Dear @SkySports team
is it standard practice for a sports channel to discuss a convicted prisoner and air his sons' interview? Or was this a paid promotion?
Remember Imran Khan's own sister, a doctor, has declared him completely fit and healthy
#Cricket_4_politics#PCB
Dear Pat Cummins, @patcummins30 Imran Khan has been convicted by Pakistani courts in corruption cases, Do you believe that public figures should distinguish between advocating for a prisoner’s humane treatment and appearing to support someone convicted by a court of law? If a prominent public figure in Australia were convicted of corruption, would you publicly intervene in a similar way?
جدون نامی جس بےغیرت نے یہ سارا فساد کیا اسکا تعلق بنوں سے ہے۔ اسکا سوشل میڈیا اکاؤنٹ دیکھا گیا تو پاکستان سے نفرت اور افغانیت کی پرچار سے بھرا ہوا ہے یعنی یہ اپنے آپ میں پورا منظور پشتن ہے۔ آپ اندازہ کریں کہ یہ خنزیر طلباء کو کیا پ��ھاتا ہوگا؟
لیکن سب سے بڑھ کر اس نے طلباء کا ایک گروپ بنا رکھا تھا جن کو یہ تیار پرچے دے کر یا یوں سمجھیں کہ بغیر امتحان کے پاس کرتا تھا اور ان میں چند لڑکیاں خاص طور پر شامل تھیں جن کے بارے میں دیگر طلباء کہہ رہے ہیں ان کے ساتھ جدون کے ناجائز تعلقات ہیں۔ اس گینگ کا لیڈر اس نے وزیرستان کے اس واسکٹ والے لڑکے کو بنا رکھا ہے جو کرنل اسفند یار پر حملے میں پیش پیش تھا۔
یونیورسٹی اس افغانی کی حرکتوں سے تنگ آگئی تو اسکی جگہ ڈاکٹر آئینہ کو لے آئی۔ اس نے چیزیں ٹھیک کرنی شروع کیں تو جدون نے اس کے دفتر جاکر اس کو دھمکایا اور یہ بھی کہا کہ میں تمہیں تھپڑ مار دونگا۔ جس پر اس نے 15 کو کال کی۔ پولیس آئی تو اس نے باقاعدہ معافی مانگی اور اس واقعے کی رپورٹ 21 اگست کو درج ہوئی جو سوشل میڈیا پر سرکولیٹ ہورہی ہے۔ یونیورسٹی نے جدون کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا تو اس نے اپنے گینگ کو تیار کیا جس کی وٹس ایپ چیٹ لیک ہوچکی ہے۔ اگلی صبح جدون کے ساتھ وہ گینگ خاص کر وہ بدمعاش لڑکیاں ڈاکٹر آئینہ کا راستہ روک کر کھڑی ہوگئیں۔ اسکی بھی ویڈیو آچکی ہے۔ پھر بھی وہ کسی طرح اندر چلی گئیں تو اس گینگ نے گیٹ بند کر دیا اور اس سے بدتمیزی شروع کر دی۔ جس کے بعد گینگ لیڈر وزیرستانی لڑکے نے ڈاکٹر آئینہ کے گریبان پر ہاتھ ڈال دیا۔ وہ چیخنے لگی اور اس نے پہلی بار اپنے شوہر کو فون کیا جو فون سن کر اسی طرح بھاگ کر آگیا۔
آتے ہی اس نے اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑا اور ان بدمعاش طلباء کے نرغے سے نکالنے لگا جس کی ویڈیو وائرل ہے۔ انہوں نے اسکو گھیر لیا۔ پولیس کھڑی تماشا دیکھ رہی تھی۔ اس نے انکو دھکے دے کر راستہ بنانے کی کوشش کی تو اس وزیرستانی غنڈے نے کہا کہ "ہم نے جیسے تم لوگوں کی وزیرستان میں ۔۔ ماری ہے یہاں بھی مارینگے۔" جس پر کرنل اسفند یار نے اسکو چھڑی ماری۔ اس کے بعد سب نے ملکر اس فوجی افسر پر اکھٹا دھاوا بولا۔ پولیس والے انکو روکنے کے بجائے کرنل اسفند کو ہی پکڑنے لگے۔ ڈاکٹر آئینہ کو ان لڑکوں نے زمین پر گرا دیا۔ جس پر کرنل اسفندیار نے پستول نکال کر سیدھا کیا تاکہ وہ لڑکے ڈر کر پیچھے ہٹیں۔ جب وہ پیچھے ہوئے تو ہوائی فائر کر کے ڈاکٹر آئینہ کا ہاتھ پکڑ کر ان کے نرغے سے نکال کر لے گیا۔
یہ ہے سارا واقعہ اور اسکی تصدیق میں یونیورسٹی طلباء کے بیانات، ویڈیوز اور چیٹس بھی آچکی ہیں۔ اس کے بعد بھی اس افغانی جدون کو نشان عبرت نہیں بنایا گیا یا کرنل اسفند کو سزا دی گئی تو ریاست اور قومی سلامتی کا ضامن سب سے بڑا ادارہ مذاق بن کر رہ جائیگا۔ 9 مئی کرنے والوں کو سزائیں نہ دینے کے خوفناک نتائج آرہے ہیں۔ سزا ہی معاشروں کی اصلاح کرتی ہے۔ جو کچھ جدون اور اس کے گینگ نے کیا یہ اگر ایران میں ہوا ہوتا تو اب تک انکی لاشیں کرینوں سے لٹک رہی ہوتیں۔ کاش ہم اس معاملے میں ایران سبق سیکھیں۔
زندگی میں کبھی موقع ملا تو اس نوجوان کو ڈھونڈ کر اس کا ماتھا ضرور چوموں گا۔۔۔۔
لہجے میں کیا دلیری ہے۔۔۔۔ کتنی جرات اور دلیل کے ساتھ پاکستان کا دفاع کر رہا ہے اور یہودی فتنے کو ٹھوک کر رہا ہے
جب تک ایسے نوجوان موجود ہیں، تب تک پاکستان محفوظ ہاتھوں میں ہے۔۔۔
#ProudPakistani