پنجابیوں سے بطورِ قوم کوئی نفرت نہیں۔ اگرچہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں پنجاب کی اجارہ داری ہے۔ بلوچستان، خیبر پختونخوا، کشمیر سے لے کر گلگت تک ہمیں بارہا یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ پنجاب کے “صحافی” اور “دانشور” دیگر اقوام کو یہ بتاتے ہیں کہ ان کی بھلائی اور ترقی کس چیز میں ہے، اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ضروری ہے ان کی باتوں کی پیروی کی جائے، بصورتِ دیگر انہیں غدار قرار دے دیا جاتا ہے۔
بلوچستان میں حکومت کس کی ہوگی، وزیرِ اعلیٰ کون بنے گا، اس کا فیصلہ پنجاب کے جنرلز اور اشرافیہ کریں گے، اور اگر بلوچستان کے لوگ اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کریں تو انہیں بھارتی ایجنٹ قرار دے دیا جاتا ہے۔
حالیہ دنوں کشمیر میں جب مقامی لوگوں نے احتجاج کیا تو سب سے پہلے پنجابی دانشور، جیسے چیمہ، ابصار عالم، منیب اور دیگر، میدان میں آ گئے اور یہ بتانے لگے کہ کشمیر کے لیے کیا درست ہے۔ اس دوران ایسا تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ گویا احتجاج کرنے والے کشمیری بھارتی ایجنٹ ہیں، جبکہ ریاستی پالیسیوں پر تنقید یا اختلاف کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے اسے مشکوک بنا کر پیش کیا گیا۔
اگر صرف چند سال کے لیے پنجابی اشرافیہ اور رائے ساز دیگر اقوام کے معاملات میں مداخلت سے گریز کریں، اور ہر مسئلے پر بلا طلب سرپرستی یا “مفت کے بابے” بننے سے اجتناب کریں، تو شاید بہت سی غلط فہمیاں خود ہی دور ہو جائیں، اور یہ سوال بھی اپنی اہمیت کھو دے کہ آخر بعض لوگ پنجابیوں کے بارے میں منفی جذبات کیوں رکھتے ہیں
@YousufNazar@suhailswarraich یہ ۱۹۴۶ میں قیام پاکستان کی مخالف یونینسٹ پارٹی کو جتوا کر بعد میں سب سے بڑے پاکستانی بن گئے غداری کے فتوے جاری کرنے لگے حق مانگنے والے کی تذلیل کرنے لگے آج کے دور کے سب سے بڑے منافقین ہیں
مظفرآباد مکمل طور پر بند ہے
لگاؤ زور تم بھی
ہم بھی دیکھتے ہیں کیسے شٹر اٹھاتے ہو
مطالبات پر عمل درآمد نہیں ہو گا تو نہیں کھلے گا مظفرآباد نہیں کھلنے دیں گے انشاءاللہ
کون بول رہا تھا مظفرآباد آج کُھلے گا
انتظامیہ پریس کانفرنس کرنے والے تاجروں کو ڈھونڈ رہی ہے😹
دکانیں کھولنے کے لیے مسجدوں میں اعلان جاری ہیں
مگر ایک نعرہ ایک ہی آواز
بند مطلب بند
ہر فرقے کا یوتھیا اپنی حکومت کی کارکردگی کے بارے میں انتہائی مطمئن ہوتا ہے اور اسے انسانی تہذیب و تمدّن کے ارتقا کی منطقی معراج سمجھتا ہے۔
ڈرافٹس میں سے ہے۔
ہیومن رائٹس کونسل پاکستان وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف کے اس بیان پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کرتی ہے جس میں راولاکوٹ اور میرپور کے عوام کی کشمیری شناخت کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ رائے دی گئی۔
ہم سمجھتے ہیں کہ کسی بھی علاقے یا برادری کی شناخت، ثقافت یا زبان کے بارے میں ایسے بیانات قومی یکجہتی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور غیر ضروری تقسیم کا باعث بن سکتے ہیں۔ ریاستی عہدوں پر موجود شخصیات کو ایسے معاملات پر انتہائی ذمہ داری، احتیاط اور احترام کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
ہیومن رائٹس کونسل پاکستان حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس معاملے پر مناسب وضاحت پیش کی جائے اور آئندہ ایسے بیانات سے گریز کو یقینی بنایا جائے تاکہ قومی اتحاد، باہمی احترام اور تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ برقرار رہے۔
انسانی وقار، قومی اتحاد اور بنیادی حقوق کا احترام ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
ہیومن رائٹس کونسل پاکستان (HRCPAKISTAN)
#خواجہ_آصف
#راولاکوٹ
#کشمیری_شناخت
#انسانی_حقوق
#قومی_اتحاد
#HRCPAKISTAN
پٹرول مافیا کا ساتھ دے کر شہباز شریف نے عمران خان کے بیانئے کو تقویت پہنچائی ہے کہ ہمارے حکمران چور ہیں ہم لوگوں کو کہتے ہیں کہ عمران خان کی باتوں پر یقین نہ کریں لیکن وزیر اعظم اور وزیر پٹرولیم اپنے فعل سے عمران کو سچا ثابت کررہے ہیں
مُظفرآباد صدر انجمن تاجران مدینہ مارکیٹ راجہ ابرار کو ابھی تھوڑی دیر پہلے گھر سے زبردستی حراست میں لے لیا گیا ہے ،
باقی بھائیوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے
آخر کب تک یہ ظُلم کرو گے!
بلوچ تین مختلف زبانیں بولتے ہیں۔ ان کی زمیں خلیج عمان کےساحلوں سے کوہ سلیمان کے بنجر پہاڑوں اور دریائے سندھ کے میدانوں تک پھیلی ہے۔ کیا کوئی بلوچ جس کا دادا مائیگریٹ کرکے سیالکوٹ آیا تھا یہ فیصلہ کرے گا کہ اصلی بلوچ کون ہے اور کون نقلی ہے؟
میں نے صحافت چھوڑ دی ہےمیں نے پہلے بھی کہا ہے،ابصار عالم
آپ واپس بھی تو آسکتے ہیں۔۔۔رپورٹر
میں نہیں کرونگا آپ ریکارڈ کرکے رکھ دیں۔۔۔یکم اگست 2016 کو ابصار عالم کا بطور چیئرمین پیمرا بیان۔۔۔
اب کس منہ سے واپس آئے ہیں؟