جناب علی پرویز ملک صاحب
آپ قوم کے ساتھ ہاتھ کرنا بند فرمائیں۔ یہ جو پٹرول کی قیمتوں میں "اوسط" قیمت کے فراڈ کے نام پر آپ تیل بیچنے والی کمپنیوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں اسے ختم فرمائیں۔ سیدھا انوائس اور بل آف لیڈنگ کی بنیاد پر قیمت کا فیصلہ کریں۔
مہربانی ہو گی
وزیر پیٹرولیم نے پریس کانفرنس کی مگر جو پچھلے تین ہفتے خام تیل مسلسل سستا ہوتا رہا یہاں تک 65 ڈالر فی بیرل تک آیا اس کا حساب کتاب نہیں بتایا، اس کا ریلیف عوام تک کیوں نہیں پہنچا اس کی وجہ نہیں بتائی مگر جو ایک ہفتہ پہلے مہنگا ہوا اس کے فضائل پوری شدّ وُ مَد سے بتائے ہیں۔ وزیر پیٹرولیم نے کسی ایک جگہ پر بھی محسوس نہیں ہونے دیا کہ وہ عوام کے نمائندے ہیں بلکہ یہ ثابت کیا کہ وہ آئل کمپنیوں کے وکیل ہیں۔ویسے بھی اب ایک مہینے کے ذخائر رکھ کر روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ہوگا۔پیٹرولیم دفاعی ٹیم کھانے کے بعد دفاع کرے گی۔
مولانا فضل الرحمن، پی ٹی آئی، اے این پی، افغانی، اجیت ڈیول، عمران خان، اچکزئی وغیرہ میں سے کسی ایک پر تنقید دراصل پختونوں پر تنقید ہوتی ہے اور آپ نسل پرست پنجابی ہوتے ہیں جو ملک توڑنا چاہتے ہیں۔
ایہہ جے اصل پمبل پوسا
یہ بتائیے اب لیوی کیوں لگائی بڑھائی کیوں اس ہفتے کوئی نیا معاہدہ نہیں ہوا جو آپ نے لیوی بڑھائی یہ کسی بھی طرح جواز نہیں بنتا - جب آپ یہ کہتے ہیں کہ عالمی سطح پر پٹرولیم پرائسس ابھی 27 فروری کی سطح پر نہیں آئیں مان لیا تھا اب تو قیمت پچھلے ہفتے پر ہی تھیں تو آپ کم نا کرتے تو مستحکم ہی رکھتے اب لیوی کیوں بڑھائی یہ جواز اور منطق سمجھ سے باہر ہے وزیراعظم شہباز شریف آخر یہ کیوں کیا ہے ذرا بتائیں @CMShehbaz
آئندہ نیشنل اسمبلی کا ووٹ ن لیگ کے لئے ختم شد !
ہم نے ووٹ نواز شریف کے وزیر اعظم بننے کے لئے دیا تھا ۔ شہباز شریف کے لئے نہیں ۔
عوام کو دو ہفتے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر آج پیٹرول مہنگا کر دیا !
یہ صاحب صرف اشرافیہ کے وزیر اعظم ہیں ۔ غریب عوام کے نہیں ۔
پٹرول کی قیمتیں پورا ایک ماہ سے ذیادہ تاریخ کی کم ترین سطح پر رھیں لیکن اس حکومت نے عوام کو اس کا فائدہ عالمی مارکیٹ کے حساب سے نہیں پہنچایا ،عوام انتظار کرتی رھی لیکن یہ انتظار کوئی ریلیف کی خبر نا لایا،اب جب جنگ شروع ھوئے دو ھی دن ھوئے تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا دی گئیں ،اس بڑھوتری کا دفاع ھم سے نا ھوپائے گا۔معذرت
سعودیہ نے اسی ہفتے تیل کی فئ بیرل قیمت گیارہ ڈالر کم کی ہے کل بھی عالمی مارکیٹ میں تیل سستا ہوا مگر شہباز شریف حکومت نے جنگ کا بہانہ بنا کر چودہ روپے لیٹر پیٹرول بڑھا دیا ہے پاکستان پہلے بھی سستے تیل کا فائدہ غریب عوام کے بجائے آئل مافیا کو پہنچا رہا تھا
شہباز شریف عوام دشمن اور الیٹ نواز ہیں
پٹرول پر فی لیٹر 80 روپے کی بلند پٹرولیم لیوی برقرار رکھنے کے حکومتی فیصلے کی حمایت کرنا اب ممکن نہیں رہا
1۔ پٹرولیم لیوی دراصل 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (GST) کے متبادل کے طور پر متعارف کرائی گئی تھی تاکہ یہ رقم قابلِ تقسیم محاصل (Divisible Pool) کا حصہ نہ بنے اور صوبوں کے ساتھ تقسیم نہ کرنا پڑے۔
2۔ اگر آج بھی 18 فیصد جی ایس ٹی نافذ ہوتا تو پٹرولیم لیوی تقریباً 41 روپے فی لیٹر بنتی۔
3۔ حکومت، آج کیے گئے اضافے سمیت، فی لیٹر تقریباً 40 روپے اضافی وصول کر رہی ہے۔
4۔ اگر جی ایس ٹی کی شرح کے برابر ہی وصولی کی جاتی تو آج پٹرول کی قیمت تقریباً 270 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 293 روپے فی لیٹر ہوتی۔
5۔ حکومت کو چاہیے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد بھی صوبائی دائرۂ اختیار کے شعبوں پر اخراجات جاری رکھنے کے اپنے فیصلے کی سزا عوام کو نہ دے، اور پارلیمنٹ کی واضح منظوری کے بغیر بالواسطہ ٹیکسوں میں مسلسل اضافہ کرنے سے گریز کرے۔
6۔ آئینی ماہرین کو یہ بھی جائزہ لینا چاہیے کہ آیا قومی اسمبلی کسی ٹیکس کی شرح میں اضافے کا اختیار، اس کی کوئی بالائی حد مقرر کیے بغیر، حکومت کو تفویض کر سکتی ہے یا نہیں۔
دنیا میں فرعون سے بھی بدتر حکومت نون لیگ کی موجودہ شہباز شریف والی حکومت ہے جب سستا کرنا ہوتا ایک دو روپے مر مر کر کرتے جب مہنگا کرنا ہوتا تو بارہ پندرہ روپے کرتے ہیں پیٹرول 310 روپے لیٹر کر دیا ہے ابھی عالمی منڈی میں مہنگا نہی ہوا اور ایک دن میں یہ مہنگا کر بھی چکے تین ہفتے سستا پیٹرول تھا وہ مہنگا بیچتے رہے
ان پر روز ویسے لعنت بھیجیں جیسے شیطان پر بھیجتے ہیں