دس پاکستانی شہریوں کو 45 دن سے صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ ان پاکستانیوں کے اہلخانہ نہ صرف سخت پریشان ہیں بلکہ اپنے پیاروں کی سلامتی کے لیے نہایت فکرمند ہیں۔ حکومتِ پاکستان اس معاملے کی سنجیدگی کو سمجھے اور یرغمال بنائے گئے پاکستانی شہریوں کی بحفاظت اور جلد واپسی یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ یرغمالی شہریوں کے اہلخانہ نے بات چیت میں بتایا کہ انہیں پینے کے لیے زنگ آلود پانی دیا جارہا ہے ، ان کی صحت مسلسل خراب ہورہی ہے اور زندگیاں خطرے میں ہے ۔ حکومت کو فوری اور موثر قدم اٹھانا چاہیے۔
پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی لاہور کا سیلاب سے متاثرہ علاقوں تھیم پارک ، منظور گارڈن ، برکت کالونی کے متاثرین سے ملاقات ،پنجاب حکومت فوری طور پر وعدے کے مطابق سیلاب سے بچنے کے لیے حفاظتی بند تعمیر
کرئے ۔اگر عمل درآمد نہ ہوا تو جلد اہل علاقہ کے ساتھ مل کر احتجاج کا اعلان ہو گا۔
A senior police officer in UP, India, riding a bullock cart to ‘spread’ Modi’s message among Indians to cut down the use of petrol and diesel. Everything has become a joke in India.
اظہار بھائی یوں نہ کریں نام بھی لیں اور کیا ہی اچھا ہو کہ جب ایم کیو ایم طاقت میں تھی اور کراچی کے جس جس صحافی اور اینکر وغیرہ نے پلاٹ پرمٹ نوکری شادی کے کھانے ہالز وغیرہ بک کرائے مفادات سمیٹے سبھی کی فہرست جاری کردیں
پاکستان کو بے نظیر انکم سپورٹ نہیں ایجوکیشن سپورٹ، اسکل سپورٹ اور اے آئی سپورٹ پروگرام کی ضرورت ہے۔ قوم کے بچوں کو معیاری تعلیم اور اسکلز کی ضرورت ہے۔ ایک طرف صوبائی حکومتیں تعلیمی ادارے آؤٹ سورس کررہی ہیں دوسری طرف غریبوں کا نام لیکر سیکڑوں ارب روپے ایک ایسے پروگرام کے لیے رکھے جارہے ہیں جو غربت میں کمی کے بجائے اضافہ کا سبب بن رہا ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق ملک میں گذشتہ تین برس میں غربت میں 33 فیصد اضافہ ہوا اور ایک کروڑ 30 لاکھ نئے افراد غربت کی سطح سے نیچے چلے گئے ہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام قوم کو بھکاری بنانے کا فراڈ پروگرام ہےاور پی پی اور ن لیگ کی ملی بھگت ہے۔ پیپلزپارٹی کے طرز حکمرانی نے یہ بات ثابت کردی کہ اگر وہ کسی پراجیکٹ کے لیے پیسے مانگ رہے ہے تو سمجھ لیں کرپشن کرنےکے لیے مانگ رہے ہیں ۔اور وڈیرہ سسٹم کو مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔