Pakistan’s latest official glacier inventory records approximately 13,032 glaciers, covering nearly 13,546 square kilometres. Earlier assessments used for national GLOF programming identified 3,044 glacial lakes in Gilgit-Baltistan n KP
Read my piece
https://t.co/JtKER1xgof
Hats off to Islamabad Baboos who diligently ensure replacement of SN highway date palms tree every 3/4 month. It’s on the date palms why they get dry in a very conducive environment of the capital. Anyway, they need to be so!
#PAKBATT Commander engages local leaders in #Todach on peace and security. Engagement reinforced cooperation with @UNISFA_1 and support for Abyei Weapon‑Free Zone campaign and safeguarding peaceful existence Misseriya and Ngok Dinka esp. at Amiet Market. #Abyei#investinpeace
@ChairmanBWC Bought a water front file three years ago, paid over 500k in instalments and today it’s worth nothing no one is interested in buying even on half of the sum paid. BWC is a big scam!
PAKISTAN: Sanitation workers keep our cities running, yet many continue to work in conditions that put their lives at risk.
On 4 July, two sanitation workers died and another was critically injured after inhaling toxic gases while cleaning a manhole in Chishtian, Punjab. Their deaths are the latest in a series of preventable tragedies involving sanitation workers carrying out dangerous sewer-cleaning work without adequate protection.
Based on media reports, at least 16 sanitation workers have died since April 2026. Their deaths were linked to suffocation and exposure to toxic fumes while manually cleaning sewers.
The dangers sanitation workers face extend beyond sewer cleaning. On 1 June, a sanitation worker was crushed to death while sweeping a road. Days later, another sanitation worker set himself on fire in Gujranwala after allegedly facing unpaid wages and unlawful salary deductions. He died from his injuries on 28 June. Reports indicate that he had repeatedly raised concerns about insufficient wages before his death.
مہا رنگ باز لانگو کو سزا ھوئی ھے تو سارے پاکستان کے دانشوروں کو پنجابی قوم کو کوسنے کا ایک اور موقعہ ہاتھ میں آ گیا ھے۔ کہ جی پنجابی چھوٹی قوموں کے پلاسٹکی چیوگویروں کا ساتھ کیوں نہی دیتے جو پنجابی قوم کی توھین بھی کرتے ھیں اور ریاست پاکستان کو توڑ کر اپنی خیالی جنت آزاد بلوچستان یا پشتونستان بنانا چاھتے ھیں؟
جب تک باقی اقوام کے دانشور یہ نقطہ نہی سمجھیں گے عام پنجابی کو کسی قوم کے جائز حقوق سے کوئی مسلہ نہی ھے لیکن ریاست پاکستان کے وجود پر سوال اٹھانے والے کسی پلاسٹکی چی گویرا کو پنجاب سے کبھی حمایت نہی ملے گی۔ تب تک کسی قوم کا کوئی حقوق والا مسلہ حل نہی ھو گا۔
کیونکہ اکثر دانشور حکومت پاکستان یا فوج کو الزام نہی دیتے بلکہ ریاست پاکستان کو الزام دیکر کر ریاست پاکستان کے جائز وجود پر سوال اٹھاتے ھیں یعنی ریاست پاکستان کو ایک ناجائز اور غاصب ریاست کے طور پر پیش کرتے ھیں۔ اور ریاست پاکستان کو ختم کر کے آزاد بلوچستان پشتونستان اور سندھو دیش جیسے انڈین پراپوگنڈے کے ذریعے پیدا کردہ سرابوں کے پیچھے بھاگتے ھیں۔
اور زیادہ تر نام نہاد دانشور اور مزاحمت کار اپنے مقدمے کی بنیاد پوری پاکستانی قوم کے ساتھ ھونے والی نا انصافی کو نہی بناتے بلکہ اپنے صوبائی تعصب کو بناتے ھیں۔ یعنی اپنے سندھی بلوچی پشتون تعصب کو آواز دیتے ھیں اور نعرہ لگاتے ھیں کہ بزدل غلام غاصب پنجابی کے خلاف کھڑے ھو جاؤ تب ہی آزادی ملے گی۔
مجھے بس کسی بھی قوم کے بس ایک دانشور کا نام بتا دیں جو پاکستان پر مسلط بے نام انگریزی اشرافیہ کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتا ھو ؟
کیا پاکستان پر مسلط غربت جہالت اور غیر ہنر مندی کی وجہ پنجابی قوم ھے یا یہ مہنگا انگریزی سامراجی طبقاتی نظام تعلیم جس میں بس انگلش بولنے والوں کو انسان سمجھا جاتا ھے اور بس انگلش بولنے والوں کو حقوق حاصل ھیں؟
انگلش نظام تعلیم اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے قائم کردہ سول فوجی اداروں اور انگریزی عدلیہ کو نشانہ بناتا ھو؟
کیا پاکستان پر عام پنجابی قابض ھے یا انگریزی اشرافیہ میں سب اقوام کے چور اپنی آبادی کے حساب سے قابض ھیں؟
کیا عام پنجابی کی حالت باقی پاکستان سے اچھی ھے؟
کیا پاکستان پر مسلط انگریزی اور اردو اشرافیہ نے پنجابی زبان کا خاتمہ نہی کر دیا ؟
کیا کسی بلوچ یا پشتون کو بلوچ یا پشتون ھونے کی وجہ سے پاکستان میں حقوق نہی ملتے ؟
کیا بلوچ اور پشتون پورے پاکستان کے ہر ضلعے میں بھاری تعداد میں موجود نہی ھیں ؟
لیکن یہ سب نام نہاد پشتون بلوچ سندھی قوم پرست دانشور نام لیکر پنجابی قوم پر حملہ آور ھوتے ھیں اور ساتھ ہی ریاست پاکستان کے وجود پر سوال اٹھاتے ھیں۔ ایسے میں جواب میں اردو بولنے والے پنجابی ریاست پاکستان کا مقدمہ لڑتے ھیں۔ اب جا کر کچھ پنجابی لڑکے پنجابی قوم کا مقدمہ لڑنا شروع ھوئے ھیں لیکن وہ پنجابی قوم پرست بھی پاکستان سے باہر کسی ریاست کے بارے میں نہی سوچ رھے۔ نہ کوئی پنجابی پاکستان سے باہر کسی ریاست کا سوچ سکتا ھے۔ دوسری طرف ہمارے پشتون بلوچ سندھی قوم پرستوں کو انڈین پراپوگنڈے کے ذریعے تین عدد خیالی جنتوں آزاد بلوچستان پشتونستان سندھو دیش وغیرہ کے خواب دکھائے جاتے ھیں۔
اب جب بلوچ پشتون سندھی قوم پرست دلائل سے پنجابی قوم کی طاقت کو نہی توڑ پائے تو پنجاب میں سرائیکستان نامی چڑیا کا شوشہ چھوڑ دیا گیا ھے تاکہ پنجاب اور پنجابی شناخت کا خاتمہ کیا جا سکے۔
اس سب کے باوجود عام اردو بولنے والا پنجابی پاکستان کی خاطر پنجاب کے ٹکڑے کرکے پنجابی شناخت کے خاتمے پر راضی ھے کیونکہ پاکستان کی خاطر پنجابی زبان کا خاتمہ تو وہ پہلے ہی قبول کر چکا ھے اب پنجاب کا خاتمہ بھی ھو جائے تو اسے کیا فرق پڑے گا؟ پنجابی قوم کا خاتمہ کر کے لاھور گجرانوالہ فیصل آباد ڈویژن تک محدود کر کے کر
“ دو آبی “
رکھ دیا جائے تو اس اردو انگلش بولنے والے پنجابی کو کیا فرق پڑے گا؟
عام پنجابی کے نزدیک پورے پاکستان کے چھوٹے صوبے بنا دئیے جائیں لیکن اس کو نہی پتہ کہ چھوٹے صوبے بنانے سے عظیم پشتون اور بلوچ اقوام پاکستان کی بڑی اقوام بن جائیں گی کیونکہ وہ اپنے صوبے کسی صورت تڑوانے کو تیار نہی اور ان کا دعویٰ ھے پاکستان میں صرف بلوچ اور پشتون ہی خالص اقوام ھیں پنجاب اور سندھ تو دریاؤں کا نام ھے کسی قوم کا نام نہی۔
اور وہ سب مل کر پنجابی قوم کو دو ڈویژن تک محدود کرنا چاھتے ھیں ساتھ میں سندھی قوم سے کراچی چھین کر سماٹ سندھیوں کو بھی انکی اوقات میں رکھنا چاھتے ھیں اس کے بعد شاید سندھ کے عظیم بلوچوں کو بھی کچھ نہ کچھ دے دیا جائے۔
@javerias@SaudiAirlinesEn All this is not lesser than a truth. I happened to travel by @Saudi_Airlines from Lahore to New York back in 2019. That changed my perspective of the best airline. No doubt, @Saudi_Airlines is the best!
@RShahzaddk محترم آپکی پسٹس عمومی طور پر مثبت ہوتی ہے ۔ مگر یہاں آپ کو شاید اپنی معلومات ٹھیک کرنا ہونگی ۔ پنجاب گونمنٹ نے وہ سکول پرائیویٹ کئے جو عرصہ دراز سے بند تھے جبکہ ٹیچر تنخواہ وصول کر رہے تھے- حالت بدتر اور امارتیں ناگفتہ بہ تھیں ۔ اب ادھر اسٹوڈنٹ کی واپسی ہوی ہے ۔
Fellows, I have put together some insight into the developments of COP31 in my column in The News today. The Conference will convene in Antalya. Türkiye physically hosts the event while Australia presides over the formal international negotiations.
https://t.co/8f2uF5ygsH
Ministers mentioning "relief" even as they batter the public with backbreaking petro price hike is, to say the least, shameful. No less shameful is that they sit in front of the cameras and praise each other's performance before an audience whose majority lives in dire economic circumstances. The whole lot seems to think that a war victory is a license to treat the people and their issues with total derision. That's more than shameful.
ایک سرکاری بابو ایک شہر میں آتا ہے ڈیکوریشن کے نام پر فنڈ منظور ہوتا ہے اور پام یا دوسرے exotic plants لگا دیے جاتے ہیں.
پام یہاں کا موسم برداشت نہیں کر پاتے اور مر جاتے.
پھر اگلا سرکاری بابو آتا ہے اور پھر سے یہی کہانی ریپیٹ ہوتی.
@haniabatool9 محترمہ پہلے تو اپنا جیو گریفی ٹھیک فرما لیں ۔ اسلام آ با د پنجاب نہی ہے- دوسری بات اسلام آ با د مین majority ریستوران پشتون ہی ہیں جو پنجابی cuisine کا ستیا نا س مارتے ہیں ۔
کوئی شک نئ Peshawar کا tika اور روش لا جواب ہے مگر پنجاب کے کھا نو ں کو یونیورسل پسندیدگی ملتی ہے -