آپ ذرا تصور کریں کہ آپ ایک ترقی یافتہ ملک (آسٹریلیا) میں نیشنلٹی لے چکے ہیں، بچوں کے ساتھ پرسکون زندگی گزار رہے ہیں لیکن صرف وطن کی محبت کو دل میں زندہ رکھنے کے لیے بچوں کو کچھ دن پاکستان واپس لے جانا چاہتے ہیں تاکہ وہ بھی اپنا وطن اپنی مٹی دیکھ سکیں۔ ذرا تصور کریں کہ آپ کچھ دن پہلے حج کی سعادت بھی حاصل کر کے آئے ہیں۔ اور اب آسٹریلیا سے اپنے وطن آ کر اپنے بچوں کو پاکستان دکھانا چاہ رہے ہیں، انھیں بتانا چاہ رہے ہیں کہ یہ مٹی ان کی ہے۔
ذرا تصور کریں کہ آپ اپنے بچوں کو اپنے گھر ، اپنے دیس لائے ہوئے ہیں اور راستے میں آپ کو ڈاکو لوٹ لیتے ہیں۔ ان بچوں پہ ڈاکؤ تو کیا ڈر چھوڑیں گے کہ ان ڈاکوؤں کے لوٹنے کے بعد آپ کے اپنے وطن کے محافظ بھی پہنچ کر آپ پہ فائرنگ شروع کر دیتے ہیں۔ ایک گولی نہیں، گولیوں کی بوچھاڑ۔ آپ کو گولیاں لگ رہی ہیں، آپ کے بچوں کو گولیاں لگ رہی ہیں اور آپ کا جرم بس اتنا ہے کہ آپ اپنے وطن واپس آئے تھے، اپنے بچوں کو وطن واپس لائے تھے۔ پہلے ڈاکوؤں نے لوٹا اور اب پولیس والے گولیاں مار رہے ہیں۔ آپ کے سامنے آپ کی نو سال کی بچی گولیاں لگنے سے مر جاتی ہے، آپ کی پوری فیملی گولیوں سے چھلنی ہو جاتی ہے۔ اور یہ کوئی افسانہ نہیں، سچا واقعہ ہے ہمارے وطن میں پیش آنے والا، چکوال میں بلاوجہ گولیوں سے بھون دی جانے والی فیملی کا۔ ذرا تصور تو کریں کہ ان لوگوں پہ کیا گزری، ان پہ کتنا بڑا ظلم ہوا اور یہ ظلم اس ادارے نے کیا ، جس نے ان کی حفاظت کرنی تھی۔ ذرا تصور تو کریں، ہم پردیس میں بیٹھے ہوئے ایسی لاقانونیت کے بعد کس دل سے پاکستان آئیں گے۔ پاکستان جانے کا سوچ کر ہمارے دل پہ کیا گزرتی ہو گی۔ ذرا تصور تو کریں کہ اپنے دل سے اپنے وطن کی یاد کو نکالنے کی کوشش کرتے ہوئے ہم پہ کیا گزر رہی ہو گی۔ اس فیملی کی تکلیف محسوس کرتے ہوئے ہم سب کتنے دکھی ہوں گے، کتنے پریشان ہوں گے۔
“ عمران خان جیل میں مر گیا “ اگر آپ کو اس خبر سے رتی برابر بھی تکلیف ہوگی تو تحریک انصاف کی قیادت سے ، سہیل آفریدی سے کسی قسم کی ہمدردی کا اظہار مت کیجیے۔ مہینوں سے عمران خان کی کسی شخص سے ملاقات نہیں ہوئی۔ کسی کو معلوم نہیں کہ شدت کی اس گرمی میں عمران خان کے سیل میں پنکھا بھی چلتا ہوگا یا نہیں۔ پینے کا پانی بھی دستیاب ہوتا ہوگا یا نہیں۔ کھانا بھی ملتا ہوگا یا نہیں۔ اسکے باجود یہ لوگ میٹنگ میٹنگ کھیل رہے ہیں۔
اگر آپ ان لوگوں سے ہمدردی کا اظہار کریں گے تو پھر کسی انتہائی تکلیف دہ خبر کے لیے تیار ہوجائیے۔ یہ لوگ اگر کمزور اور مجبور ہیں تو میدان چھوڑ دیں۔ گھر چلیں جائیں۔ کسی استحکام پارٹی ، کسی مسلم لیگ میں چلے جائیں ، کوئی اور جماعت بنالیں ، لیکن جن چوروں کیساتھ نا عمران خان اقتدار سے پہلے بیٹھا ، نا اقتدار کے دوران بیٹھا نا اقتدار کے بعد بیٹھا ان کیساتھ بیٹھنے سے گریز کریں۔ سختی زیادہ ہے تو سہولت کاری کرنے کی بجائے پارلیمنٹ اور عہدے چھوڑ دیں۔ عوام اپنا رستہ خود نکال لیں گے۔ حالات اپنی قیادت خود پیدا کرلیں گے۔
ایک ریٹائرڈ پروفیسر کی عادت تھی کہ وہ ہر رات ایک پرانے لکڑی کے صندوق کو تالا لگا کر بند کرتا تھا۔
اس صندوق میں اس کے نہایت قیمتی کاغذات، یادگاریں اور تھوڑی سی نقد رقم رکھی ہوتی تھی۔
ایک دن اس سے اس صندوق کی چھوٹی سی چابی گم ہو گئی۔
اس نے ہر جگہ تلاش کی—اپنی میز، الماریاں، کتابوں کی شیلفیں، حتیٰ کہ قالینوں کے نیچے بھی۔ مگر چابی نہ ملی۔
آخرکار اس نے اپنے بیٹے کو بلایا جو ایک انجینئر تھا۔
بیٹا مختلف آلات، ٹارچ اور اوزار لے کر آیا۔ اس نے تالے کا بغور جائزہ لیا اور کہا:
"فکر نہ کریں ابا جان، میں اسے توڑ کر کھول دیتا ہوں۔"
اتنے میں پروفیسر نے کہا:
"ٹھہرو، پہلے میں اپنے پرانے کالج کے ساتھی کو بلا لیتا ہوں۔"
بیٹا حیران ہو گیا۔
"کیوں؟ وہ تو تالہ ساز بھی نہیں ہے!"
کچھ دیر بعد پرانا دوست آ گیا۔ دونوں مسکرائے، ہنسے اور اپنے کالج کے زمانے کی باتیں کرنے لگے۔
تقریباً ایک گھنٹے بعد دوست نے اچانک پوچھا:
"کیا تم اب بھی اہم چیزیں اپنی پرانی لغت (ڈکشنری) میں چھپا کر رکھتے ہو، جیسے ہاسٹل کے دنوں میں رکھا کرتے تھے؟"
پروفیسر چونک اٹھا۔
وہ فوراً کتابوں کی الماری کے پاس گیا، ایک موٹی ڈکشنری نکالی، اور اس کے صفحات کے درمیان وہی چھوٹی سی گم شدہ چابی موجود تھی۔
بیٹا ہنس پڑا اور بولا:
"میرے سارے انجینئرنگ کے اوزار بے کار ہو گئے، اور آپ کے پرانے دوست نے صرف آپ کو جاننے کی وجہ سے مسئلہ حل کر دیا!"
پروفیسر مسکرایا اور بولا:
"ماہرین مسائل حل کر سکتے ہیں، مگر پرانے دوست اُن جگہوں کو یاد رکھتے ہیں جہاں تم خود کو کھو بیٹھتے ہو۔"
کہانی کا سبق:
ان لوگوں سے تعلق قائم رکھیں جنہوں نے آپ کو زندگی کے مختلف ادوار میں قریب سے جانا ہو۔
بعض اوقات وہ صرف مسائل کا حل ہی نہیں بتاتے، بلکہ آپ کی شخصیت کے وہ گم شدہ حصے بھی واپس دلا دیتے ہیں جنہیں آپ خود بھول چکے ہوتے ہیں۔
"گزرتی ہوئی نسل، ایک عہد کا اختتام"
یہ سفید ریش بزرگ، جو اپنے ساتھ ایک پوری تاریخ لیے پھرتے ہیں، اب آخری سانسیں لے رہی تہذیب کے امین ہیں۔
ان کے ہاتھوں کی لکیروں میں محنت، مشقت اور دیانتداری کے ان گنت قصے چھپے ہوئے ہیں۔
ان کے سینوں میں وہ راز دفن ہیں جو کتابوں میں نہیں ملتے، صرف ان کی آنکھوں کی چمک میں نظر آتے ہیں۔
وہ سادہ لباس، وہ پگڑی کی آن، وہ ٹھنڈی چھاؤں جیسے لہجے اب وقت کی دھول میں کہیں کھوتے جا رہے ہیں۔
ان کے لیے خوشی کا مطلب بڑی بڑی محفلیں نہیں، بلکہ اپنوں کا ساتھ اور بانٹ کر کھائی جانے والی روٹی تھی۔
دکھ میں ان کی خاموشی ہی سب سے بڑی تسلی ہوتی تھی، وہ بنا کچھ کہے دلوں کا بوجھ بانٹ لیتے تھے۔
خبر گیری صرف ایک رسم نہیں تھی، بلکہ وہ کسی کے بیمار ہونے پر میلوں کا سفر طے کر کے پہنچنا فرض سمجھتے تھے۔
بیمار پرسی میں ان کی دعا کا جو اثر ہوتا تھا، وہ آج کی مشینی دوائیوں میں کہاں میسر ہے؟
انہوں نے رشتوں کو نبھانا سکھایا، خون کے رشتوں سے زیادہ وہ محبت کے تقدس کو مانتے تھے۔
آج کے دور میں جہاں "مفاد" نے سب کچھ چھپا لیا ہے، وہ "بے لوث" محبت کی آخری نشانی ہیں۔
ان کے گھروں کے آنگنوں میں رونق ہوا کرتی تھی، جہاں سب مل بیٹھ کر زندگی کے دکھ سکھ بانٹتے تھے۔
انہوں نے ہمیں سکھایا کہ رزق میں برکت، کمائی کی مقدار میں نہیں، بلکہ اس میں شامل خلوص میں ہوتی ہے۔
ان کا احساس کرنا کسی نصابی کتاب کا سبق نہیں تھا، بلکہ ان کی گھٹی میں پڑی ایک فطری ادا تھی۔
اب وہ دور نہیں رہا، جہاں دروازے پہ آنے والے مہمان کے لیے گھر کا ہر فرد اپنی جگہ چھوڑ دیتا تھا۔
ان کے پاس زندگی گزارنے کا وہ ہنر ہے جو آج کی ڈگریوں اور ٹیکنالوجی کی دوڑ میں کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وقت کی رفتار کے ساتھ کیسے چلنا ہے، مگر اپنی اقدار کو کیسے سنبھال کر رکھنا ہے۔
ان کے جانے سے صرف لوگ نہیں جائیں گے، بلکہ ایک ایسا کلچر ختم ہو جائے گا جس کی بنیاد "خلوص" تھی۔
آنے والی نسلیں شاید صرف تصویروں میں ہی ان کا لباس اور ان کا طرزِ زندگی دیکھ پائیں گی۔
یہ لمحہ ہمارے لیے ایک تنبیہ ہے کہ ہم ان کی موجودگی کو غنیمت سمجھیں، کیونکہ یہ چراغ اب بجھنے والے ہیں۔
کاش ہم ان سے وہ جوہر سیکھ لیں، جو اس مادی دنیا کی بھیڑ میں کہیں کھو نہ جائیں۔
کیا آپ کو لگتا ہے کہ نئی نسل ان بزرگوں کی قدر اور ان کی روایات کو محفوظ رکھ سکے گی؟
گرمیوں کی چھٹیوں میں ننھیال جانا، نانی کے ہاتھ کا ذائقہ چکھنا اور کزنوں کے ساتھ وقت گزارنا ہر کسی کے لیے ایک خوشگوار تجربہ ہوتا ہے۔ لیکن اکثر ہم خوشی کے اس عالم میں یہ بھول جاتے ہیں کہ اس گھر کے نظام کو چلانے اور مہمان نوازی کے فرائض سرانجام دینے والی ہماری بھابیاں کتنی مشقت کر رہی ہوتی ہیں۔
محبتوں کے سفر میں، احساس کو ساتھ رکھیں
گرمیوں کی چھٹیاں، ننھیال کی وہ گلیوں، نانی کے پیار بھرے ہاتھ اور کزنوں کے ساتھ ہنسی مذاق کی محفلیں، یہ سب ہماری زندگی کے انمول لمحات ہوتے ہیں۔ نانی کا گھر ہمارے لیے کسی جنت سے کم نہیں ہوتا، جہاں ہماری چھوٹی چھوٹی فرمائشیں پوری کی جاتی ہیں اور ہمیں بے پناہ پیار ملتا ہے۔
لیکن اس تمام رونق اور میزبانی کے پیچھے ایک خاموش محنت کار طبقہ بھی ہوتا ہے ہماری **بھابیاں**۔
اکثر ہم چھٹیاں منانے کے جوش میں یہ بھول جاتے ہیں کہ جس گھر میں ہم مہمان بن کر جا رہے ہیں، وہاں کا نظام، کچن، صفائی اور دیگر انتظامات سنبھالنے والی انہی بھابھیوں پر کتنا بوجھ ہوتا ہے۔ پورا سال گھر داری کی ذمہ داریاں نبھانے کے بعد، جب پورا خاندان اکٹھا ہوتا ہے، تو ان کی مصروفیات دوگنی ہو جاتی ہیں۔ مہمانوں کی تواضع، بچوں کو سنبھالنا، کچن کے کام، اور اس کے ساتھ ساتھ گھر کے دیگر امور یہ سب بظاہر آسان لگتا ہے، لیکن عملی طور پر یہ ایک تھکا دینے والی مشقت ہے۔
**میری تمام بہنوں، بھائیوں اور کزنوں سے ایک پرخلوص گزارش ہے:**
* **بوجھ بننے سے بچیں:** نانی کے گھر جائیں، تو یہ یاد رکھیں کہ ہم وہاں 'مہمان' ہیں، 'بوجھ' نہیں۔ خود اپنے بستر سمیٹیں، اپنی چیزیں ٹھکانے پر رکھیں اور کوشش کریں کہ جس کمرے میں آپ رہیں، وہ صاف ستھرا رہے۔
* **ہاتھ بٹائیں:** کچن کے کاموں میں بھابھیوں کی مدد کریں۔ کھانے کی تیاری سے لے کر دسترخوان بچھانے اور پھر برتن سمیٹنے تک، اگر آپ تھوڑا تھوڑا کام بھی بانٹ لیں گے، تو ان کی ہمت بڑھے گی اور انہیں بھی کچھ سکون کے لمحات میسر آئیں گے۔
* **ان کا حال پوچھیں:** کبھی ان کے پاس بیٹھ کر ان کی باتیں سنیں۔ ان کا بھی دل چاہتا ہے کہ کوئی ان سے پوچھے کہ وہ کیسی ہیں، یا انہیں کیسی چھٹیاں گزارنی تھیں۔
* **شکریہ ادا کرنا نہ بھولیں:** ان کی محنت کی تعریف کریں۔ ایک چھوٹا سا جملہ، جیسے "بھابھی، آپ نے کتنا لذیذ کھانا بنایا ہے، بہت شکریہ!" یا "آج آپ بہت تھک گئی ہوں گی، تھوڑی دیر آرام کر لیں، باقی کام ہم دیکھ لیتے ہیں"، ان کی ساری تھکان اتار سکتا ہے۔
یاد رکھیں، خاندان اسی وقت حقیقی معنوں میں خوش ہوتا ہے جب ہر فرد دوسرے کے احساس کا خیال رکھے۔ نانی کی محبت کے ساتھ ساتھ اگر ہم ان کی بہوؤں (یعنی ہماری بھابھیوں) کی عزت اور سہولت کا بھی خیال رکھیں گے، تو یہ چھٹیاں صرف تفریح کا نہیں، بلکہ رشتے نبھانے اور اخلاق سیکھنے کا بہترین موقع ثابت ہوں گی۔
آئیے اس بار ننھیال جائیں تو صرف مہمان بن کر نہیں، بلکہ ایک ذمہ دار اور خیال رکھنے والے فرد بن کر جائیں۔ آپ کا تھوڑا سا تعاون ان کے لیے بہت بڑی آسانی بن سکتا ہے۔
رشتے صرف ملنے سے نہیں،
بلکہ ایک دوسرے کا احساس کرنے سے خوبصورت بنتے ہیں۔
کیونکہ محبت بانٹنے سے ہی گھر جنت جیسا محسوس ہوتا ہے۔
ڈراپ سائٹ کی اسٹوری کا سب سے چونکا دینے والا حصہ
جنرل باجوہ نے ایکسٹینشن حاصل کرنے کے لیے آمریکی حکام کو پاکستان کے نیوکلیئر جیسے حساس پروگراموں تک رسائی کی یقین دہانی کرائی تھی۔
یاد رہے کہ عمران خان اور باجوہ کے درمیان تعلقات کی خرابی میں ایکسٹینشن بھی ایک اہم پہلو تھا۔ جب جنرل باجوہ کو معلوم ہوا کہ عمران خان دوسری مرتبہ ایکسٹینش نہیں دیں گے۔ پھر انہوں نے سازشیں شروع کیں، عمران خان کے خلاف واشنگٹن میں لابیوں کی خدمات حاصل کیں، پھر وہاں سے سائفر آیا، رجیم چینج آپریشن ہوا۔
جب جنرل باجوہ نے اپریل میں رجیم چینج آپریشن کیا تو ان کی ریٹائرمنٹ میں آٹھ ماہ باقی تھے۔ اپنی ریٹائرمنٹ سے ایک ماہ قبل اکتوبر 2022 میں جنرل باجوہ نے امریکہ کا دورہ کیا اور وہاں اہم لوگوں سے ملاقاتیں کیں۔ واشنگٹن میں ہونے والی اس اہم ملاقات میں امریکی حکام کو کئی یقین دہانیاں کرائی گئیں کہ پاکستان اپنے Long-range missile پروگرام کو رول بیک کیا جائے گا، اپنے نیوکلیئر پروگرام میں کمی کیا جائے گا اور امریکا کو ان پروگراموں تک خصوصی رسائی بھی دے گا۔ یعنی، باجوہ ایکسٹینش حاصل کرنے کے لیے اس قدر Desperate تھے کہ وہ ریٹائرمنٹ سے ایک ماہ قبل امریکی حکام سے کہتا ہے کہ وہ انہیں پاکستان کی نیوکلیئر جیسے حساس پروگرام تک رسائی دے گا۔
جب باجوہ پاکستان واپس آتا ہے تو ایس پی ڈی جو کہ نیوکلیئر سے ریلیٹڈ ہے، ایس پی ڈی کے انچارج سے امریکی وفد تک رسائی دینے کو کہتا ہے۔ ایس پی ڈی نے باجوہ سے انکار کیا آرمی چیف کا نیوکلیئر چین آف کمانڈ پر ڈائریکٹلی کنٹرول نہیں ہے۔ چیں آف کمانڈ جو ایس پی ڈی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کو رپورٹ کرتا ہے، جوائنٹ چیفس اف اسٹاف وزیراعظم کو رپورٹ کرتا ہے۔ آرمی چیف کا اس پر ڈائریکٹلی کنٹرول نہیں ہے۔ (لیکن اب جب کہ 27ویں ترمیم منظور ہو چکی ہے، چین آف کمانڈ براہ راست چیف آف ڈیفنس فورسز کے ہاتھ میں آ گئی ہے۔)
ایک طرف عمران خان پھر سے ایکسٹینشن کی فیور نہیں دیں رہے تھے، دوسری طرف نواز شریف کے عاصم منیر سے معاملات طے پا چکے تھے، اور باجوہ کو ایکسٹینشن نہیں دی جا رہی تھی۔ اہم ساتھی جنرل ندیم انجم نے بھی پیروں تلے سے زمین کھینچی تھی, باجوہ کو پھر سے ایکسٹینشن کی حمایت کسی سے نہیں ملی۔ اور ریٹائر ہو کر چلے گئیں
جنرل باجوہ نے نیوکلیئر پروگرام تک رسائی اور Long-range missile پروگرام جیسے اہم معاملات پر امریکا کو یقین دلایا تھا لیکن یہ سب ان کے اختیار میں نہیں تھے۔ بصورت دیگر جنرل باجوہ امریکی وفد کو ایٹمی پروگرام تک رسائی دینے کے لیے تیار تھے۔
جنرل عاصم منیر کی ٹرمپ سے ملاقات ہوئی 27ویں آئینی ترمیم لائی گئی جس میں آرمی چیف کے عہدے میں نمایاں تبدیلی کی گئی اور آرمی چیف چین آف کمانڈ کے انچارج بن گئے۔ اب اگر کوئی امریکی وفد آکر ایٹمی پروگرام تک رسائی چاہتا ہے تو پورے پاکستان میں ان کی رسائی کا انحصار صرف اور صرف عاصم منیر پر ہے اور عاصم منیر ٹرمپ کے پسندیدہ فیلڈ مارشل بن چکے ہیں تو اس قربت کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ یہ بہت حساس مسئلہ ہے۔
(یہ ڈراپ سائٹ کی اسٹوری ہے۔ جنرل باجوہ نے امریکہ کو ایٹمی پروگرام تک رسائی کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن اس وقت یہ ان کے کنٹرول میں نہیں تھا۔ )
اب یہ کنٹرول 27ویں آئینی ترمیم میں عاصم منیر کے ہاتھ میں آ گیا ہے۔ اور عاصم منیر بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے پسندیدہ بندے بن گئے ہیں۔
نوٹ؛ اگر آپ کے پاس ڈراپ سائٹ کی پوری اسٹوری پڑھنے کا وقت نہیں ہے، تو کم از کم شہزاد اکبر کے بلاگ کے آخری دس منٹ تو سن لیں۔
آواز ِ دروں —•—
اپنے اڑوس پڑوس سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں عوامی فیصلے کا احترام دیکھتے ھیں تو رشک آتا ھے ۔۔
ووٹ کا فیصلہ اور عوامی نمائیندگی بالا دست تسلیم کیے جاتے ھیں
لوگ ووٹ کی طاقت سے سیاست کا دھارا بدلنے کی طاقت رکھتے ھیں ، قیادتیں بناتے اور بگاڑتے ھیں ، مارشل لأ آتا ھے نہ کوئ مداخلت کر سکتا ھے ، ٹسٹ ٹیوب قیادت کا کوئ تصور ھی نہیں ۔۔۔
وھاں سیاسی جماعتیں اپنے منشور پر آزادانہ چلتی ھیں ، جمہوریت مانگنے سے پہلے اپنے اوپر جمہوریت نافذ کرتی ھیں ،عدلیہ ملازمت نہیں بچاتی انصاف دیتی اور عزت کماتی ھے
ھم بدقسمت ، سات دھائیوں سے دائرے میں گھوم رھے ھیں
سہانے خواب ، کھوکھلے نعرے اور مخالف کو پاتال تک چھوڑ کر آنا ھمارا قومی مزاج ھے
یہ جموُد ووٹ سے بدلتا نظر نہیں آتا ۔۔۔۔۔
تقدیر بدلنے کی قیمت کہیں زیادہ ھو گی ۔۔۔۔
The Iranian navy, which has been destroyed eight times, closed the Strait of Hormuz again, because the United States for the seventh time won the war that wasn’t a war, so the United States can open the Strait of Hormuz that was open before the not war.
The not war that started to get the uranium that was completely obliterated, so that the Iranians can’t build the nuclear bomb that they weren’t building for the not war that the United States started.
Then the United States which has nuclear weapons threatening to use nuclear weapons to prevent Iran from having nuclear weapons because having nuclear weapons is dangerous.
If the United States saw what the United States is doing in the United States, the United States would invade the United States to liberate the United States from the tyranny of the United States.
میں تاریخ سے لڑنا نہیں چاہتا اگر تاریخ کہے حضرت حسینؓ کا پانی 10 دن بند رہا تب بھی ٹھیک اگر تاریخ کہے حضرت حسینؓ کا پانی 7 دن بند رہا تب بھی ٹھیک لیکن تاریخ کو چھیڑنے کی بجائے تاریخ کا مطالعہ کرتا ہوں تو مجھے نظر آتاہے کہ اسلام کی تاریخ میں صرف حضرت حسینؓ کی ہی شھادت مظلومانہ یا دردناک نہیں بلکہ اگر ہم 10 محرم کہ طرف جاتے ہوئے رستہ میں 18 ذی الحج کی تاریخ پڑھیں تو ایک ایسی شھادت دکھائی دیتی ہے جسمیں شھید ہونیوالے کا نام حضرت عثمانؓ ہے
جی ہاں__ وہی عثمانؓ جنہیں ہم ذالنورین کہتے ہیں
وہی عثمانؓ جسے ہم داماد مصطفیؐ کہتے ہیں
وہہ عثمان جسے ہم ناشر قرآن کہتے ہیں
وہی عثمانؓ جسے ہم خلیفہ سوئم کہتے ہیں
وہی عثمانؓ جو حضرت علیؓ کی شادی کا سارا خرچہ اٹھاتے ہیں
وہی عثمانؓ جسکی حفاظت کیلئے حضرت علیؓ اپنے بیٹے حضرت حسینؓ کو بھیجتے ہیں
وہی عثمانؓ جسے جناب محمد الرسول اللہؐ کا دوہرا داماد کہتے ہیں
خیر یہ باتیں تو آپکو طلبا خطبا حضرات بتاتے رہتے ہیں
کیونکہ حضرت عثمانؓ کی شان تو بیان کی جاتی
حضرت عثمانؓ کی سیرت تو بیان کیجاتی ہے
حضرت عثمانؓ کی شرم حیا کے تذکرے کئے جاتے ہیں انکے قبل از اسلام اور بعد از اسلام کے واقعات سنائے جاتے ہیں لیکن بد قسمتی ہے یہ کہ انکی مظلومیت کو بیان نہیں کیا جاتا انکی دردناک شھادت کے قصہ کو عوام کے سامنے نہیں لایاجاتا
تاریخ کی چیخیں نکل جائیں اگر عثمانؓ کی مظلومیت کا ذکر کیا جائے کوئی عالم یا خطیب نہیں لیکن میں اتنا جانتا ہوں کہ عثمان وہ مظلوم تھا
جسکا 40 دن پانی بند رکھا گیا آج وہ عثمان پانی کو ترس رہاہے جو کبھی امت کیلئے پانی کے کنویں خریدا کرتاتھا
حضرت عثمانؓ قید میں تھے تو پیاس کی شدت سے جب نڈھال ہوئے تو آواز لگائی ہے کو جو مجھے پانی پلائے ؟
حضرت علیؓ کو پتہ چلا تو مشکیزہ لیکر علیؓ عثمان ؓ کا ساقی بن کر پانی پلانے آرہے ہیں
ہائے ۔۔۔ آج کربلا میں علی اصغر پر برسنے والے تیروں کا ذکر تو ہوتا ہے لیکن حضرت علیؓ کے مشکیزہ پر برسنے والے تیروں کا ذکر نہیں ہوتا باغیوں نے حضرت علیؓ کے مشکیزہ پر تیر برسانے شروع کئے تو علیؓ نے اپنا عمامہ ہوا میں اچھالا تاکہ عثمانؓ کی نظر پڑے اور کل قیامت کے روز عثمانؓ اللہ کو شکایت نا لگاسکے کہ اللہ میرے ہونٹ جب پیاسے تھے تو تیری مخلوق سے مجھے کوئی پانی پلانے نا آیا
کربلا میں حسینؓ کا ساقی اگر عباس تھا
تو مدینہ میں عثمانؓ کا ساقی علیؓ تھے
اس عثمانؓ کو 40 دن ہوگئے ایک گھر میں بند کیئے ہوئے جو عثمانؓ مسجد نبوی کیلئے جگہ خریدا کرتاتھا
آج وہ عثمانؓ کسی سے ملاقات نہیں کرسکتا جسکی محفل میں بیٹھنے کیلئے صحابہ جوق درجوق آیاکرتے تھے
40 دن گزر گئے اس عثمانؓ کو کھانہ نہیں ملا جو اناج سے بھرے اونٹ نبیؐ کی خدمت میں پیش کردیا کرتاتھا
آج اس عثمان کی داڑھی کھینچی جارہی ہے جس عثمان سے آسمان کے فرشتے بھی حیاکرتے تھے
آج اس عثمانؓ پر ظلم کیا جارہا ہے جو کبھی غزوہ احد میں حضور نبی کریمؐ کا محافظ تھا
آج اس عثمانؓ۔کا ہاتھ کاٹ دیا گیا جس ہاتھ سے آپؐ کی بیعت کہ تھی
ہائے عثمان میں نقطہ دان نہیں میں عالم نہیں جو تیری شھادت کو بیان کروں اور دل پھٹ جائیں آنکھیں نم ہوجائیں
آج اس عثمانؓ کے جسم پر برچھی مار کر لہو لہان کردیا گیا جس عثمان نے بیماری کی حالت میں بھی بغیر کپڑوں کے کبھی غسل نہ کیا تھا
آج آپؐ کی 2 بیٹیوں کے شوہر کو ٹھوکریں ماری جارہی ہیں
18 ذی الحج 35 ھجری ہے جمعہ کا دن ہے حضرت عثمانؓ روزہ کی حالت میں ہیں باغی دیوار پھلانگ کر آتے ہیں اور حضرت عثمانؓ کی داڑھی کھنچتے ہیں برا بھلا کہتے ہیں ایک باغی پیٹھ پر برچھی مارتاہے ایک باغی لوہے کا آہنی ہتھیار سر پر مارتاہے ایک تلوار نکالتا ہے حضرت عثمانؓ کا ہاتھ کاٹ دیتاہے وہی ہاتھ جس ہاتھ سے آپ کی بیعت کی تھی قرآن سامنے پڑا تھا خون قرآن پر گرتا ہے تو قران بھی عثمانؓ کی شھادت کا گواہ بن گیا عثمانؓ زمین پر گر پڑے تو عثمانؓ کو ٹھوکریں مارنے لگے جس سے آپؐ۔کی پسلیاں تک ٹوٹ گئیں حضرت عثمانؓ باغیوں کے ظلم سے شھید ہوگئے۔
اسلام وہ شجر نہیں جس نے پانی سے غذا پائی
دیا خون صحابہؓ نے پھر اس میں بہار آئی::
مدینہ منورہ جنت البقیع میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی کی قبر مبارک۔۔۔۔۔۔
منقول
عمران خان کی آنکھ چلی گئی؟
پختونخواہ حکومت جاتی ہے تو جائے
بیرسٹر گوہر کا عہدہ جاتا ہے تو جائے
سلمان اکرم راجہ کا عہدہ جاتا ہے تو جائے
محمود اچکزئی کا عہدہ جاتا ہے تو جائے
علامہ ناصر عباس کا عہدہ جاتا ہے تو جائے
پندرہ بیس درجن اراکین اسمبلی جاتے ہیں تو جائیں
اگر احتجاج مشکل ہے تو اسمبلیوں سے استعفے دیں ، اس نظام کو کندھا دینا تو بند کریں۔ جیل نہیں جانا نا جائیں ، گھر تو جائیں۔ جس عوامی نفرت کا رخ عمران خان کی یہ حالت کرنے والوں کی طرف ہونا چاہیے وہ یہ اپنی طرف کیے بیٹھے ہیں ؟ کیوں؟ اگر عہدوں سے بڑے ہیں تو عہدے چھوڑ دیں۔
لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان کا قد کاٹھ ، ان کی شناخت ، ان کی پہچان یہ عہدے ہی تو ہیں۔ بیرسٹر گوہر کی سیاسی حیثیت یا تاریخ کیا ہے؟ سلمان اکرم راجہ کی سیاسی حیثیت یا تاریخ کیا ہے؟ محمود اچکزئی اس سے پہلے کتنی مرتبہ لیڈر آف دی اپوزیشن بنے ہیں؟ علامہ ناصر عباس کتنی دفعہ سینٹر بنے ہیں؟
"کہ بیشمار ہوتے ہیں ایک ہزار دن "
ہر طرف یہ لکھا جارہا ہے کہ "عمران خان کی جیل میں قید کے ایک ہزار دن"
میرے خیال میں یہ لکھنا غلط ہے - درست اصطلاح یہ ہے
اس حکومت کی ہٹ دھرمی اور بے حسی کے ایک ہزار دن -
اس عدلیہ کی ناانصافی اور بے عدلی ایک ہزار دن -
اس بے لگام اسٹبلیشمنٹ کے انتقام کے ایک ہزار دن -
بے وقعت ہونے والے آئین پاکستان کے بھیانک انجام کے ایک ہزار دن -
اس ملک کی بارز اور وکلاء تنظیموں کی اس لاقانونیت پر مصلحت کی خاموشی کے ایک ہزار دن -
عمر رسیدہ اور کینسر زدہ یاسمین راشد کے ضعیفی اور بیماری کی فراموشی کے ایک ہزار دن -
صحافت اور اخبار کے انتقال کے ایک ہزار دن
اس استحصال پر بھی جو نہ ہوا ' اس ملال کے ایک ہزار دن
شاہ محمود قریشی کے گدا ہونے کے ایک ہزار دن
عمر سرفراز چیمہ کہ وقت سے پہلے بوڑھا ہونے کے ایک ہزار دن -
اس قوم کی بزدلی اور ہر طرح کے حالات میں ایڈجیسٹ ہوجانے کے ایک ہزار دن -
اس یوتھ کا اپنا لیڈر بھول جانے اور اس نسیان میں سیٹ ہوجانے کے ایک ہزار دن -
تحریک انصاف کی لیڈر شپ کا مصلحت پی کر سوجانے اور زیر لب بڑبڑانے کے ایک ہزار دن -
اتنے دنوں میں اپنی منسٹری بچانے اور کچھ بھی نہ کر پانے کے ایک ہزار دن -
ایک بھائی سے اس کی بہنوں کی جدائی کے ایک ہزار دن -
بیٹوں کیلئے ایک باپ کی عدم پدریائی کے ایک ہزار دن -
ایک بیوی کے اپنے شوہر سے وفا کے ایک ہزار دن
محبت اور ہمنوائی کی اس ردا کے ایک ہزار دن
شوکت خانم ہسپتال کے اپنے رہبر سے محروم ہونے کے ایک ہزار دن -
اسلاموفوبیا کے خلاف امت مسلمہ کے مقرر کو کھودینے کے ایک ہزار دن -
پاسبانوں سے بچپن کی محبت تار تار ہونے کے ایک ہزار دن -
حواریوں اور درباریوں کے غدار ہونے کے ایک ہزار دن -
موسمی پرندوں کے ہوا ہونے کے ایک ہزار دن
وفاداروں کے بے وفا ہونے ایک ہزار دن
لوگوں کے اپنے محسن سے بےپرواہ ہونے کے ایک ہزار دن
شہزادوں جیسی زندگی جینے والے کے فقراء ہونے ایک ہزار دن
تیرے میری بے حسی کے انبار کے ایک ہزار دن
بیکار کے ایک ہزار دن ' منجھدار کے ایک ہزار دن
ان دنوں کی گنتی کرنا ہی کیا اب تیرا اختیار ہے نوجوان! ؟
اس سے آگے بڑھ ' ارے کچھ تو کر' کہ بیشمار ہوتے ہیں ایک ہزار دن
"قلم کی جسارت وقاص نواز "
-----------------------------------------------------------
@MoeedNj@ImranRaizKhan@ImranARaja1@soulful7867@Aleema_KhanPK@BarristerGohar
#محبت_مافیا
کئی سالوں پہلے کی بات ہے مجھے معلوم ہوا میری یونیورسٹی کے کلاس فیلو دونوں بہن بھائی امریکہ شفٹ ہوگئے ہیں اور آج کل ان کے والد ایدھی اولڈ ایج ہوم میں ہیں
یہ سن کر میں تڑپ سا گیا کہ ایک عظیم باپ ایدھی اولڈ ایج ہوم کیسے پہنچ گیا
میں نے کسی طرح امریکہ رابطہ کیا اور ان کے بیٹے سے پوچھا یہ کیا کر دیا تو نے مجھے شدد دکھ اس لمحہ پر بھی ہو رہا ہے کہ آج اس موضوع پر ایک دوسرے سے بات ہو رہی ہے
اس نے بتایا میں مجبور تھا میں نے یہاں ایک انگریز سے شادی کر لی ہے
پوچھا بہن کہا ہے بتایا اس نے بھی کسی انگریز سے شادی کر لی ہے اور اسی کے ساتھ رہ رہی ہے
میں نے جواب دیا
تم دونوں نے اپنی دنیا تو تباہ کر ہی لی ہے لیکن اپنے ساتھ ساتھ اپنے باپ کو بھی کہیں کا نہیں چھوڑا اور فون بند کر دیا
اور پھر میں نے اگلے دن ایدھی ہوم جانے کا فیصلہ کیا
میں سہراب گوٹھ ایدھی ہوم پہنچا وہاں کا اندرونی ماحول خاصا پراسرار معلوم ہوا بہت انتظار اور برداشت کرتے کرتے دوست کے والد کی انفارمیشن مانگی شروع میں تو سب منع کر دیا لیکن جب میں نے کچھ شور مچاتے ہوئے فیصل ایدھی کا نام لیا تو رجسٹرڈ کھلنے لگے اور مجھے بتایا گیا وہ صاحب یہاں تھے لیکن چند دنوں پہلے انہیں سپر ہائی وے نوریہ آباد ایدھی ہوم شفٹ کر دیا گیا ہے
میں نے گھڑی میں وقت دیکھا شام ہونے کو تھی خیال آیا اندھیرا ہونے کو ہے اور رات میں ہائی وے اس کام کیلیے نکلنا ٹھیک نہیں
اگلے دن میں صبح آٹھ بجے گھر سے نکلا اور سپر ہائی وے سے نوریہ آباد ایدھی ہوم پہنچ گیا
اب وہاں کا ماحول ایسا تھا کہ آفس میں موجود بندہ مجھے ایسے دیکھ رہا تھا کہ جیسے میں کوئی خلائی مخلوق ہوں اور سیدھا چاند سے نوریہ آباد اتر کر ڈریکٹ ایدھی ہوم آگیا ہوں
میں نے اسے ہوش میں واپس لاتے ہوئے بولا تم بھی انسان ہو میں بھی انسان ہوں چلو اب آگے کچھ کرتے ہیں
اپنے آنے کا مقصد بتایا اور مزید تمام ڈیٹیل جس کے بعد وہ بہت مشکل سے ہزار کا نوٹ لے کر انکل سے ملاقات کروانے پر رضا مند ہوا۔
اور اب میں انتظار میں ٹہلتا رہا اور دو گھنٹے گزر گئے ایسی نوبت آچکی تھی کہ اب میں منتیں کرتا جیسے کہ بھائی ملاقات کروا دو۔
انتظار میں پورے دو گھنٹے گزر جانے کے بعد میں نے دیکھا بہت دور سے وہیل چیئر پکڑے کوئی بندہ میری طرف آرہا ہے اور وہیل چیئر پر کوئی بندہ بھی بیٹھا ہے میں دیکھتا رہا وہ نزدیک آتے رہے
حالانکہ میرے بالکل پاس آکر رک گئے اور لانے والے نے کہا یہ لیجئے لے آیا ہوں آپ یہاں آجائے اور بیٹھ جائیں
میں نے وہیل چیئر تھامی اب یہ ایک پارک جیسی جگہ تھی میں نے درخت کے نیچے چھاؤں میں وہیل چیئر روکی اور خود زمین گھاس پر بیٹھ گیا
اور انکل کو لانے والا ہم دونوں کی ملاقات کا جائزہ لینے کیلئے ہم سے ہٹ کر کچھ دور بیٹھ گیا اور مسلسل ہمیں دیکھتا رہا جسے میں اگنور کرتا رہا۔
شروع میں تو میں انکل کو بالکل پہچانا ہی نہیں گورا رنگ سڑ کر کالا ہو چکا تھا اور اچھا خاصا صحت مند جسم سوکھ کر لکڑی جیسا بن چکا تھا۔
کوئی بھی بات شروع کرنے سے پہلے میں نے حالات کا بغور جائزہ لیا جس سے مجھے معلوم ہوا انکل کا جسم تو خاصا گندہ ہے اور بدبو بھی آرہی ہے
مگر انہیں ملاقات کروانے کاٹن کا نیا سوٹ پہنا کر لایا گیا ہے كلف لگا ہوا سوٹ
جسے دیکھ کر میں تمام اندرونی معاملات جلد سمجھ گیا کہ اندر کا ماحول کیا ہوگا۔
اب انکل نے خاموشی توڑی اور پوچھا تم کون ہو
میں نے عرض کیا میں عاطف ہوں آپ کے بیٹے کا دوست ہم یونیورسٹی میں ساتھ پڑھتے تھے اور میں اکثر آئے دن آپ کے گھر آیا کرتا تھا اور اکثر آپ سے بہت ملاقاتیں ہوئیں۔
انکل نے اپنے سر پر ہاتھ رکھا اور سر مسلتے ہوئے کہا ہاں کچھ کچھ یاد آرہا ہے ایسا ایسا
اس سے مجھے یقین ہوگیا یہ جو بھی مڈیسن ڈرگ ٹائپ یہاں موجود بندے کو دیتے ہیں اس کے استعمال سے ویسے ہی بندے کی یاداشت فنا ہوجائے۔
میں مزید باتیں کرنے لگا تو انکل نے کہا تم کچھ مت بولو وہ سامنے بیٹھا ہمیں دیکھ رہا ہے تمہارے جانے کے بعد وہ مجھے مارے گا
تم یہاں سے چلے جاؤ اور آیندہ یہاں کبھی مت آنا
اتنی سی بات پر میں مزید بھی سب جان گیا کہ اندر کیا کیا ظلم ہوتا ہوگا
اور جلد ہی میں نے انکل سے وعدہ لیا میں آپ کو لینے آؤں گا آپ میرے ساتھ میرے گھر چلے گے
انکل نے کہا نہیں یہ لوگ نہیں جانے دینگے یہ لوگ اندر ہمیں زنجیروں سے باندھ کر رکھتے ہیں اور زنجیروں سے ہی ہمارے جسم کو کھینچتے ہیں
میں نے نیچے پیروں کی طرف دیکھا تو پیروں میں زنجیروں کے کافی گہرے زخم تھے۔
میں نے اپنے تمام غصہ کو کافی کنٹرول کیا کیونکہ یہ معملہ غصہ دکھانے کا نہیں عقل مندی سے اپنے بندے کو اس قید سے باہر نکالنے کا تھا۔
میں نے انکل سے وعدہ لیا میں آؤں گا اور آپ کو میرے ساتھ چلنا ہوگا
تاریخ دانوں نے روایت کیا ہے کہ عمر بن خطابؓ، جنہیں ان کی سختی اور قوت کے لیے جانا جاتا ہے، ایک دن مدینہ میں لوگوں کے لیے کھانے کے دسترخوان لگا رہے تھے۔ انہوں نے ایک شخص کو بائیں ہاتھ سے کھاتے ہوئے دیکھا، تو پیچھے سے آ کر کہا:
"اے عبداللہ! دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔"
اس شخص نے جواب دیا:
عجیب الخلقت خاندان
نواز شریف 67 سال کا ہے لیکن69 سال والے شہباز سے
سے بڑا ہے
نواز شریف نے جب کلثوم بی بی بیمار تھی کہا تھا
میرا ان سے چالیس سال رفاقت کا رشتہ ہے ،جبکہ حسین 48 سال
اور مریم 46 کی تھی حسن 42 سال کا
نواز شریف کا ابا امیر تھا ،شہباز کا غریب
مریم کہتی ہے حسین نواز کا دادا ارب پتی تھا
جبکہ حمزہ کا دادا ایک مزدور تھا
جدہ سٹیل 2006 میں بیچ کے اسی پیسے سے 2002 میں لندن فلیٹ
خریدے جبکہ حسن نواز 1992 میں ادھر رہ رہا تھا
چودھری نثار کہتا ہے لندن فلیٹس 93 سے شریف خاندان کی ملکیت ہیں
سن 68 میں لگنے والی اتفاق فاؤنڈری نے 65 کی جنگ میں ٹینک بنائے تھے
جدہ سٹیل بیچی اور لندن کی پراپرٹی خریدی ،لیکن الحمد للہ جدہ سٹیل اب
بھی ہماری ہے 1989 ابوظہبی سے سٹیل مل شفٹ کرکے 1988 میں
جدہ میں لگا لی
ہم الحمد اللہ 1988 میں ارب پتی تھے لیکن ٹیکس صرف 900 دیتے تھے
سن 1992 میں چار ہزار سات سو ٹیکس دیا
میں جب وردی پہن کر گآؤں جاتا تو گاؤں کی عورتیں چھت پر چڑھ کر
دیکھتیں ،صفدر اعوان
حسین نواز نے دو سال کی عمر میں شیخ جاسم کے والد سے پارٹنر شپ
کا معاہدہ کیا
کلیبری فونٹ ایجاد ہونے سے پہلے اس خاندان نے استعمال کر لیا
ایک سال پہلے میری لندن تو کیا پاکستان میں کوئی پراپرٹی نہیں
لیکن ایک سال بعد الیکشن کے کاغذات میں پانچ ملیں سینکڑوں ایکڑ
زرعی اراضی ،شاپنگ مالز ،لندن میں پراپرٹی اور اٹلی میں سٹیل مل
سرا چکرا گیا کہ نی ؟؟🤣🤣🤣
To end the deadlock in the negotiations and build trust, the US should lift the blockade of the Strait of Hormuz and release the captured Iranian ship so that Pakistan can bring Iran to the negotiating table as a mediator. The aggressors are the US and Israel, not Iran. Instead of defeating Iran, they have lost the war of self-narratives. Iran is not Venezuela, Libya or Iraq. The US cannot win a war waged on the behest of the Zionists at the negotiating table. It can only save face. If Iran is destroyed, every country in the region will be badly affected and the US will have to bear the burden.
Former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan is in solitary confinement since October 16, 2025.
He has spoken to his sons only twice in 2025 and once in February 2026 after Supreme Court orders. He has been denied books to read. He has received only 3 of the dozen books that we managed to get to adiala through a judge.
Then, a perfectly health and fit Imran Khan suddenly develops a clot in his eye. He was not provided medical assistance. For two weeks, he repeatedly told the jail superintendent that he CANNOT SEE.
The Adiala Jail superintendent Ghafoor Anjum DELAYED calling in a specialist for three months.
By the time the eye doctor came, the delay caused permanent damage to Imran Khan’s eye. We are extremely worried that his other eye could also develop a clot.
Imran khan has repeatedly sent messages over past few months that he is not satisfied with the treatment and there is only marginal improvement after the first injection in the eye. No improvement since then.
Over the past month, Bushra Bibi, his wife has also developed an eye condition and was operated upon last week.
Imran khan and his wife are being tortured through solitary confinement. We have repeatedly protested, demanding Imran Khan to be examined and treated at Shifa International Islamabad. There is an urgent need to identify the cause of the blood clot. Our worry is that his other eye could also develop a clot unless proper diagnosis is done and it’s treated accordingly
This is inhumane and a violation of all fundemental and human rights of a prisoner under Pakistan and International laws.
You may not be visible amidst the dazzling lights of diplomatic errands, you may have been forgotten by people you put in power, you may be suffering because of not achieving what you would have wanted but remember
YOU ARE IN OUR HEARTS, IN OUR PRAYERS, AND PART OF OUR SMALL STRUGGLES
We will speak for you, pray for you, and do whatever we can because YOU DID WHAT YOU COULD ALL YOUR LIFE!
@ImranKhanPTI #imrankhan #ImranKhanHealthEmemrgency
کل کا جلسہ پی ٹی آئی نے عمران خان سے کینسل کروایا تاکہ حکومت کو ریلیف دیا جا سکے۔ اس سے پہلے بھی کئی مواقع پر حکومت کو ریلیف دیا گیا، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کے بدلے عمران خان کی صحت کے حوالے سے کوئی بھی ریلیف حاصل نہیں کیا گیا۔ نہ ہی فیملی ملاقاتوں کے لیے کوئی مؤثر آواز اٹھائی گئی اور نہ ہی ان کی غیرقانونی قیدِ تنہائی کے خاتمے کے لیے کوئی سنجیدہ اقدام کیا گیا۔
عمران خان کو جیل مینول کے مطابق بنیادی سہولیات بھی فراہم نہیں کی جا رہیں۔ فیملی کا واحد اور واضح مطالبہ یہی ہے کہ عمران خان کا علاج فوری طور پر شفاء انٹرنیشنل اسلام آباد میں ان کی فیملی اور ذاتی معالج کی موجودگی میں کروایا جائے۔
ان کی آنکھ کی حالت تشویشناک ہے، نہ صرف یہ کہ اس میں کوئی بہتری نہیں آئی بلکہ خدشہ ہے کہ اسے جان بوجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس سے ان کی بینائی مزید متاثر ہو رہی ہے۔
عمران خان کی صحت کو نظر انداز کرنا یا اس پر خاموشی اختیار کرنا ایک مجرمانہ فعل ہے۔ جب تک فیملی کی ملاقات نہیں ہوتی، ہم تسلی سے کوئی بھی بات نہیں کر سکتے اور نہ ہی کسی سرکاری مؤقف پر کسی قسم کا یقین کیا جا سکتا ہے
آپ کو پہلے کہا تھا جلسہ ملتوی ہو جائے گا ۔اب جتنی چاہیے صفائیاں دے صفدر کا گاڑی بھگا لے کر لے جانا یہ ظاہر کرتا ہے خان کسی قسم کے مزاکرات کے بعد نے جھاڑ پلا دی ہے ۔🚨🚨
کہتا یہ کہتے ہیں حکومتی درخواست پر جلسہ ملتوی کیا ؟ کون سی حکومت فارم 47 والی جعلی حکومت کب سے ان لوگوں نے تسلیم کر لی ؟ مطلب کمپنی کی درخواست پر ؟ درخواست کس کو آئی کس نے دیکھی ؟ کسی کو کچھ پتہ نہیں ۔صرف ان صاحب کو پتہ ہے ۔