سر جی!
اگر ناراض ہوجائیں تو خود ہی دو تین تھپڑ مار لیجئے گا، کسی نامعلوم کھسرے (مخنث) مت پٹوائیے گا۔ بندہ مخنث سے تھپڑ کھانے کےبعداس کے آگے لگ کے بھاگتا بہت عجیب و غریب لگتا ہے۔ پہلی دفعہ آپ کے پلان کو دیکھ کر
ڈپٹی خوش ہوا🙏😜
سمیع ابراہیم کو چپیڑیں مارتے ہوئے خواجہ سرا کی ویڈیو دیکھنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ جب تک اس خواجہ سرا کا موقف سامنے نہیں آتا تب تک مذمت نہیں کی جائے گی کیونکہ یہ ریحام خان کی کتاب کا صفحہ نمبر 273 والا رولا لگتا ہے!
جس جماعت نے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا تقدس پامال کیا ، جس جماعت نے ریاست کے قومی پرچم کو آگ لگا دی ، جس جماعت نے مُلک کے پاسپورٹ جلا دئیے اس جماعت سے احسن اقبال صاحب کے ساتھ اچھے رویے کی توقع کئے ہوئے ہیں
وفاقی حکومت چاہے تو طیبہ گل کے اتنے انکشافات کے بعد نیب کے سابق چئیرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال اور انکے نیب کے چند ماتحت افسران کو فوری گرفتار کر سکتی ہے اور پھر قوم دیکھے گئ کہ اعلی عدلیہ ایسے شخص کو کیسے بچاتی ہے اور کون کون سا جج اس گھناؤنے سابق جج کے گینگ کا حصہ ہے۔
خبر ہے کہ آج رات کسی پہر گیلے تیتر کو سپیشل مجسٹریٹ چکوال سے ضمانت منظور کروا کر گوجرانوالہ/میانوالی پولیس کے حوالے کر دیا جائے گا، گوجرانوالہ اور میانوالی پولیس کی گاڑیاں اپنے مہمان @ImranRiazKhan کو اپنے ساتھ لے جانے کیلئے پولیس لائن چکوال میں تیار کھڑی ہیں.
ایک خاتون اپنے ساتھ ہونے والی جنسی ہراسانی کے شواہد لے کر عمران ��یازی کے پاس پہنچی تو اس شخص نے اسی بلیک میلنگ کی ویڈیوز سے چئیرمین نیب کو بلیک میل کرنا شروع کردیا
پس ثابت ہوا کہ عمران نیازی سے وڈا بیغیرت آج تک جمیا ہی نہیں
مادر پدر آزاد شیطان، جاوید اقبال عوام کے پیسے پہ ابھی بھی سرکاری سہولتوں کے گلچھڑے اڑا رہا ہے،
ابلیس کا بچہ ایک چئیر مینی سے فارغ ہو کے دوسری چئیر مینی پہ بیٹھا ہوا ہے۔۔ !!
#جاوید_اقبال_کو_گرفتار_کرو
اگر طیبہ گُل کی جگہ علیمہ خان ہوتی تو کیا اسی طرح کا سلوک کیا جاتا ، کیا اسی طرح ویڈیوز کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا جاتا ، کیا اسی طرح اس عورت کو شوہر سمیت ڈیڑھ ماہ وزیراعظم ہاؤس میں قید رکھا جاتا
طیبہ گل کو وزیراعظم ہاؤس میں قید کر کے جب نوسر باز اپنے خلاف نیب مقدمات ختم کرا رہا تھا شریں مزاری نے خاتون اور انسانی حقوق کی وزیر ہونے کے باوجود طیبہ گل کی مدد کرنے سے صاف انکار کر دیا
یہ بنانا ری پبلک کی عدالتوں کا ہی کمال ہے کہ کوئی پہلی پیشی پر ہی بریت کا آٹھ آٹھ صفحوں کا فیصلہ لے لیتا ہے اور کوئی اس وقت بے گناہ قرار دیا جاتا ہے جب اس کی پھانسی کو بھی ایک برس گزر چکا ہوتا ہے۔
اسے عدالتی نظام کہنا بھی عدالت کے ادارے اور انصاف کے تصور کی توہین ہے۔