کراچی کی بااثر خاتون SSP فدا حسین کی رشتہ دار ہے پولیس والوں کو بلا کر تشدد کرواتی ہے اور پھر انہی پر FIR درج کروا دیتی ہے پولیس والے CCTV کیمرے تک توڑتے نظر آ رہے ہیں
محترمہ اتنی بااثر ہے کہ بلڈنگ کی لفٹ تک کسی کو استعمال کرنے نہیں دیتی واہ
کل کسی نے کوٹ ادو سرکاری ہاسپٹل کی ایمرجنسی میں بنائی گئی ویڈیو شئیر کی ۔
یہ اسی ویڈیو کا سکرین شاٹ ہے اس میں نرس یا پھر ڈاکٹر صاحبہ دو کرسیاں ملائے ٹانگیں پسارے موبائیل ہاتھ میں پکڑے ویڈیو کال پہ گپیں لڑاتے ہوئے ڈیوٹی کر رہی ہیں ۔
جب ان کو بولا گیا کہ مریض کی ٹریٹمنٹ کر دیں تو انہوں نے ناگواری سے بولا کہ کسی اور نرس کو بول دیں..
یاد رہے مریضہ بے چاری بمشکل چل پا رہی تھیں لیکن ان کو فرق ہی نہیں پڑا
اگر یہ خاتون ہونے کی وجہ سے قابل احترام ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اپنی ڈیوٹی کا ٹائم پاس سمجھے۔
ان کو سوچنا چاہیے جو سرکاری ہاسپٹل میں دھکے کھا رہے ہوتے ہیں یہ حقیقت میں ڈیزرونگ ہوتے ہیں ۔
پیسے والے ہوتے تو آپ کے نجی کلینکس پہ آتے جہاں آپ لوگ درشت نہیں میٹھے لہجے میں بات کرتے ہیں
مجھے اب سمجھ آیا کہ یہ ہاسپٹل میں ویڈیو کیوں نہیں بنانے دیتے کوریج کے لیے پہلے بتاؤ فوکل پرسن کو ساتھ لاؤ تب تک سارے اٹین شن ہو جاتے ہیں آف دی کیمرہ پتا چلتا ہے کہ ایمرجنسی جیسی جگہ بھی ان کے لیے ڈیوٹی نہیں بلکہ اسکیپ پوائنٹ ہے جہاں یہ پکنک منانے آتی ہیں
مکمل ویڈیو موجود ہے لیکن پرائیویسی کی وجہ سے نہیں لگا رہی
سب سے پہلے تو اس خاتون ڈاکٹر کو گرفتار کریں اور اگر کوئی وکیل دیکھ رہا ہے تو اللہ کی رضا کیلئے اس کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرائے ۔ ماسک پہن کر منہ چھپا کر یہ 14 معصوم بچوں کی جانیں ضائع ہونے کے سانحے کا دفاع کررہی ہے ۔ کوئی شرم حیا نہیں
صرف سیکریٹری صحت اسلم غوری کو کیوں ہٹایا گیا ہے؟
سانحہ کی اصل زمہ دار تو پمز کی انتظامیہ ہے؟
کتنے ڈاکٹروں، نرسوں، اور عملے کو غفلت پر گرفتار کیا گیا ہے
پمز کے کس اعلیٰ اہلکار کو معطل کیا گیا ہے؟