھی پنڈی بھٹیاں میں کھڑے تھے۔
چارجر خاموش۔
بجلی غائب۔
اور اگلا چارجنگ اسٹیشن ابھی بہت دور۔
اس لمحے یہ صرف ایک مسافر کی پریشانی نہیں رہی تھی، بلکہ پاکستان کے لاکھوں لوگوں کی روزمرہ حقیقت بن چکی تھی؛
وہ حقیقت جس میں شدید گرمی کے باوجود گھنٹوں بجلی غائب رہتی ہے، منصوبے رک جاتے ہیں، سفر تھم جاتے ہیں، اور جدید ٹیکنالوجی بھی بنیادی سہولتوں کی محتاج بن جاتی ہے۔
یہ صرف اسلام آباد سے لاہور کا سفر نہیں تھا۔
یہ ایک ایسا سفر تھا جس نے یاد دلایا کہ مستقبل کی گاڑیاں خرید لینا کافی نہیں، مستقبل کا انفراسٹرکچر بھی درکار ہوتا ہے۔
اور اس دن موٹروے پر سب سے بڑی تشویش بیٹری کی کم ہوتی ہوئی طاقت نہیں تھی...
بلکہ یہ سوال تھا:
"کیا اگلے چارجنگ اسٹیشن تک پہنچنے سے پہلے بجلی واپس آ جائے گی؟"
اس لیے وہ تمام لوگ جو الیکٹرک گاڑی خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں، اس حقیقت کو بھی ذہن میں رکھیں۔ روزمرہ اور مقامی استعمال کے لیے الیکٹرک گاڑیاں ایک ��ہترین اور معاشی انتخاب ہو سکتی ہیں، لیکن طویل بین الاضلاعی سفر کے معاملے میں پاکستان کا چارجنگ انفراسٹرکچر ابھی مکمل طور پر قابلِ اعتماد نہیں۔ جب چارجر خراب ہوں، بجلی دستیاب نہ ہو، یا اگلا چارجنگ اسٹیشن بہت دور ہو، تو ایک معمول کا سفر بھی غیر یقینی صورتحال میں بدل سکتا ہے۔ شاید مستقبل قریب میں حالات بہتر ہو جائیں، مگر فی الحال لمبے سفر کی منصوبہ بندی انتہائی احتیاط اور متبادل انتظامات کے ساتھ کرنا ضروری ہے
ایک سچی کہانی سینئر صحافی سجاد ترکزئی کی وال سے
#EVVehicleChargingIssue
@SajjadTarakzai @GoharMe @DrMusadikMalik @ClimateChangePK @CathayPak @Pak_MoIP
With the greatest humility, I am pleased to announce that the Islamic Republic of Iran and the United States of America, along with their allies, have agreed to an immediate ceasefire everywhere including Lebanon and elsewhere, EFFECTIVE IMMEDIATELY.
I warmly welcome the sagacious gesture and extend deepest gratitude to the leadership of both the countries and invite their delegations to Islamabad on Friday, 10th April 2026, to further negotiate for a conclusive agreement to settle all disputes.
Both parties have displayed remarkable wisdom and understanding and have remained constructively engaged in furthering the cause of peace and stability. We earnestly hope, that the ‘Islamabad Talks’ succeed in achieving sustainable peace and wish to share more good news in coming days!
@realDonaldTrump@JDVance@SecRubio@SteveWitkoff@SEPeaceMissions@drpezeshkian@mb_ghalibaf@araghchi
@KomailMuavia313@HarmeetSinghPk یہ تو عجیب قسم کی عزت کر رہے ہیں آپ۔
ٹویٹ ڈیلیٹ کر کہ انباکس میں سیدھی سیدھی دھمکیاں۔
مسلم نان مسلم سب برابر کے شہری ہیں۔
کسی خبر سے اختلاف ہے آپ کو تو سب کے سامنے تنقید بھی کریں اور چاہیں تو قانونی چارہ جوئی بھی۔
روزانہ بیسیوں صحافی پراپیگنڈا کر رہے ہوتے ہیں فیک نیوز بھی۔
I have NEVER deleted tweets but today I am deleting all tweets that I made without verifying the claims of our Indian media channels.
I feel sad not because of tweeting but more so because I (wrongly) believed what I saw!
@fawadchaudhry جہاد کا مطالبہ مسلم افواج سے ہے اور بالکل درست ہے۔
ہم سے ہی کروانا ہے تو ہمیں فوج میں بھارتی کریں اور سب سے پہلا دستہ ہمارا ہی روانہ کریں۔
تاکہ اس جہاد کے پیچھے ریاست ہو نہ کہ نجی تنظیمیں جنہیں پہلے اس��یبلشمنٹ مجاہد اور کام ہو جانے کے بعد دہشت گرد قرار دیتی ہے۔
Ladies and gentleman, #Gaza is becoming a graveyard of children. We need an urgent ceasefire there because a record number of journalists and @UN workers have been killed there in last four weeks. @antonioguterres
ذوالفقار علی بھٹو نے 65 میں فاطمہ جناح کا مینڈیٹ نہیں مانا، ملک توڑ دیا مگر 70 میں ڈھاکہ کا مینڈیٹ تسلیم نہیں کیا۔ پیپلزپارٹی غیرآئینی طریقے سے اپنا میئر لانا چاہتی ہے۔ کامیاب نہیں ہوگی۔ حافظ نعیم الرحمن