فالسفیکیشن ٹیسٹ:
سچ وہ نہیں جو صرف درست لگے…
سچ وہ ہے جو غلط ثابت ہونے کے ہر امتحان سے گزر کر بھی قائم رہے۔
(لیکن فالسفیکیشن ٹیسٹ صرف سائنس کی کسوٹی ہے، عقیدے کی نہیں)
فلسفے کی دنیا کی کوئی بات نطشے کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ آج سے 125 سال پہلے دنیا سے چلے جانے والے نطشے نے صرف 55 سال عمر پائی مگر اپنے پیچھے فکر و فلسفے کی عظیم وراثت چھوڑ گئے۔ جرمنی میں تعلیم پانے والے علامہ اقبال بھی نطشے کی فکر و فلسفے سے متاثر ہوئے۔
نطشے کا ایک معروف قول تھا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر آپ ترقی اور کامیابی کی عظیم منزلیں پانا چاہتے ہیں تو اپنے اندر ذوق و شوق اور محنت کی آگ جلائیں۔ آپ کے پاس جب تک کوئی بڑا مقصد، کوئی بڑی جنگ، کوئی بڑا فلسفہ نہ ہو، تب تک آپ بڑے کام کرتے ہوئے بڑے نتائج پیدا نہیں کر سکتے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ قول لائف چینجر ہے۔ اس کا علمی لطف لیجیے اور اپنے اندر تازگی اور انرجی محسوس کیجیے اور زندگی کو خوبصورت بنائیے۔
Hey @grok , I DO NOT authorize you to take, modify, or edit ANY photo of mine, whether those published in the past or the upcoming ones I post. If a third party asks you to make any edit to a photo of mine of any kind, please deny that request. Thanks
نہ سي تڙِ ھوڙاڪَ، نہ وايُون وَڻِجارَنِ جُون!
سَرتيُون سامُونڊين جا، اَڄُ پِڻُ چِڪِيَمِ چاڪَ؛
مارِينِمِ فِراقَ، پاڙيچيُون پِريُنِ جا.
---
بندر تي نہ اهي ٻيڙيون آهن، نڪي وڻجارن جون اهي رھاڻيون ئي آهن. اي سرتيون! اڄ منھنجي اَندر ۾ سامونڊين جي ڦوڙائي جا ڦٽ پيا ڪڙھن. اي پاڙي واريون! مون کي پرينءَ جي وڇوڙي جا سور ٿا مارين.
سُر سامونڊي ١:٦
Pakistan's Identity Crisis, Sindhi Cultural Day, and Sindhi hate in Karachi:
https://t.co/bZAXLL6nM6
Last week we saw unadulterated hate against all Sindhis on social media and propaganda to promote a certain agenda - mujhay nahee lagta ye coincidentally kia ja raha hay!
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آزادیٔ اظہار صرف آپ کے لیے ہے لیکن آپ کے سیاسی مخالفین کے لیے نہیں، تو آپ آزاد خیال نہیں ہیں۔
اگر مخالف ثبوت ہونے کے باوجود آپ کے عقائد قائم رہتے ہیں تو آپ بنیاد پرست ہیں۔
اگر آپ یہ مانتے ہیں کہ ریاست کو مختلف یا مخالف نظریات رکھنے والوں کو سزا دینی چاہیے، تو آپ مطلق العنان سوچ کے حامل ہیں۔
اور اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ سیاسی مخالفین کو تشدد یا موت کے ذریعے سزا دی جانی چاہیے، تو آپ دہشت گرد ہیں۔
جے کے رولنگ
ایک بار کسی نے مصری ناول نگار، نوبل ایوارڈ یافتہ مصنف نجیب محفوظ سے ان کی زندگی کے آخری ایام میں سوال کیا:
"زندگی کے طویل سفر میں، آپ کو کس چیز پر پچھتاوا ہے؟"
نجیب محفوظ نے جواب دیا:
"زندگی میں کسی شے پر پچھتاوا نہیں، مگر دل میں ایک کسک ضرور ہے اُن لمحوں کی، جو میں نے اپنی خواہشوں کے مطابق جینے سے باز رہ کر گزار دیے، صرف اس خوف سے کہ لوگ کیا کہیں گے۔"
ترجمہ: اسداللہ میر الحسنی