رول آف پروسیجر اس ملک میں تب رہے گا، جب اس ملک میں پارلیمنٹ ہو اور پارلیمنٹ کی بالادستی ہو۔
اسفندیار ولی خان کی 1997ء میں اسمبلی کے فلور پر تاریخی تقریر کا دوٹوک پیغام: پارلیمنٹ کی بالادستی محض نعرہ نہیں، عوام کے حقِ حکمرانی کا احترام ہے۔ جمہوریت تب مضبوط ہوگی جب ��وام کے منتخب ایوان فیصلوں کا حقیقی مرکز ہوں!
"ون یونٹ کی خفیہ دستاویز میں چودھری محمد علی ن�� لکھا : پنجاب؛ سرحد کی بجلی، بلوچستان کے کوئلے و گیس اور سندھ کے وسائل کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اس لئے پاکستان پر حکمرانی پنجاب کی ہونی چاہیے ـ
اگر آپ نے یہ خفیہ دستاویز نہیں پڑھی تو مجھے بتا دیں میں اس کی ایک فوٹو اسٹیٹ کاپی آپ کو بھیج دوں گا ـ پاکستان ٹوٹنے کے باوجود پنجابیوں کی یہ ذہنیت آج بھی برقرار ہے اور وہ ابھی بھی پاکستان کے مامے بننے کی کوشش کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے"
ولی خان کا حنیف رامے کے نام کھلا خط
جولائی 1987 ـ روزنامہ جنگ لاہور۔
جب بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی کی حکومت گرائی گئی تو اُس وقت سرحد میں محمود صاحب اور نیپ کی مشترکہ حکومت تھی،تو انہوں نے احتجاجاً استعفیٰ دےدیا۔ مگر آج پختونخوا میں پوری حکومت چلی گئی اور تحریکِ انصاف کے پنجاب کے ممبران اپنی پارٹی کےلیے خالی احتجاج تک نہ کرسکا۔۔۔
گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ ایک غیر جمہوری عمل ہے ھم اسکی بھرپور مخالفت کرتے ہیں، جمہوری لوگ سنجیدگی سے مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکال سکتے ہیں، لیکن پردے کی پیچھے مقاصد کچھ اور دیکھائی دے رہے ہیں، پختونخوا کو انتظامی طور پر تقسیمِ کرکے امن امان کی آڑ میں وفاقی حکومت اور اسٹبلشمنٹ قبائلی اضلاع سمیت جنوبی اضلاع کے معدنیات کیا اپنے قبضے میں لینا چاہتے ہیں؟ یہ عمل صوبائی خودمختاری پر ڈائریکٹ وار ہے، اور سنگین خلاف ورزی ہیں،
جبکہ دوسرے جانب صوبائی حکومت اپنی سیاسی نادانی کی وجہ سے صوبے کا اختیار وفاق کے حوالہ کررہے ہیں، مقصد سیاسی خودکشی نہیں بلکہ سیاسی شہادت حاصل کرنا ہے لیکن نقصان پورے قوم کا ہوگا اس قدر گھمبیر صورتحال اختیار کرچکی ہیکہ لڑائی لڑنے والوں کو تو اپنے اپنے فائدے نظر آرہے ہیں لیکن نقصان مسلسل عوام کا ہورہا ہے اور مزید ہوگا، صوبہ پختونخوا پہ��ے سے کافی نقصان اٹھا چکا ہے صوبہ پہلے سے معاشی عدم استحکام کا شکار ہے مہنگائی بے روزگاری، اور اوپر سے بدامنی کے واقعات اور اب مزید سیاسی عدم استحکام کی طرف بڑھ جائے گا، جو صوبہ کا موجودہ انتظامی ہرارکی نہیں سنبھال پائے گی، اور عوام مزید مسائل تلے دب جائیں گے، مقتدرہ نے پختونخوا کو سیاسی تجربہ گاہ بنایا دیا ہے، اب یہ صوبہ مزید نئے تجربات کی متحمل نہیں ہوسکتا۔۔!!!
@نثار باز
2017ء میں واحد ہم تھے جو یہ کہہ رہے تھے کہ پولیس ایکٹ کے ذریعے فردِ واحد کو تمام اختیارات تفویض کرنا پولیس فورس میں بہتری کے بجائے بگاڑ پیدا کرے گا۔ اسی طرح اس ایکٹ کے ذریعے صوبے کے کوٹے میں دوسرے صوبوں کے افسران کی پروموشن کی بھی ہم نے مخالفت کی تھی۔
آج بھی جو کچھ کیا جا رہا ہے، اگر اسے عدالت میں چیلنج کیا گیا تو عدالت اسے اڑا کر رکھ دے گی، کیونکہ آج کی مجوزہ ترمیم بھی بظاہر پولیس آرڈر 2002ء کے آرٹیکل 11(1) اور قابلِ اطلاق PSP کیڈر رولز/ایسٹاکوڈ کی روح سے مطابقت نہیں رکھتی۔ اسی طرح وفاقی حکومت کو آئی جی کی واپسی یا ریپیٹری ایشن کے معاملے میں بھی قانونی کردار حاصل ہے۔
��تہ نہیں ان کو یہ مشورے کون دیتا ہے؟
ہمیں وہ دن بھی یاد ہے جب پولیس ایکٹ 2017ء لایا گیا تھا تو کپتان صاحب جلسوں میں کہا کرتے تھے کہ ہم نے پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد کر دیا ہے اور خیبر پختونخوا کی پولیس کو نمبر ون بنا دیا ہے۔
آج کیا کیا جا رہا ہے؟ کیا یہی وہ پولیس اصلاحات ہیں جن کا دعویٰ کیا جاتا تھا؟
May Allah forgive Sheikh Ibrahim Al-Madani, shower him with His boundless mercy, illuminate his grave, and raise his ranks in Jannat al-Firdaws. May Allah accept his lifelong service to Masjid Al-Haram and make every Adhan he called a continuing source of reward for him.
فرا رسیدن #سالروز_استقلال کشور را به هموطنان عزیز تبریک میگویم و با ارج گذاری به ایثار و فداکاری مبارزان راه آزادی و استقلال، یاد و خاطره آنان را گرامی میدارم.
هموطنان گرامی!
هرچند بدست آوردن استقلال و تحمل سختیهای مبارزه برای رسیدن به آن، ارزشمند و باعث اعتبار و افتخار ملت ماست اما حفظ استقلال و بهرهمندی از لوازم آن، در صورتی ممکن است که #افغانستان عزیز یک کشور قوی و متکی بخود باشد در حالیکه قوت یک مملکت بسته به صلح و ثبات پایدار، وحدت ملی و داشتن جوانان آراسته به زیور علم و دانش است.
نیک میدانیم که قوای بشری تعلیم یافته در صورتی تربیت میشود که فرصت آموزش و تعلیم برای تمام فرزندان ما اعم از دختران و پسران فراهم باشد و اتحاد و اتفاق بین مردم در صورتی استحکام مییابد که احساس مالکیت همگانی و باور به سرنوشت مشترک گسترش یابد. افغانستان تنها با پشتوانهٔ انسجام و قوت ملی میتواند از مزایای استقلال برخوردار شده به پیشرفت نایل آید و همزمان، عضو مسئول و با اعتبار جامعه بینالمللی با جایگاه شایسته و قابل احترام در جهان باشد.
بار دیگر، سالروز استقلال افغانستان عزیز را تبریک گفته برای وطن و هموطنان عزتمند خود ��رامش، آسایش و بهروزی استدعا مینمایم.