@SaleemKhanSafi Acha hua k khan sb jel gaye to unko time mila quran pak parhny ur islam ko parhny janeny ka nhen to osko forsat nhen the k quran parhy our islam k bary jany wo
📢 Exciting day at Rawalpindi Health Dispensary! The President of Global Health @ChrisJElias at @gatesfoundation witnessed @AKUGlobal contribution’s with health dept and stakeholders, to boost routine immunization & accelerate efforts to eradicate polio.@hilbi_imtiaz@sajidsoofi
ایک جنرل کے مشورے پر پارٹی کا اعلان کیا۔ دوسرے جنرل نے ۲۰۱۰ میں لوگوں کو شمولیت بالجبر پرمجبور کرکے ان کی پارٹی بنائی۔ تیسرے جنرل نے ان سے دھرنے کروائے۔ چوتھے جنرل نے ان سے لاک ڈاون کروایا۔ جنرل باجوہ، جنرل فیض اور جنرل آصف غفور نے انہیں اقتدار دلوایا اور پھر ان کی حکومت چلوائی۔ انہوں نے کبھی کوئی بڑا سیاسی فیصلہ کسی جنرل کے حکم کے بغیر کیا نہیں کیا۔ اس لئے شاید وہ ٹھیک کہتے ہیں کہ انہوں نے جنرل کے مشورے پر اسمبلیاں توڑیں لیکن شاید وہ ایک جنرل کے نام کو دوسرے جنرل کے نام سے کنفیوز کرگئے کیونکہ جنرل باجوہ تو نومبر۲۰۲۲ میں ریٹائرڈ ہوگئے تھے اور صوبائی اسمبلیاں عمران نے پانچ ماہ بعد جنوری ۲۰۲۳ میں توڑیں۔ اس لئے عمران خان تصحیح کرکے جنرل کے لفظ کے ساتھ اصل جنرل کا نام بھی بتادیں جن کے کہنے پر انہوں نے اسمبلیاں تحلیل کیں تو مسئلہ حل ہوجائے گا۔ وہ بتانے سے شرماتے یا گھبراتے ہیں تو ان کا کوئی سہولت کار صحافی مشورہ دینے والے اصل اورسہولت کار جنرل کا نام بتادیں۔ اتناتو بتادیں کہ جنرل حاظرسروس ہے یا ریٹائرڈ؟۔ اگست ۲۰۲۲ کے بعد تو جنرل باجوہ کی ان سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ کہیں کوئی موکل تو جنرل باجوہ کے روپ میں مشورہ دینے نہیں آیا تھا؟