جسٹس اطہر من اللہ کا دعوی تھا کہ عمران خان اس گولے کا مقبول ترین لیڈر ہے جبکہ آج پاکستانی عوام نے یہ ثابت کردیا کہ ان کے دل میں صرف پاکستان کی مقبولیت ہے
اس شاندار تقریب کو آرگنائزر کرنے پر مریم نواز اور انکی پوری ٹیم کا شکریہ
@MaryamNSharif
وزیراعظم محمد شہباز شریف کا ویژن!
بزرگ پنشنرز کی تکریم اور آسانی۔۔۔ PakID موبائل ایپ سے گھر بیٹھے پنشن کی فراہمی!
فنگر پرنٹ کی تصدیق میں دشواری کی صورت میں لائیو فیس امیج کے ذریعے بھی PakID موبائل ایپ میں تصدیق کی سہولت موجود ہے۔
ٹیکنالوجی کے ذریعے آسان پنشن، بزرگ پنشنرز کے لیے مزید سہولت!
پشاور میں محترم شاہ جی گل آفریدی صاحب کی رہائش گاہ پر حاضری ہوئی اور سابق سینیٹر تاج محمد آفریدی اور الحاج جنت شیر آفریدی صاحب کی وفات پر تعزیت اور ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی۔ سابق گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا صاحب اور کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان صاحب بھی ہمراہ تھے۔ مرحومین کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ درجات بلند فرمائیں اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائیں، آمین
وزیراعظم محمد شہباز شریف کا ویژن!
بزرگ پنشنرز کی تکریم اور آسانی۔۔۔ PakID موبائل ایپ سے گھر بیٹھے پنشن کی فراہمی!
فنگر پرنٹ کی تصدیق میں دشواری کی صورت میں لائیو فیس امیج کے ذریعے بھی PakID موبائل ایپ میں تصدیق کی سہولت موجود ہے۔
ٹیکنالوجی کے ذریعے آسان پنشن کی سہولت موجود ہے
وزیراعظم محمد شہباز شریف کا ویژن
بزرگ پنشنرز کی تکریم اور آسانی PakID موبائل ایپ سے گھر بیٹھے پنشن کی فراہمی
فنگر پرنٹ کی تصدیق میں دشواری کی صورت میں لائیو فیس امیج کے ذریعے بھی PakID موبائل ایپ میں تصدیق کی سہولت
ٹیکنالوجی کے ذریعے آسان پنشن، بزرگ پنشنرز کے لیے مزید سہولت!
جیسے ریڈیو پاکستان کو دوبارہ آباد کیا ہے ویسے ہی خیبر پختونخوا پر ناعاقبت اندیشوں کا قبضہ ختم کروا کے پورے صوبے میں دوبارہ (ن) لیگ کا پرچم لہرائیں گے۔
~ کوآرڈینیٹر وزیراعظم اختیار ولی خان
وزیراعظم محمد شہباز شریف کا ویژن
بزرگ پنشنرز کی تکریم اور آسانی PakID موبائل ایپ سے گھر بیٹھے پنشن کی فراہمی
فنگر پرنٹ کی تصدیق میں دشواری کی صورت میں لائیو فیس امیج کے ذریعے بھی PakID موبائل ایپ میں تصدیق کی سہولت
ٹیکنالوجی کے ذریعے آسان پنشن، بزرگ پنشنرز کے لیے مزید سہولت!
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اسلام آباد سے پشاور صرف دو گاڑیوں میں تشریف لائے تھے۔ پشاور میں جو دیگر گاڑیاں قافلے میں نظر آئیں، وہ مقامی مسلم لیگ ن کے منتخب نمائندوں اور رہنماؤں کی تھیں، جن میں پشاور شہر سے منتخب ارکانِ صوبائی اسمبلی ملک طارق اعوان، جلال خان اور قاری ظاہر، سابق گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان اور دیگر مقامی رہنماؤں کی گاڑیاں شامل تھیں۔ لہٰذا ہر گاڑی کو وفاقی وزیر کے پروٹوکول کا حصہ قرار دینا حقائق کے منافی ہے۔
اب کسی پین پٹاکے یو ٹیومر کی باجی نہی بھاگی؟ اس یکی پر کسی کا کیڑا نہی جاگا؟ اوئے بےغیرتو گندی نسل دیو زندہ ہو خا شرمندہ ہو؟ آئ جی کے پی کے اختیار وزیر اعلی کو دینے لگے۔ یہ پین یک صوبے کے ساتھ مذاق کرنے آئے ہیں۔
@ShafiJanPTI@ImranKhanPTI@ARYSabirShakir@SohailAfridiISF
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے سابق گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا کے ہمراہ پشاور پریس کلب میں کیک کاٹ کر وی نیوز پشاور بیورو آفس کے باقاعدہ آغاز کی خوشی میں شرکت کی۔ پشاور کے معتبر اور قابل صحافی لحاظ علی کو اس نئے سفر کے آغاز پر دلی مبارکباد۔ امید ہے کہ وی نیوز پشاور بیورو ذمہ دار، مثبت اور معیاری صحافت کے فروغ میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔ @TheLehaz
نئے سفر کے لیے نیک خواہشات اور کامیابی کی دعا۔
سہیل آفریدی نے پختونوں کو بدمعاش کہا جو پوری پختون قوم کی توہین ہے۔مگر جس بدمعاشی کا وہ اسمبلی میں ذکر کر رہا تھا وہ اصل میں عمران خان کا دیا ہوا شعور ہے۔ یقیناً وہ شعور جلاؤ گھیراؤ توڑ پھوڑ، اپنے مخالفین کے خلاف گندی غلیظ زبان اور بے بنیاد الزامات لگانے اور خواتین کی بے توقیری کی صورت میں نظر آتا ہے۔ملک کے خلاف پروپیگنڈا اداروں پر حملے ،ریاست کے خلاف زہر اگلنا، ملک دشمن عناصر کا آلہ کار بن کر ریاستی اداروں پر سکیورٹی فورسز پولیس اہلکاروں پر حملہ آور ہونا، شہداء کی قربانیوں کا مذاق اڑانا، شہداء کی یادگاروں کو جلانا بھی اسی شعور کا حصہ ہے۔
ریڈیو پاکستان پشاور کی بحالی تعمیرِ پاکستان کے عزم کی علامت ہے۔ 9 مئی کی تباہی کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر تاریخی عمارت کی تعمیرِ نو مکمل ہوگئی۔ ہمارا جواب انتشار نہیں، تعمیر و ترقی ہے۔ 🇵🇰
— وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ
@TararAttaullah
*ٹویٹ وفاقی وزیرِ اطلاعات (دورہ ریڈیو پاکستان پشاور)*
ریڈیو پاکستان پشاور کی بحالی، تعمیرِ پاکستان کے عزم کی علامت ہے۔ جہاں سے پاکستان کے قیام کا اعلان ہوا، اس قومی ورثہ کو جلانے والے انتشاریوں کو ہمارا جواب تعمیر اور ترقی ہے۔ 9 مئی کی تباہی کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے ریڈیو
13 سال گزر گئے، خیبرپختونخوا کا واحد بچوں کا اسپتال آج بھی مکمل نہ ہو سکا۔ عمارت خستہ حال ہو رہی ہے، قیمتی مشینری زنگ آلود ہو کر خراب ہو رہی ہے، مگر بچوں کے علاج کی سہولت آج بھی عوام کو میسر نہیں۔ سوال صرف ایک ہے: اتنے سالوں میں اسپتال مکمل کیوں نہیں کیا گیا؟
وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ کا دوٹوک مؤقف
پی ٹی آئی کو کسی صورت اسلام آباد میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا۔ ریاستی رٹ، امن و امان اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
@TararAttaullah
غیر متعلقہ امیدواروں کو مبینہ طور پر سرکاری ملازمتیں دلوانا۔
خواتین کے لیے مخصوص LHW اسامیوں پر مرد امیدواروں کی تعیناتی۔
66 اسامیوں کے مقابلے میں 173 افراد کی بھرتی۔
ریٹائرڈ یا فوت شدہ ملازمین کے بچوں کے مخصوص کوٹے پر مبینہ طور پر غیر متعلقہ افراد کی بھرتی۔
خیبرپختونخوا کی کرپشن اور باریک وارداتوں پر کوئی صحافی پروگرام اور کوئی یوٹیومر ویلاک کرتا نظر نہیں آئے گا کیونکہ اس ایشو پہ ریٹنگ نہیں ملے گی ویوز نہیں آئیں گے، صرف پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا برگیڈ سے گالیاں سننے کو ملیں گی! KPK میں خواتین کی پوسٹوں پر لونڈے لپاڑے بھرتی کیے گئے ہیں۔کوئی پوچھنے والا نہیں ہے!
مردان میں خواتین کی مخصوص LHW پوسٹوں پر 31 مردوں کی بھرتی تو ایک چھوٹا سا کارنامہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں اربوں روپے کی مبینہ کرپشن کے دعووں پر کتنے صحافی اور یوٹیوبرز تحقیقاتی ویلاگ کریں گے؟ یا کیمرے صرف سیاسی مخالفین کے لیے نکلتے ہیں؟
ریڈیو پاکستان پشاور کی بحالی تباہی کے مقابلے میں تعمیر اور انتشار کے مقابلے میں ترقی کے عزم کی علامت ہے۔ 9 مئی کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کے حکم پر قومی ورثے کی عمارت دوبارہ تعمیر ہونا پاکستان کے روشن مستقبل کے عزم کا عملی ثبوت ہے۔وزیر اطلاعات عطاء تارڑ 🇵🇰 @TararAttaullah