خاموش مجاہد
اس کتاب کے مصنف کے مطابق جنرل اختر عبدالرحمن نے ڈی ایس پی کی نوکری چھوڑ کر فوج میں کمیشن حاصل کیا۔ تقسیم ہند کے وقت یہ خاندان جستروال سے لاہور منتقل ہو گیا۔زندگی کٹھن نہ تھی مگر سہل بھی نہ تھی۔ کتاب کے مصنف جنرل اختر عبدالرحمن کو"خاموش مجاہد"کا لقب دیتے ہیں روس افغانستان میں داخل ہوا۔اُس وقت ڈی جی آئی ایس آئی جنرل اختر عبدالرحمن تھے۔ مصنف کےمطابق تو جنرل کی زندگی اجلی تھی دامن نچوڑتے تو جنرل ضیاءالحق وضو کرکے امام بن جاتے تھے مگر "سندھڑی سے اوجڑی کیمپ تک" کتاب کے مصنف لکھتے ہیں کہ سانحہ اوجڑی ہوا تو محمد خان جونیجو نے ایک انکوائریکمیٹی تشکیل دی کمیٹی نے مکمل چھان بین کی کئی گواہوں کے بیانات قلمبند کئے کمیٹی نے رپورٹ میں جنرل اختر عبدالرحمن اور جنرل حمید گُل کے متعلق تادیبی کارروائی کا حکم دیا وزیراعظم جونیجو نے فائل صدر پاکستان جنرل ضیاءالحق کو دی کہ وہ ان افسران کے خلاف کارروائی کریں۔ کارروائی
کیا ہونی تھی جنرل نے منتخب وزیراعظم کو ہی گھر بھیج دیا۔سوال یہ اُٹھتا ہےکہ اگر جنرل کی زندگی اُجلی تھی تو پھر ڈالر اکاونٹ کیوں کھلوایا گیا تھا اور روس کے خلاف لڑنے والے لوگوں کو جواسلحہ فراہم کیا جاتا تھا اس کا ریکارڈ اوجڑی کیمپ میں تھا اوجڑی کیمپ میں اسلحہ کے ذخائر بھی تھے
آگ کیسے لگی؟جونیجو کی بنائی گئی انکوائری کمیٹی کے مطابق ان جرنیلوں کو نوکری سے فارغ کیوں نہ کیا گیا؟ جنرل اختر عبدالرحمن طیارہ حادثہ میں جنرل ضیاءالحق کے ساتھ جاں بحق ہو جاتے ہیں۔ جاتے جاتے ایک اور سوال کہ ان کے بیٹوں ہمایوں اختر اور ہارون اختر بزنس ایمپائرز کہاں سے بناتے ہیں
باپ نے نابالغ بیٹی سے زیادتی کی سی سی ڈی نے مار دیا تالیاں پیٹتے رہے۔ پھر پتہ چلا جھوٹ تھا بے گناہ شخص مارا گیا سینہ پیٹتے رہے۔ چکوال میں ایک معصوم کے قتل کا دباؤ آیا تو سرگودھا میں ایک ملزم کو مقابلے میں مار دیا سینہ پیٹنے والے پھر تالیاں پیٹنا شروع ہوگئے۔ اب معلوم ہوا ہے کہ وہاں بھی تفصیلات مشکوک قسم کی ہیں۔ اب انہی ہاتھوں سے اپنا منہ نوچ لیں۔
🚨🚨MashAllah MashAllah🚨🚨
An ASI along police constables was standing in a Chowk of Rahim Yar Khan and “heard” some people on a tea hotel discussing they abused Govt officials on @Tiktok__PK, the ASI took out his mobile searched the names and found their videos and registered FIR against them 👏👏
اور عمران خان سے ملاقات کئے بغیر کے پی کا پورے سال کا بجٹ پاس۔ خان کی ملاقات مائنس۔
175 ارب بھی دے دئیے گئے۔ بس یہ کہا گیا ہے کہ آپ پیسے کاٹ لیں ہم تھوڑی بہت نورا کشتی کریں گے۔ کیس عدالت بھی جائے گا۔ اور پھر فائل بند پیسہ ہضم۔
A similar delegation once met PM Imran Khan, demanding an expensive plot to build a swimming pool for the SCBA. Imran Khan greeted them with his trademark smirk, along with tea and a single biscuit each.
He really was a terrible politician….. by Pakistani standards!
کویٹہ کے علاقے ہنہ اوڑک کے گاوں ببری میں کل رات درجنوں نامعلوم مسلحہ افراد کا حملہ، لوکل رہائشیوں نے بڑی تعداد میں مقابلہ کرکے انکو علاقہ بدر کیا۔ بلوچستان میں شاید اب ہم سب اللہ اور اسکے بعد اپنے زور بازو کے آسرے ہیں۔ اتنا انتشار اور لاقانونیت تو 80 کی دہائی کے افغانستان میں نا تھی۔
ڈاکٹر یاسمین راشد کا وصیت کا لفظ استعمال کرنا اور کہنا کہ حالات ٹھیک نہیں لگ رہے اس بات کا ثبوت ہے کہ بات چیت نہیں ہو رہی کوئی معاملات بہتر نہیں ہو رہے تحریک انصاف کچھ کرنا چاہتی ہے تو کرے ۰
طارق متین
یہ غزہ نہیں افغانستان ہے، جہاں اسرائیلی نہیں بلکہ پاکستانی فوج اور ائیرفورس نے اندھا دھند بمباری کرکے معصوموں کا خون بہایا ہے۔
زندہ ہے، یزید آج بھی زندہ ہے!
آئیے یہ ڈھونگ نہ رچائیں — حق بات سنائیں: یزید اللہ کے کلمات کی تلاوت کرتا تھا اور قرآن کی آیات کا حوالہ دیتا تھا جبکہ وہ امت کو خون میں ڈبو رہا تھا، اور آج عاصم منیر بھی وہی کر رہا ہے، اپنے گھناؤنے عزائم کے لیے مقدس آیات کو ڈھال بنا کر۔
🚨بریگیڈیئر عثمان کو کھڈے لائن لگا دیا گیا — اسے قربانی کا بکرا بنایا گیا جبکہ اس کا ہینڈلر آزاد گھوم رہا ہے۔ تقریباً چھ سال سے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عمیر بلا روک ٹوک حرام کام کر رہا ہے، 2 سے 10 تولہ کے سونے کے ٹکڑے ہڑپ کر رہا ہے، زیورات فروشوں سے خریدتا ہے اور انہیں خفیہ سوراخوں میں چھپاتا ہے۔ کوئی جائیداد نہیں — صرف ریاستی عہدے کا استعمال کرکے سونے کا خزانہ جمع کرنے کی دوڑ لگا رہا ہے۔ اس کا فون چیک کریں۔ نمبروں کا سراغ لگائیں۔ سونے کے ٹکڑوں کا پیچھا کریں۔ ثبوت موجود ہیں!
منافع بخش تعیناتیوں پر افسران — سونے کے لیے کام کرتے ہیں!! یہ بدعنوانی کی ایک نئی شکل، بے شرم اور سزا سے مبرا۔
پھر بھی کوئی ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عمیر کو ہاتھ نہیں ڈالتا۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ صرف بریگیڈیئر عثمان ہی کیوں قیمت چکا رہا ہے۔ کیونکہ یہ نظام اپنوں کی حفاظت کرتا ہے — جب تک کہ عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ایک لاش کی ضرورت نہ پڑ جائے۔