ڈاکٹر اسرار احمد پر اس خطاب کے دوران عجب وجدانی کیفیت طاری تھی۔ یہ زندگی کا آخری خطاب ثابت ہوا۔ خطاب کا موضوع بھی الہامی ثابت ہوا۔ فرمانِ رسولﷺ ہے:
اتَّقُوا فِرَاسَةَ الْمُؤْمِنِ؛ فَإِنَّهُ يَنْظُرُ بِنُورِ اللَّه (طبرانی)
مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔
نیو دہلی کے ایک ڈاکٹر نے گھٹنوں اور جوڑوں کے درد میں مبتلا ہزاروں مریضوں کا کامیاب علاج کیا ہے۔
یہ کلپ ضرور دیکھیں، پھر خود بھی آزمائیں یا ان لوگوں تک ضرور پہنچائیں جو گھٹنوں یا کمر کے درد سے پریشان ہیں۔
امریکی ریاست جورجیا میں معمول کی پرواز کے دوران مسافر طیارے کا انجن اچانک فیل ہو گیا، جس پر پائلٹ نے کنٹرول ٹاور کو آخری جذباتی پیغام بھیجنے کے بعد اپنی جان پر کھیل کر جہاز کا رخ مصروف ہائی وے کی طرف موڑ دیا۔
نیچے چلتی گاڑیوں کے ڈرائیورز ابھی کچھ سمجھ بھی نہ پائے تھے کہ تیز رفتار طیارہ سڑک پر نمودار ہوا اور تین گاڑیوں کو کچلتا ہوا شدید آگ کی لپیٹ میں آ گیا، لیکن پائلٹ کی ناقابل یقین مہارت کی بدولت تمام مسافر اور ڈرائیورز اس ہولناک حادثے میں معجزاتی طور پر زندہ بچ گئے۔
غزہ کے بچوں کی زندگی آج بھی کربلا جیسی ہے ایران امریکہ جنگ نے غزہ سے دنیا کی توجہ ہٹا دی ہے آپ سب جب بھی وقت ملے غزہ کا مسلہ اٹھاتے رہا کریں تاکہ ایلگورتھم میں فیڈ میں یہ چلتا رہے 🥲🥲🥲
پہلے تنخواہوں میں اضافے کرواتے ہیں، پھر مفت گھر، بجلی، گیس، ٹرانسوپورٹ، فون اور دو دو گھریلو ملازمین وصولتے ہیں، پھر سپیشل بونس ایلوکیٹ ہوتے ہیں، ریٹائیر ہو جائیں تو تاحیات پینشن، پھر بھی کسر باقی رہ جائے تو مصنوعی بحران تخلیق کر کے گندم اور چینی کے نام پہ تُن کے چونا لگاتے ہیں۔
سالہا سال سے یہی ایک فارمولہ ہے اور تقریباً ہر حکومت اس میں برابر کی مجرم بنتی آ رہی ہے۔
تحریک انصاف کے پیڈ یوٹیوبر جو اس وقت بیرون ملک بھاگے ہوئے ہیں سید مزمل شاہ ان کی اوقات بتاتے ہوئے
جو سبھی کے سبھی فوج کی نرسری میں پلے اور اج جمہوریت کے چیمپین بنے ہوئے ہیں
✨:نیک ہونے میں اور خُود کو نیک سمجھنے میں بڑا فرق ہوتا ہے ۔۔
جب آپ نیک ہوجاتے ہیں تو آپ کو اپنے گناہ نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں۔۔
اور جب آپ خود کو نیک سمجھنے لگتے ہیں تو آپ کو بس دوسروں کے گناہ نظر آتے ہیں۔۔*⏤͟͟͞͞★͙*
اس لیے کہتے ہیں کے بس اتنا نیک ہوجانا کہ تمہیں اپنے گناہ نظر آنے شروع ہوجائیں؛ لیکن اتنا نیک مت بن جانا کے بس دوسروں کے ہی گناہ نظر آئیں۔💛✨*⏤͟͟͞͞★͙*
اب گلزاری لال اور اس دور کے تمام 'ریٹارڈ شدگان' کی پینشن اور حاضر سروسان کی تنخواہیں کاٹ کر نسلہ ٹاور کا نقصان پورا کیا جائے ورنہ اس فیصلہ کی بتی بنا لی جائے۔۔۔
جن ججوں نے کیس سننا تھا خود کیس بنا کر دے رہے تھے اور ان سے کیس بنوانے والا باندر مونہا آج خود کو جمہوریت کا چیمپیئن کہتا ہے۔
ویسے یہ جسٹس کھوسہ اس ”ہائے رافعہ اب کیا ہو گا“ والی کا کیا لگتا ہے؟
کیسا المیہ ہے کہ پاکستان کو چار درجن ٹھرکی خواتین کا ٹھرک لے ڈوبا۔