جو ہو ذلت پسند، اس کا مقدر ہے ذلت
۹۰۰ دن سے زیادہ غیر قانونی قید میں۔
عمران خان کو رات کے اندھیرے میں خفیہ طور پر منتقل کرنا،
خاندان، وکیل اور عدالت کو خبر نہ دینا۔
یہ “قانونی کارروائی” نہیں، یہ ذہنی مریض کی چنتخب حکومت کی مرضی کا قبضہ ہے۔
چنتخب حکمرانوں کا جھوٹ کا دھند ہے،
یہی تو قوم کو اپنے وجود سے بیگانہ کرتا ہے۔
کیا ہماری رضا جھوٹ، ڈھونگ اور ظلم کے خلاف ہے؟
یا ہم بھی خاموش غلامی میں راضی ہیں؟
یہ صرف عمران خان کا معاملہ نہیں۔
یہ ہر اس شہری کا معاملہ ہے جسے کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ، بغیر اطلاع، بغیر شفافیت کے جکڑا جا سکتا ہے، جکڑا جاتا ہے، اور “فوجی عدالتوں” میں غیر آئینی طریقے سے قید کیا۔ آج وہ ہیں۔ کل آپ ہونگے۔ باری باری سب کی باری۔
إِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا لِلطَّاغِينَ مَآبًا
“بے شک جہنم ہمیشہ سے ہی انتظار گاہ رہی ہے، اور طاغوت (ظالم و کافر) کے لیے ٹھکانہ ہے۔”
یہ ہر اس شہری کا بھی معاملہ ہے جو اللّہ کو بھول کر ایک فرعون کے یاتھ پر بیت لیتا ہے، شرک کرتا ہے اور اپنے ذاتی دنیاوی مفاد کے لیے، اپنا قلم، اپنا جسم، اپنا شعور اور اپنی روح کو چند اشرفیوں یا پلاٹ کے لیے بیچتا ہے تاکہ اس کی بیوی بچے اس دنیا میں عیش کریں، اور آخرت کو جھٹلاتے ہیں
وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ﴾
“اور جنہوں نے (اس کو) قبول نہ کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا، وہ دوزخ میں جانے والے ہیں (اور) وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے”
عدل اور امانت، انسانی زندگی کی بنیاد ہیں:
“إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا”
(اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کو دو)
وہ لوگ جو عمران خان کے نام پر ووٹ لے کر آئے اور اب اقتدار میں “گیدڑوں کی طرح” مزے لوٹ رہے ہیں۔
یہاں کوئی “سیاسی اختلاف” نہیں،
ووٹ عوام کی امانت
یہ عوام سے خیانت ہے۔
اور اگر کوئی انسان ظلم کے خلاف نہیں اٹھتا،
تو قرآن کی زبان میں وہ “خاموشی” بھی سوالیہ ہے:
“وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِأَنفُسِهِمْ”
(اور کافر نہ سمجھیں کہ ہم انہیں بہتر وقت دے رہے ہیں)
یہ “وقت” اگر ظلم کے لیے استعمال ہو، تو یہ کسی کے لیے خیر نہیں۔
“خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ”
اپنی عزت، اپنی شان، اپنی آزادی، اللہ کے نام کے سوا کسی کے سامنے سر نہیں جھکانا۔
فرعون کا قصہ ہمارے سامنے ہے، جو اپنی طاقت پر فخر کرتا تھا، لیکن آخرکار پانی میں غرق ہوا۔
“فَأَغْرَقْنَاهُ وَأَتْبَعْنَاهُ بِقَوْمٍ آخَرِينَ”
(پھر ہم نے اسے غرق کر دیا اور اس کے بعد دوسروں کو بھی سزا دی)
“خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ”
اپنی عزت، اپنی شان، اپنی آزادی
اللہ کے نام کے سوا کسی کے سامنے سر نہیں جھکانا۔
مگر جو ہو ذلت پسند، اس کا مقدر ہے ذلت
افضل مجوکہ کے گھٹیا فیصلے سے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی عزت ، احترام اور مقام میں اضافہ ہوا ہے ،
ہر غیرت مند اور محب وطن پاکستانی ان دو عظیم وکلا کے ساتھ کھڑا ہے ،
افضل مجوکہ کا فیصلہ جسٹس یحییٰ خان کی عدالتوں کا اصل چہرہ ہے بس
ایمان مزاری اور ہادی علی کو ناحق گرفتار کرنا اور عدالت کا ناانصافی پر مبنی فیصلہ کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔ عدالتیں صرف فیصلے ہی کر رہی ہے انصاف نہیں۔ آئین میں بولنے کی آزادی ہے لیکن طاقتور کیلئے آئین و قانون صرف کاغذ کا ٹکڑا ہے۔کمزور ہمیشہ مکھڑی کے اس جالے میں پھنس جاتا ہے۔
وکلاء کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے۔ ہم سیاسی جماعت ہے اور کسی سے اپنے ساتھ ظلم جبر فسطائیت اور غیر جمہوری رویے پر خاموش رہنے کا گلہ نہیں کرتے لیکن جیسے صحافیوں میں سے پہلے ارشد شریف کو شہید کیا گیا اور تمام صحافی اکٹھا نہیں ہوئے، آواز نہیں اُٹھائی تو باری باری سب کی باری آئی۔ اس طرح پہلے انتظار پنجوتہ کو اغوا کیا گیا سب خاموش رہے اور اب ایمان اور ہادی کو۔ اگر اب بھی وکلاء برادری خاموش رہی تو اگلی باری ان میں سے ہی کسی کی ہوگی۔ تب کوئی آواز یا اقدام کام نہیں آئے گا۔
وردی کے تقدس کا حوالہ دینے والے!
یہ بتا
کیا حلف قرآن پر تھا
یا کرسی پر؟
تو نے ہاتھ اللہ کے کلام پر رکھا
اور دل طاقت کے ایوان میں گروی رکھ دیا
یہ کیسی سپاہ گری ہے
جس میں حکم کی تعمیل تو ہے
مگر حق کی پاسبانی نہیں؟
اگر فوج کا کام صرف اطاعت ہوتا
تو فرعون کی فوج بھی منظم تھی
پھر موسیٰؑ حق پر کیوں ٹھہرے؟
تو کہتا ہے: “ڈسیپلن”
مگر قرآن کہتا ہے:
وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنسَاهُمْ أَنفُسَهُمْ
(وہ نہ بنو جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا،
تو اللہ نے انہیں خود ان سے غافل کر دیا)
اے عہد کے محافظ کہلانے والے!
جب تو نے قوم کے اعتماد کو
فائلوں، احکامات اور خاموشی میں دفن کیا
تو تو نے صرف آئین نہیں توڑا
تو نے اپنی روح پر بھی کورٹ مارشل لگا دیا۔
رسولِ اکرم ﷺ کا فیصلہ واضح ہے:
“جب امانت ضائع کی جائے، تو قیامت کا انتظار کرو”
(صحیح بخاری)
اور امانت
صرف ہتھیار کی حفاظت نہیں ہوتی
قوم کی امید بھی امانت ہوتی ہے۔
وہ فوج جو حق کے بجائے
طاقت کی رکھوالی کرے
وہ سرحدوں کی نہیں
ظلم کی محافظ بن جاتی ہے۔
قومیں دشمن کی گولی سے کم
اپنے محافظوں کی بے وفائی سے
زیادہ ٹوٹتی ہیں۔
اب فیصلہ تیرے ہاتھ میں ہے:
یا تو وردی کو حق کی علامت بنا
یا تاریخ کے حاشیے میں
ایک عبرتناک باب بن جا
کیونکہ جب سپاہی عہد توڑ دے
تو زوال صرف اقتدار کا نہیں
ریاست کا ہوتا ہے۔
What action has the Islamabad Bar Council taken on adv being dragged from premises of court!?! Shamelessness & tacit acquiesce. Wait till its your turn!
بشریٰ بی بی باپردہ، باحیا اور غیر سیاسی خاتون ہیں ان کی فیملی بھی ملاقات نہیں کروائی جاتی۔ عمران خان کی بہنوں کو بھی نہیں ملنے دیا جاتا کہ وہ باہر آکر سیاسی بات کرتی ہیں۔ میں اس جمعرات کو اڈیالہ جیل آرہا ہوں، سہیل آفریدی
ایمان مزاری رو رہی تھیں، کہہ رہی تھیں ظلم میرے ساتھ نہیں ہو رہا، ظلم ان کے ساتھ ہو رہا ہے جن کے میں کیسز لڑ رہی ہوں، میں ان تمام خاندانوں سے معافی مانگتی ہوں، ایمان مزاری کے ساتھ تین راتیں واجد گیلانی کے آفس میں پناہ لیتے ہوئے ساتھ دینے والی خاتون وکیل کی باتیں سنیں، مکمل وڈیو کیلئے لنک پر کلک کریں!!!
https://t.co/B627gD1Hio
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی جھگڑا سٹاپ پہنچ گئے۔
جھگڑا گاؤں کے کارکنان اور عوام نے تیمور خان جھگڑا کی قیادت میں جوش و خروش کے ساتھ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کا شاندار اور پُرجوش استقبال کیا۔
"آج فلسطین والوں نے زید زمان حامد کو بہت 'مس' کیا! کب جا رہا ہے قسطنطنیہ سے غرناطہ اور غرناطہ سے بیت المقدس؟"راشد محمود بنگش
@RashidMkhan79
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
Reports from Adiala Jail regarding the detention of Imaan Hazir and Hadi Ali are deeply troubling. Denial of food and water amounts to a grave violation of Pakistan’s obligations under international human rights law and the domestic laws regarding treatment of detainees. Getting jailed does not strip detainees of their basic human rights, nor does it absolve the state of its responsibility to ensure humane treatment.
Imaan Mazari confirms being tortured in jail and shown her distrust on judge trying her case. Imaan was not produced in the court today due to fear of media presence.
When a nation develops such passion ( jazba) to attain their freedom, then no army can stop an idea whose time has come. Everyone must come out at 5.30 pm from their houses to stand with the Constitution and the CJP.