Serious Q are being raised regarding the reappointment of the female SHO.Procedings to dismis her from service had reportedly been initiated folowing a departmental inquiry into allegations of coruption and harboring a Afghan natial So whose recommendation lies behind this?
#نیوز
اسلام آباد تھانہ ویمن میں سینئر افسران کی تعیناتی سے گریز، ایس ایچ او مصباح کے رویے پر اہلکاروں میں بے چینی
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کے واحد ویمن تھانے میں انتظامی صورتحال پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق تھانہ ویمن میں تعینات ایس ایچ او مصباح کے مبینہ نامناسب اور غیر پیشہ ورانہ رویے کے باعث متعدد سینئر افسران اور اہلکار وہاں کام کرنے سے گریزاں ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض افسران نے مبینہ طور پر اپنے تبادلوں کے لیے کوششیں کیں، جبکہ تھانے میں موجود دیگر اہلکار بھی تبادلے کے خواہش مند ہیں۔ ذرائع کے مطابق موجودہ صورتحال کی بنیادی وجہ ایس ایچ او مصباح کا مبینہ رویہ اور افسران و ماتحت عملے کے ساتھ طرزِ عمل بتایا جا رہا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق کسی بھی تھانے میں قابل اور مؤثر تفتیشی افسران کی کمی سے مقدمات کی تفتیش متاثر ہوتی ہے اور کیسز التوا کا شکار ہو سکتے ہیں۔ تھانہ ویمن چونکہ وفاقی دارالحکومت کا واحد ویمن تھانہ ہے، اس لیے یہاں تجربہ کار اور قابل افسران کی موجودگی مزید اہمیت رکھتی ہے۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایس ایچ او مصباح کے حوالے سے اسپیشل برانچ کی رپورٹس بھی موجود ہیں، جن میں ان کی کارکردگی اور رویے سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ایسی صورتحال میں ایس ایس پی آپریشنز قاضی علی کی جانب سے ایک متنازعہ قرار دی جانے والی افسر کو تھانہ ویمن کا ایس ایچ او برقرار رکھنا بھی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔پولیس حلقوں میں امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اعلیٰ حکام صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے جلد تھانہ ویمن میں ایک قابل، تجربہ کار اور ٹیم کو ساتھ لے کر چلنے والے افسر کو ایس ایچ او تعینات کریں گے، تاکہ تھانے کی کارکردگی اور زیرِ التوا مقدمات کی تفتیش بہتر ہو سکےذ��ائع نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو احتجاجاً اہلکاروں کی جانب سے بھی تھانے میں ڈیوٹی سے گریز کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، جو وفاقی دارالحکومت کے واحد ویمن تھانے کے لیے انتہائی تشویشناک امر ہوگا۔
@ICT_Police
@MohsinnaqviC42
#نیوز
اسلام آباد تھانہ ویمن میں سینئر افسران کی تعیناتی سے گریز، ایس ایچ او مصباح کے رویے پر اہلکاروں میں بے چینی
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کے واحد ویمن تھانے میں انتظامی صورتحال پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق تھانہ ویمن میں تعینات ایس ایچ او مصباح کے مبینہ نامناسب اور غیر پیشہ ورانہ رویے کے باعث متعدد سینئر افسران اور اہلکار وہاں کام کرنے سے گریزاں ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض افسران نے مبینہ طور پر اپنے تبادلوں کے لیے کوششیں کیں، جبکہ تھانے میں موجود دیگر اہلکار بھی تبادلے کے خواہش مند ہیں۔ ذرائع کے مطابق موجودہ صورتحال کی بنیادی وجہ ایس ایچ او مصباح کا مبینہ رویہ اور افسران و ماتحت عملے کے ساتھ طرزِ عمل بتایا جا رہا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق کسی بھی تھانے میں قابل اور مؤثر تفتیشی افسران کی کمی سے مقدمات کی تفتیش متاثر ہوتی ہے اور کیسز التوا کا شکار ہو سکتے ہیں۔ تھانہ ویمن چونکہ وفاقی دارالحکومت کا واحد ویمن تھانہ ہے، اس لیے یہاں تجربہ کار اور قابل افسران کی موجودگی مزید اہمیت رکھتی ہے۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایس ایچ او مصباح کے حوالے سے اسپیشل برانچ کی رپورٹس بھی موجود ہیں، جن میں ان کی کارکردگی اور رویے سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدی�� نہیں ہو سکی۔ایسی صورتحال میں ایس ایس پی آپریشنز قاضی علی کی جانب سے ایک متنازعہ قرار دی جانے والی افسر کو تھانہ ویمن کا ایس ایچ او برقرار رکھنا بھی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔پولیس حلقوں میں امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اعلیٰ حکام صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے جلد تھانہ ویمن میں ایک قابل، تجربہ کار اور ٹیم کو ساتھ لے کر چلنے والے افسر کو ایس ایچ او تعینات کریں گے، تاکہ تھانے کی کارکردگی اور زیرِ التوا مقدمات کی تفتیش بہتر ہو سکےذرائع نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو احتجاجاً اہلکاروں کی جانب سے بھی تھانے میں ڈیوٹی سے گریز کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، ج�� وفاقی دارالحکومت کے واحد ویمن تھانے کے لیے انتہائی تشویشناک امر ہوگا۔
@ICT_Police
@MohsinnaqviC42
پی ٹی آئی والے فضول میں اپنا ٹائم برباد کر رہے ہے
موجودہ حکومت کے آخری بجٹ کے بعد عمران خان کو رہا کرنا ہے یا نہیں فیصلہ اس وقت ہونا ہے ۔
عمران خان کی وجہ سے نا نجانے کتنے لوگ صحافی کتنے لوگ سیاست دان بن گے ۔ بہت سارے وہ لوگ بھی ہے جنہوں نے خود کا اغوا کروا کر نام بنا لیا ۔
میں بہت خوش ہوں میرا گھر ڈوب گیا ہے،
میں بہت خوش ہوں کہ ہمارے حکمران دنیا کے مسائل حل کر رہے ہیں سٹاک ایکسچینج اوپر جا ��ہی ہے
عوام اب اس سے زیادہ حکمرانوں کا ساتھ کیسے دے
اسلام آباد: @ICT_Police کا مثبت رویہ، پولیس وین سے ٹکرانے والے ہونہار بچے کی حوصلہ افزائی
اسلام آباد: گزشتہ روز ایک ہونہار بچے نے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے تیار کردہ کار چلانے کا تجربہ کیا، تاہم بٹن دبانے میں معمولی غلطی کے باعث ریموٹ کنٹرول کار اسلام آباد پولیس کی ایک وین سے جا ٹکرائی۔واقعے پر #SP اسلام آباد #DrAyaz نے ��چے کو اپنے پاس بلایا اور ڈانٹ ڈپٹ یا کارروائی کے بجائے اس کی صلاحیتوں اور محنت کو سراہتے ہوئے حوصلہ افزائی کی۔بچے کی جانب سے تیار کردہ ریموٹ کنٹرول کار اس کی محنت اور تخلیقی صلاحیتوں کی عکاس تھی۔ معمولی غلطی کو بنیاد بنا کر بچے کے خلاف مقدمہ درج کرنے یا اس کا مستقبل متاثر کرنے کے بجائے پولیس افسر نے اسے مثبت انداز میں آگے بڑھنے کی ترغیب دی۔اسلام آباد پولیس کا یہ رویہ قابلِ تحسین ہے کہ ایک محنتی اور باصلاحیت بچے کی غلطی کو سزا کے بجائے سیکھنے کا موقع سمجھا گیا۔ ایسے مثبت اقدامات ہی نوجوان نسل میں اعتماد، تخلیقی صلاحیت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے مثبت سو�� پیدا کرتے ہیں۔
@MohsinnaqviC42
ق۔ت۔ل کیا ، ویزہ لگوایا اور بیرون ملک کام کرتا رہا پھر واپس آیا اور شادی بھی کی ،لیکن ایک روز پکڑا ہی گیا
۔۔۔ 2013 میں 18 سالہ لڑکے کو ق۔ت۔ل کرکے اشتہاری ہونے والے مرکزی ملزم کی 2026 میں گرفتاری کی کہانی ایس ایچ او باٹا پور صدیق بھٹی کی زبانی ۔۔۔۔
اس اشتہاری نے 2013 میں بچوں کی لڑائی پر ایک نوجوان کو گو۔لیاں ماریں اور فرار ہو گیا ، پرچہ درج ہوا اور 5 لوگ نامزد ہوئے لیکن ق۔ت۔ل جس نے کیا تھا وہ فرار ہو گیا تھا ، پولیس نے کوشش کی لیکن وہ شخص پکڑا نہ جا سکا ، اب جو کہانی معلوم ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ یہ شخص ق۔ت۔ل کرنے کے بعد شیخوپورہ چلا گیا اور ایک ڈیرے پر چھپ کررہنے کے ساتھ بیرون ملک جانے کی کوشش کرنے لگا اسکے کچھ دوستوں عزیزوں نے اسکی مدد کی اور چند ماہ کے اندر یہ سعودی عرب چلا گیا ۔ اس شخص نے وہاں 5 سال مزدوری کی ، پیسے اکٹھے کیے اور ایک روز واپس پاکستان آگیا اور اوکاڑہ میں ایک دوردراز نواحی علاقے میں زرعی زمین خرید کرکھیتی باڑی شروع کردی ۔ 2022 میں اس نے خاموشی سے اپنی پھوپھی کی بیٹی سے شادی کر لی ۔ اس شخص کی چالاکی اور احتیاط دیکھیں کہ اپنے نام پر سم نہ نکلوائی ہمیشہ کسی اور جاننے والے کی سم استعمال کرتا زمین بھی اس نے اپنے ایک قریبی رشتہ دار کے نام پر خریدی کبھی کسی سرکاری دفتر نہ گیا ۔ اور کامیابی سے چھپ کر زندگی گزارتا رہا ۔ شادی کے بعد اسکی اولاد بھی ہوئی ، اب وہ ایک طرح سے بے فکر ہو گیا کہ کیس ٹھنڈا ہو چکا ہے ۔ خاص بات یہ کہ ق۔ت۔ل کرنے کے بعد سے اب 2026 میں گرفتاری تک وہ لاہور نہ آیا ۔ لیکن اب اسے لگا کہ کوئی خطرہ نہیں ۔ ادھر اتنے سالوں میں پولیس بظاہر اس کیس کو بھول چکی تھی لیکن اعلیٰ افسران کی ایک عادت ہوتی ہے اور وہ اسے اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ پرانے کیسوں کو و��تا فوقتا زندہ کیا جاتا ہے اور اشتہاری ملزمان کو ٹریس کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ایسی ہی ایک ہدایت اعلیٰ افسران نے ایس ایچ او باٹا پور صدیق بھٹی کو دی اور انہوں نے اس کیس پر کام شروع کیا ۔ اس شخص کا کہیں کوئی ریکارڈ سامنے نہیں تھا کہ جدید ٹیکنالوجی سے مدد لی جاتی چنانچہ اس اشتہاری کے قریبی عزیزوں کی نقل وحرکت اور رابطوں پر نظر رکھی گئی ، کچھ مشکوک اور نامعلوم رابطوں پر جب فوکس کیا گیا اور کچھ کال ریکارڈ سامنے آئے ، ایک روز پولیس کو اطلاع ملی کہ ایک مشکوک شخص لاہور باٹاپور میں اس اشتہاری کے گھر میں موجود ہے قوی امکان ہے کہ وہی مذکورہ اشتہاری ہے ، پولیس نے نہایت خفیہ طریقے سے ریڈ کیا اور 13 سال سے اشتہاری اس شخص کو گرفتار کر لیا ۔۔۔۔ یوں اعلیٰ پولیس حکام کی نگرانی کی وجہ سے لاہور کا ایک پرانا اشتہاری ملزم سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا گیا جس نے اوپر مذکورہ ساری کہانی الف سے ی تک بیان کردی اور اپنے جرم کا اعتراف بھی کر لیا ۔ باٹا پور پولیس اس حوالے سے مزید کارروائی میں مصروف ہے ۔
اسلام آباد@ICT_Police متاثرہ خاتون اور اس کے نومولود بچے کی خبر منظرِ عام پر آنے کے بعد ایس پی سٹی ڈاکٹر ایاز، ایس ایچ او وومن #MisbahShebaz کے ہمراہ متاثرہ خاندان سے ملاقات کے لیے پہنچے۔ انہوں نے متاثرہ خاتون اور اس کے اہلِ خانہ سے ہمدردی اور احترام کے ساتھ گفتگو کی، ان کے مسائل سنے اور انہیں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ایس پی سٹی ڈاکٹر ایاز کی کاوشوں سے مذاکرات کے ذریعے متاثرہ خاندان کو 2 لاکھ روپے مالی امداد، 6 ماہ کے گھر کا کرایہ، کپڑے اور دیگر ضروری سامان فراہم کیا گیا تاکہ وہ باعزت طریقے سے اپنی زندگی کا نیا آغاز کر سکیں۔ایس پی سٹی #DrAyaz کا یہ اقدام صرف ایک انتظامی کارروائی نہیں بلکہ انسانیت، احساسِ ذمہ داری اور عوامی خدمت کی ایک روشن مثال ہے۔ ایسے افسران ہی عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد کو مضبوط بناتے ہیں۔ ڈاکٹر ایاز ان افسران میں شامل ہیں جو صرف دفتر تک محدود نہیں رہتے بلکہ شہر کے مختلف علاقوں میں خود موجود ہو کر عوام کے مسائل سنتے اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کرتے ہیں۔اسی طرح #SHO وومن مصباح شہباز کی اس موقع پر موجودگی اور متاثرہ خاتون کے ساتھ ہمدردانہ رویہ بھی قابلِ تحسین ہے، جس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ پولیس عوام کی خدمت اور مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑی ہونے کے اپنے فرض کو بخوبی نبھا رہی ہے۔ #SP ڈاکٹر ایاز اور ان کی ٹیم کا یہ انسانی ہمدردی پر مبنی اقدام خراجِ تحسین کا مستحق ہے اور امید کی جانی چاہیے کہ دیگر افسران بھی اسی جذبۂ خدمت، احساسِ ذمہ داری اور انسان دوستی کے ساتھ عوام کی مدد کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔
@MohsinnaqviC42@SohailAshrafGor
اسلام آباد: @ICT_Police ایک سب انسپکٹر یورپ کے دورے کرتا ہے، پھر اپنے بچوں کو بھی بیرونِ ملک بہترین یونیورسٹیوں میں تعلیم دلوا رہا ہے، جبکہ موصوف عرصۂ دراز سے #Reader کی پوسٹ پر برجمان ہے۔ ذرائع کے مطابق انکوائریز کو پینڈنگ میں رکھنا، سسپینڈ جوانوں کو دیوار سے لگانا، ذہنی اذیت دے کر بھاری رشوت لینا موصوف کا اہم پیشہ بن چکا ہے۔یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کسی کے خلاف انکوائری ہو تو اسے دبا کر، چھپا کر رکھا جاتا ہے، اور جب کسی آفیسر کی پروموشن کا وقت آئے تو وہی انکوائری سامنے لا کر بلیک میل کرنا موصوف کا پسندیدہ ہتھکنڈہ ہے۔ اسلام آباد پولیس #SpecialBranch نے آخر آنکھے بند کیوں رکھی ہے؟
کیا موصوف کو احتساب سے استثنا حاصل ہے؟
کیا اسلام آباد پولیس کی انٹیلیجنس ونگ اتنی کمزور ہو چکی ہے کہ ایک سب انسپکٹر کے بارے میں اتنا بھی معلوم نہیں کر سکتی کہ یہ کالا دھن کہاں سے آتا ہے، کیسے یورپ کے دورے ہوتے ہیں، اور بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کے اخراجات کیسے پورے کیے جا رہے ہیں؟
امید ہے آئی جی اسلام آباد #AliNasirRizvi اس سنگین معاملے پر سخت ایکشن لیں گے۔ جس طرح موصوف نے جوانوں کو ذہنی اذیت دی، سسپینڈ اہلکاروں کو دباؤ میں رکھا، اور ایک “جگا ٹیکس” جیسا نظام رائج کیا، اس کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے۔ اسلام آباد پولیس کے ادارے کی ساکھ، جوانوں کے وقار، اور احتساب کے نظام کے لیے ضروری ہے کہ ایسے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ اختیارات کے ناجائز استعمال، بلیک میلنگ، اور مبینہ کرپشن کا راستہ روکا جا سکے۔
@MohsinnaqviC42
اسلام آباد میں #COMSAT یونیورسٹی کے سامنے نالے اور اطراف کی سرکاری اراضی سے متعلق سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں۔ کیا نالے کی حدود تبدیل کی گئیں؟ کیا @CDAthecapital کی کروڑوں روپے مالیت کی زمین پر قبضے ہوئے؟ اگر ایسا ہوا تو ذمہ دار کون ہیں؟ ذرائع کے مطابق ماضی میں اس معاملے پر ایف آئی آرز اور کیسز بھی درج ہوئے، پھر سب کچھ خاموش کیوں ہوگیا؟ وفاقی حکومت کو اگر اربوں روپے کا نقصان پہنچا ہے تو اس کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں، اور اگر کسی سرکاری اہلکار نے قبضہ مافیا کی معاونت کی ہے تو اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے
@MohsinnaqviC42@CMShehbaz@OfficialDGISPR
خان پور
پسند کی شادی کرنے والی خاتون کو م��ینہ طور پر ڈی ایس پی آفس خان پور کے باہر زبردستی ساتھ لے جانے کی کوشش ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
خاتون کا کہنا ہے کہ وہ عدالت میں دفعہ 164 کے تحت اپنے شوہر کے حق میں بیان دے چکی ہے، اس کے باوجود والدین اور رشتہ داروں نے مبینہ طور پر اسے زبردستی لے جانے کی کوشش کی، جبکہ اس دوران ایک خاتون پولیس اہلکار کے ساتھ بھی ہاتھا پائی ہوئی۔
اسلام آباد: @ICT_Police تھانہ شہزاد ٹاؤن کی حدود سے 14 سالہ بچہ اغوا، شہزاد ٹاؤن پولیس ہاتھ پر ہاتھ رکھے انتظار میں۔ اہلِ خانہ کے مطابق اغوا کاروں کی جانب سے فون کال بھی آ چکی ہے، مگر پولیس تاحال مؤثر کارروائی کرتی نظر نہیں آ رہی۔ اگر اس سستی اور غفلت کے باعث، خدا نہ خواستہ، بچے کی جان کو کوئی نقصان پہنچتا ہے تو اس کی ذمہ داری کس کی ہوگی؟ متاثرین کا اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس کا مطالبہ اور بچے کی بحفاظت بازیابی یقینی بنائیں پر زور