کچھ الفاظ ہیں کہ دنیا کی کوئی طاقت لوح زماں سے انہیں کھرچ نہیں سکتی۔ کبھی نہیں کھرب سکتی
" لندن تو کیا پاکستان میں بھی میری کوئی جائیداد نہیں" " بلوچستان؟ بلوچستان تو ایک تھانیدار کی مار ہے"
حال ہی میں بااثر صحافیوں کو ISI افسران کی جانب سے بلوا کر وارننگ دی گئی ہے کہ دہشت گردی/ معاشی ناکامی/ بیڈ گورننس / UAE سے پاکسنانیوں کی بے دخلی اور موجودہ رجیم کی بربریت کی بجائے فوکس تحریک انصاف کی لڑائیوں / سیاسی بیان بازیوں / ایران امریکا لڑائی اور پنکی منشیات فروش جیسی خبروں پر رکھو۔ اور آج ا�� عورت کے زریعے میڈیا کو تازہ مواد فراہم بھی کر دیا گیا۔ سب ڈرامہ اور ملی بھگت ہے۔ نہ منشیات فروش سے کوئی ہمدردی اور نہ ہی اسکے نئے پرانے ہینڈلرز سے۔ شکریہ
ایک ایسا شعبہ جس نے 32 سال میں پاکستان کو موت کے دہانے پر پہنچا دیا۔ وہ ہے IPPs۔ یعنی بجلی پیدا کرنے والے 90 پرائیویٹ ادارے۔
ان معاہدوں کی قاتلانہ شرائط سے آپ پہلے سے واقف ہیں لیکن ان خون آشام اداروں کے مالک کون کون ہیں وہ بھی آپکو پتہ ہونا چاہیے
28 فیصد شریف خاندان ۔۔ %16 نواز لیگ کے رہنما ۔۔۔ تقریبا % 16 ہی زرداری اور %8 پیپلز پارٹی کے رہنما اور %10 اسٹیبلشمنٹ جو اس ملکے کی سلامتی کی ٹھیکدار ہے ۔۔ %8 وہ جن کی دوستی سمندر سے گہری اور ہمالیہ سے اونچی ہے یعنی چینی کمپنیاں ۔۔ %8 ہمارے مسلم برادر عرب کے سرمایہ کار (قطری) بابو اور تقریبا %6 فیصد پاکستانی سرمایہ دار ہیں ۔۔
یع��ی 78 فیصد صرف تین گروپس ( شریف ، زرداری، اسٹبلشمنٹ) کی ملکیت ہیں۔ ۔۔ اس سے آگے کا المیہ بھی سن لیجیے ۔۔۔ یہی وہ 90 لوگ یا گروپ ہیں جس کے پاس پاکستان کی تمام شوگر ملز، سٹیل ملز، سیمنٹ، کھاد، کپڑے، بنک، LPG اور گاڑیاں بنانے کے لائسنس ہیں۔۔۔۔
یہ بجلی گھر پاکستان کی کل ضرورت کا %125 فیصد پیدا کرنے کی صلاحیت بتا کر لگائے گئےلیکن یہ بجلی گھر صرف %48 فیصد بجلی فراہم کرتے ہیں """ لیکن قیمت عوام سے %125 فیصد کی وصول کرتے آ رہے ہیں، لہذا پچھلے 5 سال میں 6 ہزار ارب دینے کے باوجود یہ ملک ان کا اج بھی 2900 ارب کا مقروض ہے۔
یہ تحریر بہت قیمتی ہے ۔۔۔ اس کو شیئر کریں تاکہ ان بدبخت اور لٹیرے حکمرانوں کاحال اس عوام کو پتہ چلے ۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے پاکستانیوں یاد کرو وہ منحوس گھڑی جب تمہیں پورے پروٹوکول کے ساتھ 'ویلکم بیک ٹو پرانا پاکستان' کہا گیا تھا۔
اب چپ چاپ اس ذلالت اور غلامی کے مزے لو 😅
لاھور، اسلام آباد، گجرانوالہ کی یہ تصاویر صرف پیٹرول کے لیے قطاروں کی نہیں بلکہ عوام کے کرب، تکلیف اور بے بے بسی کی داستان ہے۔ میری دعا ہے انھی قطاروں میں عمران خان، اسکو مسلط کرنے والے اور وزرا بھی کھڑے ہوں تاکہ انھیں پتہ چلے کہ عوام پر کیا قیامت ٹوٹی ہے۔