عمران خان آپ کی حقیقی آزادی کے لیے گزشتہ تین سال سے مشکل ترین قید کاٹ رہے ہیں۔ اب آپ اپنی حقیقی آزادی کے لیے، اور عمران خان کے حقوق کی بحالی کے لیے، اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں
آپ لوگوں کو اندازہ نہیں کہ لوگوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ لوگوں کو راتوں کو فون کالز پر دھمکیاں آتی ہیں کہ اڈیالہ کے باہر نہیں جانا۔ ہم نے تجویز دی کہ یہ مسئلہ اکٹھے ہو کر اسمبلی میں اٹھائیں اور بتائیں کون دھمکیاں دے رہا ہے۔ یاد کرو، عمران خان نے ایک جلسے میں کہا تھا کہ اگر یہ آپ کو دھمکیاں دیں تو واپس ان کو دھمکیاں دو۔
علیمہ خان
@Aleema_KhanPK
عدم استحکام
زندہ باد
علیم خان کی سیاسی سرپرستی اختیار کرنے والوں نے دراصل مسلم لیگ نواز اور پیپلزپارٹی کی بی ٹیم کی حیثیت کو اپنے لئے پسند کیا ھے ، سیاسی کارکن اپنا ٹھکانہ کبھی بھی ایسی جگہ نہیں بناتا جہاں اس کے ضمیر اور نظریہ کی کوئ اہمیت نہ ہو ۔
راقم نے آج تک سردارتنویر الیاس کی سیاست کو موضوع بحث نہیں بنایا ماسوائے جب وہ پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے ، اس وقت رقم کیا تھا کہ پیپلزپارٹی میں شمولیت ان کےلئے ایک بڑے گڑھے میں چھلانگ کے مترادف ھے ، لیکن اب یہ صورتحال ھے کہ ؛" نانی خصم کیتا، مندا کیتا، کر کے چھوڑ دتا ، سرو مندا کیتا ؛:"
ازاد کشمیر کی سیاسی لاٹ کی تیسری صف سے لوگوں کو اٹھا کے ایک جماعت کو انتخابات میں لے جانا کوئ سیاسی بصیرت نہیں ھے ۔
پاکستان تحریک انصاف کا بائیکاٹ تھوڑی تاخیر سے ہوا لیکن پھر بھی اچھا ہوا ، ھم نے 4 ماہ قبل روانی مظفرآباد میں ہونے والی گورننگ باڈی میٹنگ میں بائیکاٹ کی تجویز پیش کی تھی ، تاخیر سے سہی لیکن چلیں جماعت کو خیال تو آ گیا ۔پی ٹی آئ کو اب وقت مل گیا ھے ، جماعتوں کی زندگی میں 5 سال کوئ بڑا وقت نہیں ہوتا ، قیادت کو چاہیئے کہ اس وقت میں اپنی جماعت کو ٹھوس بنیادوں پہ مستحکم کرنے کےلئے عقل و دانش کے ساتھ اقدامات کرے ۔ جماعتی قیادت بروقت اور جرات مند فیصلوں کے ساتھ عوام میں آئے اور خود کو ان فرسودہ سیاسی جماعتوں کا متبادل ثابت کرے ، جماعت کے اندر گروپس کا خاتمہ کرے ، اگر کوئ خودکو نظریاتی کہلوا کرپانچ سالون میں فیلڈ کے اندر عوام کے ساتھ روابط نہیں رکھتا ، آپنے ساتھ 50 بندوں کو چلانے کہ اہلیت نہیں رکھتا لیکن مرکزی جماعت کو اپنی وڈیوز اور سوشل میڈیائ پوسٹس کی بنا پہ عین وقت پہ قائل کر کے ٹکٹس لے لیتا ھے تو ایسے کارپوریٹ ذہنیت والوں کےنظریات پہ چار حرف ۔
پی ٹی آئ میں اب بھی وہ اسپارک موجود ھے جس کی بنیاد عمران خان نے رکھی تھی لیکن آزاد کشمیر میں قیادت اور گروپس نے عوام کو اس لحاظ سے متاثر نہیں کیا کیونکہ باہمی غیر متعلق موضوعات و تنازعات میں پڑ کر ھم نے جماعت کا نقصان کیا ۔ اب بھی وقت ھے کہ جماعت کی ساری قیادت خود کو عوام میں لے جائے اور امدہ الیکشن کے بائیکاٹ کی کمپین کرے ۔
@AQayyumNiaziPTI@mms_ajk@salmanAraja@AbdulKhalidPTI@aamirmughalpti@agentjay2009@AhmadJawadBTH@JimmyVirkk
Since the 9th of June 26 , we in aj&k are living in Stone Age ! There is no market, no traffic, no fuel, no Internet, no law, and no order.
State authorities are entirely failed .
لکھ دی لعنت ایسے بھونپووں پہ جو آج جب ازاد کشمیر کو خون میں نہلایا جا رہا ھے تب بھی ناجائز حکمرانوں کا جھوٹا بیانیہ پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
ریاست ڈائن بن کے آپنے بچوں کا خون چوس رہی ھے جبکہ واحد انسان عمران خان تھا جو اس انتشار میں عوام کو درست سمت میں لے جانے کی صلاحیت رکھتا تھا لیکن ڈائن نے 3 برسوں سے ناجائز زنداں میں ڈالا ہوا ھے ۔
حذر اے چیرہ دستاں کہ
سخت ہیں فطرت کی تعزیریں
اخے کشمیریوں کو آٹا 2000 روپے من ملتا ہے بجلی کا یونٹ 3 روپے کا ملتا ہے۔
مخے کشمیر کے نام پر تم نے سات لاکھ فوج بنا لی۔ کشمیر کے نام پر دو سو ارب ڈالرز کی ایمپائر کھڑی کرلی۔ کشمیر کے نام پر پانچ پانچ ارب روپے کا ریٹائرمنٹ پیکج لے لیا۔ کشمیر کے نام پر چار مارشل لاء لگا دیے۔ کشمیر کے نام پر گالف کلب ، ڈی ایچ اے ، پلازے ، کلب بنا لیے۔ کشمیر کے نام پر پاپا جونز کھول لیے جزیرے خرید لیے۔ اخے آٹا اور بجلی۔
آج کشمیر خون میں ڈوبا ہوا ہے، ریاست ڈائن بن کر آپنے ہی بچوں کا خون چوس رہی ھے ۔
ایک انسان تھا اس وقت میں، عمران خان ، جو اس ماحول میں عوام کو مثبت اور درست سمت کی رہنمائی کر سکتا تھا لیکن ڈائن نے اس کو پابند سلاسل کر رکھا ھے ۔
ایسے وقت میں آزاد کشمیر کی عوام کا پرسان حال کو ہو گا
😥😥😥
لوگوں کا ووٹ ڈالنا ہی جمہوریت ہے اور ووٹ جمہوریت کی اکائی اور بنیاد ہے، انتخابات میں کسی قسم کی ہیرا پھیری ، مداخلت جمہوریت کے خلاف سازش ہے۔آئین و قانون کے مطابق جس دن انتخابات کا نوٹفکیشن جاری ہوتا ہے اس وقت سے لے کر ریٹرننگ آفیسر کے کسی امیدوار کی کامیابی کے نوٹفکیشن جاری ہونے تک کے عمل کو انتخابی عمل کہا جاتا ہے۔
انتخابی عمل میں ہر پارٹی اور ہر امیدوار کا عوام کے پاس جاکر ووٹ مانگنا ان کا آئینی و قانونی حق ہوتا ہے ۔ پہلے نشان چھینا گیا پھر پی ٹی آئی کو انتخابی عمل سے روکا گیا جو کہ پری پول دھاندلی تھی اور پی ٹی آئی کو انتخابات سے باہر رکھنے کی کوشش تھی۔انہوں نے صرف ایک پارٹی کو نہیں ستر فیصد عوام کی فالونگ رکھنے والی پارٹی کو روک کر ستر فیصد عوام کے حق رائے دہی کو غصب کیا۔
گلگت بلتستان کے 24 سیٹوں میں 22 پر ہمارے امیدوار تھے جن میں سے تین MWM کے تھے۔ ہمیں تین سیٹوں کے فارم 47 جاری کیے گیے باقی 8 سیٹوں پر ہم سو فیصد جیت چکے تھے اس کو شکست میں بدل دیا گیا۔الیکشن کے دن بھی دھاندلی ہوئی بوگس ووٹ ڈالے گئے ۔
بیرسٹر گوہر خان