وفاق کی سطح پر دینی مدارس کی رجسٹریشن کی قانون پاس ہو چکا ہے صوبے میں اس قانون کو من عن اسمبلی سے پاس کرایا جائے اور اس پر عمل درامد ہو جس طرح کے قانون کہتا ہے
مولانا فضل الرحمٰن صاحب
ہم نے بسم اللہ سے شروعات کی ہے آپ ہمیں سیدھا والناس پر پہنچانا چاہتے ہے پہلی بیٹھک ہے ابھی ہم سورہ فاتحہ پر ہے"
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان صاحب کا صحافی کو جواب
پشاور:امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی مفتی قاسم بجلی گھر سے چھوٹے بھائی مولانا محمد اسماعیل بجلی گھر کی وفات پر تعزیت،مرحوم کی بلندی درجات کے لئے دعاء مغفرت اور فاتحہ خوانی۔
اہل خانہ اور متعلقین کے لئے صبر جمیل کی دعاء ۔
یہاں تو ایک طاقتور ذہن کہتا ہے کہ جو ہم کہتے ہیں وہی پاکستان کی وفاداری ہے، میں معذرت کے ساتھ کہتا ہوں کہ یہ تاریخ ہماری گزر چکی ہے یہ انگریز کا ورثہ ہے، برصغیر میں جو انگریز کا مخالف تھا ہزار مرتبہ وہ ہندوستان کا وفادار ہو لیکن انگریز کے مخالف کو وہ غدار کہتا تھا اور جو انگریز کا خوش آمدگر، اس کے ٹکڑوں پر پلنے والے، ان کو جاگیریں عطاء کی، وہ بڑے وفادار نکلے۔ آج پاکستان میں ہزار بار پاکستان کے وفادار بن جائیں لیکن اگر اسٹیبلیشمنٹ کی رائے سے اختلاف کیا تو آپ کو غدار کہا جاتا ہے، یہ وہی روایات ہیں جو اس زمانے سے ہماری اس ملک میں چلی آرہی ہیں، اس فکر کو تبدیل کرنا ہوگا، اس سوچ کو تبدیل کرنا ہوگا، ان ترجیہات کو تبدیل کرنا ہوگا اور ان شاءاللہ اگر ہم نے فرقہ واریت کو شکست دی ہے، اگر ہم نے قادیانی لابی کو شکست دی ہے، اگر ہم نے اسرائیلی لابی کو شکست دی ہے، اگر ہم نے قوموں کے درمیان نفرتیں پھیلانے والی سیاست کو شکست دی ہے تو ان شاءاللہ ہم اس ذہنیت کو بھی شکست دیں گے کہ پاکستان کے وفادار کو کیوں غدار کہا جاتا ہے، اگر وہ اسٹیبلشمنٹ سے اختلاف رائے کرے گا۔
آئیں! ہم پاکستانی ہیں، معاملات ٹھیک کرو، ہم اس قوم کے افراد ہیں، ہمیں مطمئن کرو یہ کیا الیکشن ہے اور دھاندلی کر کے اپنی اسمبلیاں بنا دی، اگر اس طریقے سے یہاں پر اگر یہ اسمبلیاں بنی ہیں، سندھ کی اسمبلی جس طرح بنی ہے، پنجاب کی اسمبلی جس طرح بنی ہے، یہ سارے کے سارے وہ سوالات ہیں جو ہمارے ملک کی سیاسی نظام کے اوپر ہیں، ہم نے یہ جنگ لڑنی ہیں اور ان شاءاللہ قوم ایک ہوگی تو جیتیں گے ان شاءاللہ
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا پشین میں خطاب
آج کے حالات میں، میں پاکستان پیپلز پارٹی کو براہ راست مخاطب کر کے کہنا چاہتا ہوں کہ ذوالفقار علی بھٹو کے قیادت میں پاکستان کا آئین بنا، میرے والد نے اس پہ دستخط کیا ہے، میں تو اس آئین کو تحفظ دینے کا عزم کر رہا ہوں، آپ کے دیکھا دیکھی اگر اس آئین کو ختم کر دیا گیا، صوبوں کے حقوق تباہ و برباد کر دیا گیا، صوبوں کا باہمی اعتماد خراب کر دیا گیا، تو آپ بتائیں کہ پھر آپ ذوالفقار علی بھٹو کے راستے پہ جا رہے ہیں؟ آٹھارویں ترمیم ہوئی، مارشل لاو نے آئین کو جتنا خراب کیا تھا، گند کر دیا تھا، آٹھارویں ترمیم کے ذریعے اس کو صاف کیا گیا، آپ کی حکومت تھی اور ہم مل کر ایک کمیٹی میں بیٹھے، نو مہینے تک ہم نے پورے آئین کو صاف کیا اور متفقہ طور پر ایوان سے پاس کرایا، آج ہم اس آٹھارویں ترمیم کے تحفظ کی بات کرتے ہیں، آپ کیوں خاموش ہیں؟ تم کیوں کمزوری دکھا رہے ہو؟ کس بات کی کمزوری دکھا رہے ہو؟ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم صوبوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں، جو آٹھارویں ترمیم میں ہم نے طے کیں تھے، ہم اس آئین کے حفاظت کرنا چاہتے ہیں، جو آئین ذوالفقار علی بھٹو نے بنایا تھا، تو جب ہم چاہتے ہیں کہ وہ محفوظ ہو آپ کیوں پیچھے ہٹیں گے اور آپ کیوں سودے کریں گے۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا پشین میں خطاب
جو اسٹبلشمنٹ سے اختلاف کرے اسے آپ غدار کہیں۔ ان شاءاللہ العزیز ہم اس سوچ کو بھی شکست فاش دیں گے۔ حضرت مولانا فضل الرحمان مدظلہ
#تحفظ_مدارس_حقوق_بلوچستان
فرقہ واریت اور قومیت اور لسانیت کے بنیاد پر سیاست کو اگر کسی نے ملیامیٹ کیا ہے تو وو جمعیت علماء اسلام کے اس تحریک نے کی ہے،،،
مولانا فضل الرحمن صاحب کا پشین کانفرنس سے خطاب
#تحفظ_مدارس_حقوق_بلوچستان