بجلی ہے نہی مگر بل ڈبل۔ اگر آپ نے سولر لگا لیا تو پھر بھی آپ کو روکا جا رہا ہے یا جرمانہ ڈالا جا رہا ہے۔ آسان الفاظ میں مسلہ سمجھیے۔ یہ دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ ہوا ہے اور ابھی بھی جاری ہے کیونکہ حکومتی خاندان اس چوری میں شامل ہیں۔ زرا اس کو آسان الفاظ میں سمجھیے۔ مثال سمجھئے کہ تیس سے بتیس روپئے میں آئ پی پی کارخانے لگائے گئے۔ اس میں انہوں نے صرف نو روپئے لگائے جس کا بیشتر حصہ بھی آسان شرائط پر ایڈوانس کے طور پر دیا گیا۔ باقی رقم ساری سرکاری قرضہ تھی۔ مگر ان کو گارنٹی دی گئ کہ ان سات روپئے سالانہ منافع کے طور پر ملیں گیں چاہے وہ زرا بجلی بھی نہ بنائیں۔ یعنی وہ ساری لاگت جو کہ رعائتی دی گئ اک سال میں پوری کر چکے۔ تقریبا بغیر پیسہ لگائے پاکستان کو گروی رکھ دیا گیا کہ ان کمپنیوں کو تیس سال تک ہم منافع دیتے رہیں گیں۔ چین کا نام استعمال ہو رہا ہے تا کہ کوئ بول نہ سکے مگر قوم کو تیس سال سے زیادہ ان کو ہر سال سات روپئے دینے ہیں۔ بغیر بجلی بنائے۔ اس طرح کا فراڈ تاریخ میں نہی ملتا۔ یعنی سارا پراجیکٹس فراڈ رھا کیونکہ زیادہ تو کمپنیاں شریفوں اور زرداریوں کی یا ان کے رشتہ دار اور پارٹنرز کی ہیں۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ ہے۔ جس کی وجہ سے ہر پاکستانی تڑپ رہا ہے۔ نہ بجلی ہے اور بل ڈبل۔ مگر اس مافیا کو ہاتھ نہی ڈال سکتا کیونکہ اس کا نام ہے حکومتی پارٹی۔ کر لو جو کرنا ہے۔ خبردار اگر سولر لگایا۔ کیونکہ پھر ان کو دو ہزار ارب یعنی سات بلین ڈالر کیسے جائے گا بغیر بجلی بنائے۔ تاریخ میں ایسا فراڈ نہی ہوا۔ جس پر کوئ بولتا بھی نہی اور کچھ کرتا بھی نہی۔ بس عوام سے امید کرتے ہیں کہ کھوتے ہیں چپ کر کے بل دہے جائیں گیں۔ کچھ شرم کرو
پاکستان میں ہوتے ظلم کے بارے میں کوئی ایک بیان دکھا دیں؟
اسلام کے نزول کا مقصد لوگوں کو استنجا سکھانا نہیں تھا۔ اگر آپ اسلام کی روح کو نہیں سمجھ سکے اور ظلم، ظالم، حلال، حرام میں فرق نہیں کر سکے تو چاہے آپ نے پوری زندگی ایک ٹانگ پرچلےکاٹے ہوں، آپ صفر ہیں۔
میری ہر طرف تعریف ہو رہی ہے، دیکھنا یہ ہے کہ آپ کی تعریف کون کر رہا ہے؟ اور کیوں کر رہا ہے؟
اگر میں کسی کے ایجنڈے کا حصہ ہوں اور اُسکے ایجنڈے کے مطابق کام کر رہا ہوں تو میری تعریف تو ہوگی
پاکستان کی تعریف ایوب خان اور یحی خان کے دور میں بھی ہوئ جب ہم امریکی کیمپ میں تھے لیکن امریکہ تو وعدے کے مطابق اپنا چھٹا بحری بیڑا بھی نا بھیج سکا اور پاکستان ٹوٹ گیا
پاکستان کی تعریف کا عروج ضیاالحق کے دور میں تھا جب ہم امریکی ایجنڈے کے مطابق روس کے گرم پانیوں تک پہنچے کے افسانے کا حصہ بن گئے، امریکہ سے امپورٹڈ جہاد شروع کر دیا، اور سوویت یونین ٹوٹ گیا، حمید گل کو برلن وال کا ٹکڑا بھی ارسال ہوا، لیکن سویت یونین ٹوٹنے سے ہمیں کیا فائدہ ہوا؟ اُلٹا امریکہ کو واحد سپر پاور کا ٹھیکہ مل گیا اور پھر ایک درجن اسلامی ممالک میں رجیم چینج ہوۓ، قتل و غارت ہوا، ان اسلامی ممالک کی معیشت تباہ ہو گئی، مسلمانوں کا خون چنگیز خان کے قتل و غارت سے بھی زیادہ بہایا گیا، لیکن مغربی میڈیا نے ضیاالحق، حمید گل، اختر عبدالرحمان کو تعریفوں سے آسمان پر بٹھا دیا، ان جرنیلوں کی اولاد ارب پتی ہو گئی، پاکستان کو کیا فائدہ ہوا؟
پاکستان کی تعریفوں کے پُل باندھنے کا اگلا مرحلہ تب شروع ہوا جب مشرف کو ایک ٹیلی فون کال آئ اور پھر دہشت گردی کے خلاف اگلے 20 سال پاکستان نے امریکی جنگ لڑی، تقریباً ایک لاکھ پاکستانی مارے گئے، امن و امان تباہ ہوا، معیشت تباہ ہوئ اور دہشت گردی مستقل ناسور بن گیا
پاکستان کی تعریفوں کے پُل کیانی کے دور میں بھی باندھے گئے جب ایبٹ آباد آپریشن ہوا، اور ہم خاموش رہے،
پاکستان کی تعریف اُسوقت بھی ہوئ جب امریکی سائفر پر رجیم بدل دیا اور ایسی معاشی تباہی ہوئ کہ آج تک اُس سے باہر نا نکل سکے
آج پھر پاکستان کی تعریفوں کے پُل باندھے جا رہے ہیں، یاللہ خیر، یا اللہ رحم
Everyone can see horizon, few can see beyond
Stay Tuned on International Affairs
Beyond The Horizon with Ahmad Jawad
بیوروکریسی کا کمال:
تحریر: احمد جواد
آپ کہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ ختم کریں تو کہیں گے کہ یہ بین الاقوامی قانونی وجوہات کیوجہ سے ختم نہیں ہو سکتا
آپ کہیں کہ آئ پی پیز کو force majeure کے تحت ختم کریں، یہ کہتے ہیں کہ پاکستان کو جُرمانہ ہو جاۓ گا
آپ کہیں کہ سول سروس ریفارم کریں تو ڈاکٹر عشرت حسین جیسا بیورکریٹ ایسی ریفارم پر ساڑھے تین سال بیٹھ کر گھر چلا جاتا ہے
آپ کہیں کہ پولیس ریفارم کریں، یہ عہدوں کے نام بدل کرکے ریفارم کا کام مکمل کر دیتے ہیں
آپ کہیں کہ آئ ایم ایف سے جان چھڑائیں یہ کہیں گے کہ پاکستان دیوالیہ ہو جاۓ گا
آپ کہیں کہ عوام کو سورج سے بجلی پیدا کرنے کیلئے خود کفیل کیا جاۓ، یہ کہتے ہیں کہ ہم آئ پی پیز کی ادائیگی نہیں کر سکتے
ایک ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جو پارلیمنٹ سے بل پاس کرے، جس سے ایسی بیورکریسی کو شٹ اپ کہا جا سکے اور تمام بیورکریسی کو کارپوریٹ کلچر کے مطابق ٹارگٹس دیکر سال کے بعد کارکردگی جانچی جاۓ اور جو پرفارم نا کرے، اُسے گھر بھیج دیا جاۓ، ایک سال میں بیوروکریسی سب حل آپ کی میز پر رکھ دے گی،
بیورکریسی کو عوام کا غلام بنایا جاۓ، لیبر کی طرح ایک جیسا یونیفارم سفید شلوار قیمیض واسکٹ کے ساتھ پہنایا جاۓ، پاکستان کی بنی ہوئ سب سے سستی کار سرکاری استعمال کیلئے دی جاۓ، خود ڈرائیو کریں، انکے اور انکے خاندان کے اثاثے ملازمت شروع ہونے کے پہلے دن عوام کے سامنے پیش ہوں اور عوام ان اثاثوں پر ریٹائرڈمنٹ تک نگاہ رکھیں، بڑے بڑے بنگلوں کو پرائیوٹائز کیا جاۓ، سرکاری ملازمیں کو پانچ مرلے کے گھروں میں شفٹ کیا جاۓ، سرکاری افسران کے بچوں کو سرکاری سکول میں پڑھانا لازمی قرار دیا جاۓ، سرکاری ہسپتالوں سے علاج لازمی ہو، انگریزی کو دفتروں سے ختم کیا جاۓ، جس دن بیورکریسی کو عوام جیسا بنا دیں گے، انقلاب آ جاۓ گا،
یاد رہے کہ عمران خان ساڑھے تین سال سول سروس اور پولیس ریفارم کیلئے کچھ نا کر سکا، اسلئے کہ بیماری کا علاج بیمار سے کروانے کی کوشش کی، سسٹم بدلنے کیلئے سسٹم سے باہر لوگ لانے ہوتے ہیں، سسٹم کے اندر تو کامپرومائیز ہوتے ہیں، وہ کیسے سسٹم کو بدلیں گے جبکہ وہ سسٹم کے بینیفشری ہیں، یہ غلطی تھی عمران خان کی، ساڑھے تین سال میں گورنس کیلئے بہت کچھ ہو سکتا تھا، لیکن نا ہوا، ایک سنہری موقع ضائع ہو گیا
Did you ask the Ambassador how the decision not to publicly release the report on the February 8 elections aligns with EU’s broader commitments to transparency and accountability? And whether he thinks it’s fair to bury such an important report?
صرف قرآن کے احکام کو ماننے والے اور انسانی مغلظات کے مکسچر کو رد کرنے والے "نام نہاد" بھی ہیں اور "خوارجی" بھی ہیں۔
یعنی جو "شرک" اور "الزنا" کرے وہی ان محترم کے مطابق مسلمان ہو سکتا ہے؟👇
یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔۔
یہاں بغیر لائنس یا ہیلمٹ کے آپ موٹر سائیکل نہیں چلا سکتے لیکن یہاں بغیر ووٹوں یا عوامی مینڈیٹ کے آپ حکومت بَنا اور چلا سکتے ہیں۔۔
یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔۔