یہ تو ناقابلِ یقین ہے! 😱
۔ChatGBT اب چند ہی سیکنڈز میں آپ کے لیے گرافکس ڈیزائن کر سکتا ہے Canva سے بھی بہتر اور شاندار ڈیزائن کر سکتا ہے
یہ پرامپٹس ابھی استعمال کریں👇
⚠️ ایک آلو آپ کی شوگر اتنی ہی تیزی سے بڑھاتا ہے جتنی کہ 7 چمچ چینی
1 آلو = 7 چمچ چینی
⚠️ اسپیگھٹی یا نوڈلز کی ایک پلیٹ 9 چمچ چینی کے برابر آپ کی شوگر بڑھاتی ہے
1 پلیٹ = 9 چمچ چینی
⚠️ آدھی پلیٹ چاول 6 چمچ چینی کے برابر شوگر بڑھاتے ہیں
1/2 پلیٹ چاول = 6 چمچ چینی
اگر آپ اپنی شوگر کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں، شوگر کی تباہی سے اپنے گردے، ٹانگیں،۔ محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو ان چینی کے ڈھیر سے پرہیز فرض ہے۔
اچھے تخلیقی کام کو ضرور دیکھا اور سراہا کریں اسطرح کی سوچ ویڈیو میوزک اور اسکی عکاسی پر بہت دن لگتے ہیں 🙏
نیچے اکاؤنٹ مینشن کررہا ہوں یہ ویڈیو اس دوست کی کاوش ہے اگر ویڈیو اچھی لگے تو بھائی فالو کرلیں کوئی نقصان نہیں ہوگا میری گارنٹی ہے @AshuftaaSar 🙏🙏
🚨 روشم شہید کو انصاف دو
آج روشم شہید کے والد روئدار حسین کی سڑک پر احتجاج کرتے ہوئے ساتویں رات گزرنے والی ہے، مگر افسوس! سائیں سرکار کی پولیس کے دل میں ابھی تک ترس نہیں آیا۔
آٹھ بہنوں کا اکلوتا بھائی، ایک بےبس باپ کا واحد سہارا، منگھو پیر میں پولیس کے غلط انفارمیشن کے سبب پولیس کے ہاتھوں شہید ہوگیا۔
گزشتہ 6 روز سے ایک بےبس باپ اپنے اکلوتے بیٹے کے جسدِ خاکی کے ہمراہ دھرنا دیے بیٹھا ہے، مگر افسوس کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔
یہ کیسی ریاست ہے جہاں ایک غریب باپ 6 دن تک اپنے جوان بیٹے کی لاش کے ساتھ انصاف کا منتظر رہے؟
اگر یہی واقعہ کسی بااثر جاگیردار، سرمایہ دار یا طاقتور شخصیت کے گھر میں پیش آیا ہوتا تو خدا کی قسم، پوری ریاست اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتی اور ملزمان کو ڈھونڈ نکالتی۔
غریب کا خون آخر کب تک سستا سمجھا جاتا رہے گا؟
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کی شفاف اور فوری تحقیقات کی جائیں، ملزمان کو گرفتار کیا جائے اور اس بےبس باپ کو انصاف فراہم کیا جائے۔
خاموشی بھی ظلم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔
کیا آپ مظلوم کی آواز بنیں گے؟
ہیلتھ کارڈ لانے کا مقصد یہ تھا کہ سرکاری ہسپتال اب بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں ، آدھے مریض پرائیویٹ ہسپتالوں میں جانے چاہئیں لیکن عمران خان کی نفرت میں ہیلتھ کارڈ ختم کردیا گیا
ہیلتھ کارڈ کے لیے کہا گیا کہ پیسے نہیں ہیں لیکن میڈیا کو پچاس ارب سے زائد دینے ، گیارہ ارب کا جہاز خریدنے ، آئی پی پیز کو ہزار ہا ارب دینے ، آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہیں بڑھانے ، اراکین اسمبلئ، اسپیکر ، چیئرمین سینٹ اور وزرا کی تنخواہیں بڑھانے کے لئے پیسہ موجود ہے ، یہ اشرافیہ کا نظام ہے
اگر کوئی عریاں تصویر بنانے کے لیے AI یا فوٹو شاپ سے آپ کی تصویر میں ترمیم کرتا ہے تو آپ
https://t.co/taqooBLT1P
پر جائیں اور اصل تصویر اور ترمیم شدہ تصویر اپلوڈ کريں پھر وہ تمام انٹرنيٹ سے تمام جگہوں سے ترمیم شدہ تصویر کو ہٹا دیں گے اس کے لیے آپ کو کسی سے براہ راست بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے آپ کی شناخت خفیہ رہے گی
میر رضا کے قتل کی مذمت ہونی چاہیے اور جو بھی اس میں ملوث ہے اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے، اس پر کوئی دو رائے نہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ لاہور میں پولیس کی تحویل میں موجود ان دو خواتین کی موت پر اتنی خاموشی کیوں ہے؟ اگر وہ ملزم تھیں تو عدالت میں ان کا ٹرائل ہونا چاہیے تھا، پولیس حراست میں ان کی موت نہیں۔
@KhawajaMAsif صاحب، قانون اور انسانی ہمدردی صرف کچھ کیسز کے لیے تو نہیں ہونی چاہیے؟
اور میڈیا سے بھی سوال ہے: میر رضا کے کیس پر مسلسل کوریج ہو رہی ہے، مگر ان دو خواتین کی موت پر خاموشی کیوں؟ کیا ہر انسانی جان کی اہمیت برابر نہیں؟
@geonews_urdu@ARYNEWSOFFICIAL
اگر انصاف کی بات کرنی ہے تو پھر ہر کیس میں یکساں آواز اٹھانی ہوگی۔
@TheMahiraKhan
میڈیکل آگاہی پوسٹ
ادویات کے پیکٹ پر لکھے الفاظ (DT, MD, SR) اور کا مطلب
DT (Dispersible Tablet)
اسے ہمیشہ پانی میں گھول کر پیئیں
MD (Mouth Dissolving)
اسے پانی کے بغیر زبان پر رکھیں، یہ خود بخود گھول جائے گی
1👇
کشمیر کے ڈاکڑ اسامہ (PhD) جنھیں پاکستانی فوج نے اندھا دھند فائرنگ میں ہلاک کر ڈالا - عوامی موومنٹ سے بات کر کے معاملات کو ٹھیک کرنے کے لئے ریاستی اداروں کو اسامہ اور ڈاکڑ ماہرنگ بلوچ کی طرح کے لیڈر چاہئے ہوتے ہیں! انھیں قتل یا قید کرنے کے بجاے مزاکرات کے ٹیبل پہ بٹھانا ہے
میں یونیورسٹی آف اوکاڑہ کا ملازم ہوں ۔ 14 سال سے سروس کررہا ہوں ۔میں اقبال صاحب کے آفس میں آیا ۔ انہوں نے ہاتھا پائی کی ۔ مجھے مارا ۔ میری تین ماہ سے سیلری نہیں دے رہے ۔
یونیورسٹی آف اوکاڑہ کے ملازم کی وائرل ویڈیو
اک انڈین پروگرام ہوا کرتا تھا کامیڈی سرکس
اس میں بہت سے انڈین کامیڈینز کے ساتھ پاکستانی کامیڈین شکیل صدیقی نے بھی حصہ لیا تھا
شو کی اک اینکر تھی شروتی جو بہت مختصر کپڑے پہنتی تھی
ہر پروگرام میں شکیل صدیقی اپنے حصے کا ایکٹ کرنے کے بعد سکرپٹ سے ہٹ کر شروتی کے مختصر کپڑوں پر چند جگتیں لازمی کیا کرتا تھا جس سے شروتی بہت تنگ تھی
شکیل صدیقی کئی بار کچھ کہنے کو منہ کھولتا ہے لیکن شروتی اسے سختی سے منع کر دیتی ہے
بالآخر شکیل صدیقی اس کے مختصر سے کپڑوں کی طرف اشارہ کر کے ناظرین سے کہتا ہے، " اچھا "
شروتی کہتی ہے کپڑوں کے بارے میں کچھ نہیں کہنا
" لیکن کپڑے ہیں کہاں ؟"
بڑے دنوں سے بحث چل رہی ہے کہ سسٹم کولیپس کر گیا ہے
کون سا سسٹم بھلا ؟
جس سسٹم میں عوام ڈاکوؤں سے زیادہ پولیس سے ڈرتی ہے،
چور سے زیادہ چوکیدار سے ڈرتی ہے
جج سب کچھ کرتے ہیں سوائے انصاف کے، صحافی دلالی کرتے ہیں، سیاستدان پالش کرتے ہیں
عزیز ہم وطنو! کس سسٹم کی بات ہو رہی ہے ؟
اس سارے سسٹم میں سسٹم ہے کہاں ؟
JustAsking
تاریخ کی سب سے مہلک بیماریاں
1۔ چیچک
نے صدیوں کے دوران سیکڑوں ملین انسانوں کی جانیں لیں لیکن انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک بیماری کو مکمل طور پر دنیا سے ختم کیا گیا
ویکسینیشن کی عالمی مہم کے بعد آخری قدرتی کیس 1977 میں صومالیہ میں سامنے آیا اور 1980 میں عالمی ادارۂ صحت
نے چیچک کے خاتمے کا اعلان کر دیا
یہ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی طبی کامیابیوں میں شمار ہوتی ہے
2۔ طاعون
انسانی تاریخ کی سب سے تباہ کن وباؤں میں شمار ہوتی ہے۔ 1347 سے 1351 کے دوران اس نے یورپ، ایشیا اور شمالی افریقہ کو اپنی لپیٹ میں لیا
اس وبا نے کروڑوں انسانوں کو ہلاک کیا
اس دور میں لوگوں کو بیماری کی اصل وجہ، جراثیم یا اس کے پھیلاؤ کا کوئی سائنسی علم نہیں تھا
بلیک ڈیتھ نے صرف انسانی جانیں نہیں لیں بلکہ معیشت، سماج، مذہب، سیاست اور یورپ کے پورے سماجی ڈھانچے کو بدل کر رکھ دیا
3۔ ملیریا
ملیریا تاریخ کی سب سے زیادہ جانیں لینے والی بیماریوں میں
شامل ہے
آج بھی یہ بیماری ختم نہیں ہوئی
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق 2024 میں دنیا بھر میں تقریباً 28 کروڑ 20 لاکھ افراد ملیریا کا شکار ہوئے اور تقریباً 6 لاکھ 10 ہزار افراد ہلاک ہوئے
95 % کیسز/اموات افریقی خطے میں ہوئیں
5 سال سے کم عمر بچے سب سے زیادہ خطرے میں رہے
ایک ایسی
بیماری جس کا علاج اور روک تھام ممکن ہے، آج بھی ہر سال لاکھوں انسانوں کی جان لے رہی ہے
4۔ تپِ دق
تپِ دق یا Tuberculosis (TB) جو بنیادی طور پر پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے
یہ بیماری آج بھی دنیا کے خطرناک متعدی امراض میں شامل ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق 2024 میں تقریباً
1 کروڑ 70 لاکھ افراد ٹی بی کا شکار ہوئے جبکہ 12 لاکھ 30 ہزار افراد اس سے ہلاک ہوئے
جدید علاج موجود ہونے کے باوجود ادویات کے خلاف مزاحمت رکھنے والی ٹی بی ایک سنگین عالمی خطرہ بن چکی ہے
5۔ اسپینش فلو
1918 میں پھیلنے والی H1N1 انفلوئنزا وبا جدید تاریخ کی سب سے مہلک وباؤں میں
سے ایک تھی
یہ وبا دنیا کے مختلف براعظموں میں تیزی سے پھیلی اور کم از کم 5 کروڑ افراد ہلاک ہوئے
اس نے صرف بوڑھوں/کمزور افراد کو ہی نہیں بلکہ تعداد میں نوجوان لوگوں کو بھی متاثر کیا
اس وقت نہ مؤثر ویکسین موجود تھی، نہ اینٹی وائرل ادویات اور نہ ہی جدید وبائی نگرانی کا نظام.
6۔ ایڈز
1980 کی دہائی میں دنیا کو ایچ آئی وی/ایڈز کے عالمی بحران کا سامنا ہوا
اس بیماری نے دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو متاثر کیا اور لاکھوں خاندانوں کو تباہ کیا
تاہم اینٹی ریٹرو وائرل علاج نے ایچ آئی وی کو بہت سے مریضوں کے لیے ایک قابل انتظام بیماری بنا دیا ہے
7۔ ہیضہ
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا میں ہر سال تقریباً 13 لاکھ سے 40 لاکھ افراد ہیضے کا شکار ہوتے ہیں اور 21 ہزار سے 1 لاکھ 43 ہزار تک اموات ہو سکتی ہیں
ہیضہ صرف طبی مسئلہ نہیں بلکہ غربت، جنگ، نقل مکانی اور ناقص بنیادی سہولیات سے بھی جڑا ہوا
8۔ کووڈ-19
2019 کے آخر میں
میں پھیل گیا
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق نومبر 2024 تک دنیا بھر میں 70 لاکھ سے زائد کووڈ-19 اموات رپورٹ ہو چکی تھیں
9۔ خسرہ
ویکسین سے پہلے یہ دنیا کی خطرناک ترین بیماریوں میں شامل تھا
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ویکسین کے
وسیع پیمانے پر استعمال سے پہلے خسرہ ہر سال تقریباً 26 لاکھ اموات کا سبب بنتا تھا
2024 میں بھی تقریبا 95 ہزار افراد خسرے سے ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر پانچ سال سے کم عمر بچے تھے
تاریخ کی مہلک ترین بیماریوں کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ بیماری صرف ایک طبی مسئلہ نہیں ہوتی
وبائیں
سلطنتیں گرا سکتی ہیں، معیشتیں تباہ کر سکتی ہیں، جنگوں کا رخ بدل سکتی ہیں اور تہذیبوں کے سماجی ڈھانچے کو تبدیل کر سکتی ہیں
انسان کا سب سے بڑا دشمن ہمیشہ بیماری نہیں ہوتی
لاعلمی، غربت، ناقص صفائی، علاج تک عدم رسائی اور غلط معلومات بیماری سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہیں
Ather bhai ki wall se
@ather_hameed
یہ بندہ اگر تیس بیٹھیںکں نکال لے گا تو اسے میٹرو ٹرین کی ٹکت فری ملے گی۔
روس کی حکومت نے عوام کو ورزش کی ترغیب دینے اور صحت کے بجٹ کنٹرول کرنے کے لئے یہ طریقہ initiative اختیار کیا ہے۔