پرنس William پاکستان آرہا تھا تو اس سلسلے میں پرنس چارلس اور عمران خان کے درمیان کال پر بات ہوئی
خان صاحب کو سارا پروٹوکول سمجھایا گیا لیکن جیسے ہی کال ملائی خان نے کہا Hey Charles جس پر پرنس چارلس نے کہا Hey Immy۔۔۔ جس پر لوگ حیران ہوئے
سنئیں صحافی فرحان ملک کی زبانی 🔥
کل صبح دلی پہنچا تھا۔پرائیویٹ جہاز پالم پر اترتے ہیں اور کمرشل جہاز اندرا ��اندھی ائیرپورٹ پر۔ آپ کو پھر پتہ ہے بھائی کہاں اترا ہوگا۔ نیند جہاز میں پوری ہوچکی تھی۔ اترتے ہی درگاہ حضرت نظام الدین پہنچا۔ سلام عقیدت پیش کیا۔ پورے دن کی فرصت تھی۔ لیکن موسم ساتھ نہیں دے رہا تھا۔ بارش اور حبس نے اذیت میں مبتلا کررکھا تھا۔ اتنا قریب پہنچ کر مرزا نوشہ کو نہ ملتے تو مرزا جی برا مان جاتے۔ وہاں پھر اسٹیڈیم اسٹیشن سے جامع مسجد تک میٹرو پکڑ لی۔ جمعہ شاہی مسجد میں ادا کیا۔ اب میں تھک چکا تھا لہذا ٹیکسی پکڑ کر اپنے پسندیدہ امپیریل ہوٹل چلا گیا۔
شام کو ملاقات طے تھی۔ جن سے ملاقات طے تھی پک بھی انہی کو کرنا تھا۔ میں برسوں بعد آیا تھا اور کسی ایمبسڈر کار کی توقع کررہا تھا۔ لیکن سامنے مہندرا تھار کھڑی دیکھ کر حیرت ہوئی۔ مجھے پچھلی سیٹ پر بیٹھنے کا کہا گیا۔ تھار کے شیشے یوں کالے کررکھے تھے جیسے مجھے پتہ نہیں تھا کہ جانا کہاں ہے۔ خیر تھوڑی سی دیر کے بعد ہم منزل پر تھے۔
جیسے ہی میں کانفرنس حال میں داخل ہوا تو اجیت دوول خود سیٹ سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے۔ کھڑے کیوں نا ہوتے ، دیس ماتا کا سب سے کامیاب ایجنٹ اتنے سمے بعد لوٹ رہا تھا۔ پرنام کیا۔ اجیت سر نے مزاج کا پوچھا ۔ چہکتے ہوئے بتایا جمعے کی نماز کی عادت ہوگئی ہے جامع مسجد میں وہ تک پڑھ آیا ہوں اور درگاہ شریف بھی ۔ کھلکھکا کر ہنس پڑے ۔ بتایا آج تمہارے لیے ایک بہت بڑا سرپرائز بھی ہے۔ میں نے آنکھوں میں ابھی تجسس بھرا ہی تھا تو پیچھے سے کسی نے کندھے پر ہاتھ رکھا اور آواز آئی “ مائی پھرینڈ “ ۔ حیرت کی شدت سےپلٹا تو سامنے مودی جی ہی تھے۔ گویا جان ہی نکل گئی اور جذبات میں ان سے لپٹ گیا۔
خیر مختصر کریں ، میٹنگ شروع ہوئی۔ اجیت سر کی مختصر سی بریفنگ کے بعد میری باری تھی۔ سکرین پر پاکستان کا میپ تھا۔ بتایا کہ پورا بلوچستان اس وقت سرخ ہے۔ فوج کی عملداری ختم ہوچکی ہے۔ ہر روز حملے ہورہے ہیں۔ ہر روز ہلاکتیں۔ یہاں فوج ابھی کچھ کنٹرول نہیں کرپارہی۔ پھر انہیں جنوبی پختونخواہ کے حالات دکھائے کہ وہاں کیا ہورہا ہے۔ مودی جی کو کشمیر میں زیادہ دلچسپی تھی۔ بتایا کہ ایک اور جعلی حکومت بنائی جاچکی۔ عوام دھرنے دے رہے ہیں۔ احتجاج کررہے ہیں۔ سو لوگ مر چکے ہیں۔ لیکن لوگ ڈٹے ہوئے ہیں۔
جب بلوچستان ، پختونخواہ اور کشمیر پر بول چکا تو کہا مودی جی پچاس فیصد پاکستان خانہ جنگی کا شکار ہوچکا۔ مودی جی کا چہرہ چمک سا اٹھا۔ پھر عوامی نفرت کا بتایا ، مہنگائی اور بدحالی کا بتایا ، عدالتوں کی تباہی کا بتایا۔ جیسے جیسے میں بول رہا تھا ہال میں اطمینان پھیلتا محسوس کیا جاسکتا تھا۔
جب میری گفتگو ختم ہوئی تو مودی جی نے میرے لیے دو تعریفی جملے کہے۔ گویا ہفت اقلیم کی دولت مل گئی۔ پوچھا کہ یہ جو سب اس دشمن کے ساتھ ہورہا ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ سلسلہ کسی پوائنٹ پر جاکر رک جائے یا ریورس ہوجائے اور یہ ساری بدامنی و تباہی کہیں استحکام اور ترقی نا بن جائے۔ میں نے پوائنٹر سے سکرین بند کی تو کانفرنس ہال کی لائٹس آن ہوگئیں ۔ سامنے رکھا پانی کا گلاس اٹھایا۔ ایک گھونٹ پانی کا بھرا۔ ایک ہاتھ جیب میں ڈال مودی جی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنا اعتماد ان کے اندر منتقل کرتے ہوئے کہا جب تک عاصم منیر موجود ہے کوئی مائی کا لال دشمن ملک میں بہتری نہیں لاسکتا۔
🚨ڈرٹی ہیری اسوقت کوئٹہ میں ہے۔ عینی شاہدین کیمطابق پوسٹنگ آرڈرز ملنے پر وہ حیران پریشان رہ گیا—اسے اندازہ بھی نہیں تھا کہ ISI سے اس کی برطرفی پہلے ہی طے ہو چکی تھی۔ اس اقدام کی منصوبہ بندی کا سہرا کلیدی سازشیوں واجد عزیز، محسن نقوی اور سرفراز بگٹی کے سر جاتا ہے۔
تفصیلات جلد آ رہی ہیں۔
دی ٹائمز نے عمران خان کے حوالے سے جو آرٹیکل لکھا ہے اس نے پورے یورپ میں دھوم مچا رکھی ہے آرٹیکل کے مطابق عمران خان کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے اس پر برطانوی حکومت کی خاموشی کرمنل ہے ۔
ڈاکٹر شہباز گل