یہ آڈیو کال سابقہ کورکمانڈر لاہور فیاض غنی کی فیملی کی نو مئی کے موقع کی ہے کہ کیسے عاصم منیر اس کور کمانڈر کو مروانا چاہتا تھا
کور کمانڈر نے سیکورٹی کے لیے کئیں مرتبہ فون کیا لیکن اس کے فون کا جواب نہیں دیا گیا،عاصم منیر 9مئی کی تکمیل کے لیے اپنے کور کمانڈر کی بھلی چڑھانا چاہتا تھا تا کہ اپنے گھناؤنے منصوبے کی تکمیل کر سکے
سب حیران کیوں ہیں؟
بھئی وزیراعظم نے جس خاندان کے نمائندوں کے ساتھ فخریہ انداز میں تصویر لگائی ہے، ظاہر ہے ان کے لیے یہ فخر کی بات ہوگی۔ لیکن ہم نے تو ساری عمر یہاں یہی سنا کہ یہودی ایجنٹ عمران خان ہے۔
جب سے رجیم چینج ہوا، ہم نے کیا کیا نہیں دیکھا؟ اسرائیلی پارلیمنٹ کی لائیو کوریج، نیتن یاہو کی تصاویر کو پاکستانی میڈیا میں نارمل کرنا، غزہ کے نام نہاد ’’پیس بورڈ‘‘ میں شامل ہونا، پاکستان سے وفود کا اسرائیل جانا، اسلام آباد میں سیمینارز اور مختلف پلیٹ فارمز پر اسرائیل سے متعلق پروگرام یہ سب کچھ ہمارے سامنے ہے
غزہ کے ظلم و بربریت کے خلاف آواز اٹھانے والوں کے خلاف مقدمے اور گرفتاریاں ہوئیں۔ سینیٹر مشتاق احمد اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ جو کچھ ہوا، فلسطین کا جھنڈا اٹھانے پر نوجوانوں کو سٹیڈیم سے نکال کر گرفتار کرنے کے واقعات یہ سب بھی اسی دور میں ہماری آنکھوں کے سامنے آئے
اور اب ایک ایسے خاندان کے نمائندوں سے وزیراعظم کی ملاقات ہوئی ہے
کہا جا رہا ہے کہ ملاقات کاروبار اور سرمایہ کاری کے حوالے سے تھی بھئی پہلے تو یہ بتائے کہ ابتک پاکستان کتنی سرمایہ کاری آپ لائے ہیں۔۔ ٹھیک ہے چلو یہ ملاقات سرمایہ کاری کے حوالے سے تھی ۔لیکن تھوڑی سی تاریخ بھی کھنگال لیں۔ Rothschild خاندان صہیونی منصوبے اور یہودی آبادکاری میں فلسطینیوں کو اپنی سر زمین سے در بدر کرنے میں کتنا گھناؤنا کردار رہا ہے ۔اقر اب بھی اسرائیل اس خاندان کیلئے سب سے پہلے ہیں
ساری عمر یہودی ایجنٹ کا نعرہ عمران خان کے خلاف لگایا گیا۔ آج ذرا یہ بھی پوچھ لیجیے کہ اسرائیل اور صہیونی طاقتوں کے ساتھ عملی رابطے اور تعلقات کس کے دور میں اور کس سطح پر نظر ا رہے ہیں؟
پھر فیصلہ کیجیے کہ یہودی ایجنٹ کا لیبل بانٹنے والے خود اپنے لیے کون سا معیار رکھتے ہیں۔
فلسطین کے لیے آواز اٹھانے والا مجرم، اور اسرائیل سے متعلق شخصیات و اداروں کے نمائندوں سے ملاقات کرنے والا قابلِ فخر کیوں۔۔؟
اسرائیل کا قیام اور روتھ چائلڈ فیملی!
روتھ چائلڈ فیملی اور صیہونی تحریک (خصوصاً تھیوڈور ہرٹزل) نے عثمانی سلطنت کے سلطان عبدالحمید ثانی (خلیفہ) کے سامنے فلسطین کے بدلے ایک انتہائی بڑی معاشی پیشکش رکھی تھی، جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
1. کیا پیشکش کی تھی؟ (مالی آفر)
19ویں صدی کے آخر (خصوصاً 1896ء سے 1901ء کے دوران) عثمانی سلطنت شدید معاشی بحران اور یورپی ممالک کے بھاری قرضوں زیرِ نگیں تھی، جسے یورپی طاقتیں "یورپ کا بیمار مرد" (The Sick Man of Europe) کہتی تھیں۔
صیہونی رہنما تھیوڈور ہرٹزل نے روتھ چائلڈ خاندان اور یورپ کے مالدار یہودی سرمایہ داروں کی پشت پناہی سے سلطان کے سامنے درج ذیل پیشکشیں رکھیں:
تمام غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی: صیہونی تحریک اور یہودی سرمایہ دار عثمانی سلطنت کے تمام غیر ملکی قرضے (جو تقریباً 150 ملین سونا پاؤنڈ بنتے تھے) خود ادا کر دیں گے۔
شاہی خزانے کے لیے بھاری رقم: سلطان عبدالحمید کے ذاتی اور شاہی خزانے کے لیے کروڑوں سونا پاؤنڈ کی نقد رقم پیش کی جائے گی۔ عالمی سطح پر سیاسی و مالی معاونت: یورپی پریس اور وال سٹریٹ کے ذریعے عثمانی سلطنت کی معاشی اور سیاسی مدد کی جائے گی اور جدید جنگی بحری جہاز و اسلحہ کی خریداریاں آسان بنائی جائیں گی۔
2. کیا مطالبہ کیا تھا؟
اس بہت بڑی مالی افر کے بدلے میں سلطان اور عثمانی حکومت سے بنیادی طور پر دو اہم مطالبات کیے گئے تھے:
1. فلسطین میں یہودی خودمختاری یا منشور (Charter): فلسطین کے علاقے کو یہودیوں کے لیے ایک "خودمختار یہودی وطن" (Jewish Homeland) تسلیم کیا جائے اور وہاں یہودیوں کی بلا روک ٹوک ہجرت اور آباد کاری کی قانونی اجازت دی جائے۔
2. اراضی کے حقوق: یہودیوں کو فلسطین میں زمینیں خریدنے اور اپنے مقامی انتظامی دفاتر قائم کرنے کی مکمل آزادی دی جائے۔
3. سلطان عبدالحمید ثانی کا تاریخی ردِعمل
سلطان عبدالحمید ثانی نے اس بے پناہ دولت اور مالی افر کو یکسر مسترد کر دیا اور تھیوڈور ہرٹزل کو جو تاریخی جواب دیا، وہ تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جاتا ہے: "میں فلسطین کی ایک بالشت زمین بھی نہیں بیچ سکتا، کیونکہ یہ میری ملکیت نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کی ملکیت ہے۔ میرے لوگوں نے اس سرزمین کو اپنے خون سے فتح کیا اور خون ہی سے اس کی حفاظت کریں گے۔ یہودی اپنے کروڑوں روپے اپنے پاس رکھیں۔ اگر عثمانی سلطنت کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں تب ہی وہ فلسطین کو مفت میں حاصل کر سکتے ہیں، لیکن میرے جیتے جی ایسا ممکن نہیں ہوگا۔"سلطان عبدالحمید کے اس سخت اور واضح انکار کے بعد، روتھ چائلڈ فیملی اور صیہونی تحریک نے اپنا تمام تر زوّر اور حکمتِ عملی عثمانی سلطنت کے اندرونی و بیرونی مخالفین (بشمول برطانوی حکومت اور نوجوان ترک تحریک) کے ساتھ مل کر عثمانی خلافت کے خاتمے پر لگا دی، جو بالآخر پہلی جنگِ عظیم کے بعد ممکن ہوئی۔
🚨آئی ایس ایف ہزارہ ریجن کے صدر رمیز سواتی کو رات 11:40 پر نامعلوم افراد اغواء کرکے لے گئے ہیں
دو ڈالوں میں نقاب پوش حملہ آور آئے ہیں انھوں نے ہم پر تشدد کیا اور گاڑی کے شیشے توڑ کر رمیز سواتی کو اغواء کرکے لے گئے
ایک فیصلہ تحریک انصاف نے کیا ایک فیصلہ اٹک کے پل پر موجود عام پاکستانیوں نے کیا یاد رہے کہ جب لوگوں نے پل پر بچھائے گئے کیل ہٹائے تو سامنے موجود پنجاب پولیس صرف حیرت میں مبتلا دکھائی دی اور کیلوں کی حفاظت کرنے میں ناکام رہی جس سے قومی خزانے کو بہت نقصان ہوا
Percaya atau Tidak: Setelah pendudukan Amerika atas Irak, George Bush pergi ke #Najd dan #Hijaz Arab Saudi
Raja Salman merayakannya sebagai pemimpin kemenangan yang mengalahkan Irak, memberinya hadiah dan membawanya ke (Kiswah Ka'bah)‼️
Jadi, Siapa Sebenarnya yang Melecehkan Simbol-simbol Umat Islam?
Kerajaan Arab Saudi Tidak Peduli dengan Kesucian Haramain dan Hanya Menjadikannya Alat Politisasi Ketika Mereka Membutuhkannya.
ڈیفنس کلفٹن میں امیر باپ کی بگڑی ہوئی اولادیں، جن کے والدین نے انکی اپنی حفظت کیلئے انہیں ڈالوں سمیت گارڈز مہیہ کر رکھے ہیں، انکے عتاب سے کراچی کی عام عوام محفوظ نہیں۔ جسے چاہا پکڑ کر ذدوکوب کیا، گارڈز کے پاس اسلحہ ہونے کے ڈر سے سامنے والا تشدد برداشت کرتا رہتا ہے۔ یہ ویڈیو تو وائرل ہوگئی، لیکن ایسے لاتعداد واقعات روز ہورہے ہیں، کراچی میں اس ڈالے کلچر نے لوگوں کی زندگی حرام کر کے رکھ دی ہے، اور پکڑے جانے پر پولیس ان اشرافیہ والدین کا مکمل ساتھ دیتی دکھائی دیتی ہے۔ اس ویڈیو کی گفتگو سنیں، کوئی اور برائی رہ گئی ہے جہاں اس شہر میں پولیس ملوث نہ ملے؟