ارشد شریف نے کہا تھا کہ یہ ہجوم جب جاگ اٹھا تو دنیا کی کوئی طاقت پھر اس کو قوم بننے سے نہیں روک سکتی اور الحمدللہ اس دن کی بنیاد ہم نے قوم بن کر رکھ دی ہے۔
ارادے جن کے پختہ ہوں نظر جن کی خدا پر ہو
تلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے
@javerias#ArshadSharifShaheed
#ElectionResults #Elections2024 #GeneralElectionN0W
اسلام آباد میں نوجوان لڑکی کو مبینہ اغوا کی کوشش سے بچانے کے دوران پاک فضائیہ کے بہادر افسر گروپ کیپٹن عاصم طارق جان کی بازی ہار گئے۔ انہوں نے انسانی ہمدردی، جرات اور فرض شناسی کی ایسی مثال قائم کی جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔خواتین کے تحفظ، عزت و حرمت اور معاشرتی اقدار کے دفاع کے لیے کھڑا ہونا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ شہید گروپ کیپٹن عاصم طارق نے ایک بے گناہ لڑکی کی مدد کرتے ہوئے اپنی جان قربان کر کے بہادری، غیرت اور انسانیت کی اعلیٰ مثال قائم کی۔شہید گروپ کیپٹن عاصم طارق کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ شہید کے درجات بلند فرمائے، مغفرت عطا کرے اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
“میری ذمہ داری ہے کہ ملک میں تیز ترین انٹرنیٹ کی فراہمی کو ممکن بنایا جائے۔ نیا ٹیلی کام بل 6 ماہ قومی اسمبلی میں زیرِ غور رہا اور پیپلز پارٹی کے تعاون سے منظور ہوا۔ سینیٹ کمیٹی میں بھیجنا جمہوری عمل کا حصہ ہے۔ اس بل کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کسی کی ذاتی زمین پر قبضہ کیا جائے گا۔”
“میری ذمہ داری ہے کہ ملک میں تیز ترین انٹرنیٹ کی فراہمی کو ممکن بنایا جائے۔ نیا ٹیلی کام بل 6 ماہ قومی اسمبلی میں زیرِ غور رہا اور پیپلز پارٹی کے تعاون سے منظور ہوا۔ سینیٹ کمیٹی میں بھیجنا جمہوری عمل کا حصہ ہے۔ اس بل کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کسی کی ذاتی زمین پر قبضہ کیا جائے گا۔ میرے اور سیکریٹری آئی ٹی کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا اور مالی الزامات لگائے گئے، جن پر قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔” وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ
استنبول B2B کانفرنس: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ترکیہ کے صدر اردوان، کابینہ اور کاروباری حضرات پاکستان کے ساتھ تعاون کے لیے پُرعزم ہیں۔ امید ہے جلد بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کے ذریعے توانائی اور دیگر شعبوں میں پیش رفت ہوگی۔
President Recep Tayyip Erdogan of Turkiye and PM Muhammad Shehbaz Sharif addressed the media together during a joint Press Stakeout on 4 July, 2026 in Istanbul.
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے استنبول میں ترکیہ کے نمایاں کاروباری گروپوں کی ساتھ ملاقاتیں
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے استنبول میں ترکیہ کے سرکردہ کاروباری گروپوں اور صنعتی تنظیموں کے اعلیٰ عہدیداران نے الگ الگ ملاقاتیں کیں جن میں اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے اور معیشت کے کلیدی شعبوں میں ترکی کی مزید سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
وزیراعظم کی چالک ہولڈنگ (Çalık Holding) کے چیئرمین جناب احمد چالک، البیرک گروپ (Albayrak Group) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین جناب احمد البیرک اور یونین آف دی چیمبر اینڈ کموڈیٹی ایکسچینجز آف ترکیہ کے صدر رفعت حصارسیکیعلو سے ملاقاتیں ہوئیں۔
ملاقاتوں کے دوران، وزیراعظم نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات کو اجاگر کیا اور دونوں ممالک کے غیر معمولی تعلقات کو ایک مضبوط اقتصادی اور سرمایہ کاری شراکت داری میں تبدیل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے پاکستان کے بہتر ہوتے ہوئے میکرو اکنامک (مجموعی معاشی) بنیادی عوامل، سرمایہ کار دوست پالیسی فریم ورک اور شفاف، پیش گوئی کے قابل اور کاروبار دوست سرمایہ کاری کا ماحول یقینی بنانے کے حکومتی عزم کو نمایاں کیا۔
وزیراعظم نے ترک کمپنیوں کو پاکستان کے ترجیحی شعبوں بشمول توانائی، کان کنی و معدنیات، انفراسٹرکچر، میری ٹائم (بحری امور) و لاجسٹکس، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیلی کمیونیکیشن، مینوفیکچرنگ، زراعت اور نجکاری میں اپنی سرمایہ کاری کا دائرہ کار بڑھانے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ 'خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل' (SIFC)، متعلقہ وفاقی اور صوبائی حکام کے ساتھ قریبی تعاون سے کام کرتے ہوئے، اسٹریٹجک سرمایہ کاروں کو 'ون ونڈو' سہولت اور ادارہ جاتی معاونت فراہم کر رہی ہے۔
چالک ہولڈنگ کے ساتھ ملاقات میں، وزیراعظم نے توانائی، انفراسٹرکچر، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور نجکاری کے شعبوں میں پاکستان میں موجود اہم مواقع پر زور دیا۔ انہوں نے پاکستان میں اپنے آپریشنز کو وسعت دینے میں کمپنی کی دلچسپی کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ 'چالک انرجی' (Çalık Enerji) اور 'گیپ انشات' (GAP İnşaat) کے ذریعے کمپنی کی موجودہ موجودگی گہرے تعاون کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان میں البیرک گروپ (Albayrak Group) کی دیرینہ سرگرمیوں کو سراہا اور پاکستان کی مواصلاتی رابطوں اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں کمپنی کے اہم کردار کا اعتراف کرتے ہوئے، انہیں بحری انفراسٹرکچر، بندرگاہوں کی جدید کاری اور لاجسٹکس کے شعبوں میں اپنی سرمایہ کاری مزید بڑھانے کی ترغیب دی۔
وزیراعظم نے پاکستان میں البیراک گروپ کی دیرینہ مصروفیات کو بھی سراہا اور کمپنی کو میری ٹائم انفراسٹرکچر، بندرگاہوں کی جدید کاری اور لاجسٹکس میں اپنی سرمایہ کاری کو مزید وسعت دینے کی ترغیب دی اور پاکستان کے کنیکٹیویٹی اور انفراسٹرکچر کی ترقی میں اس کے اہم کردار کو تسلیم کیا۔
یونین آف دی چیمبر اینڈ کموڈیٹی ایکسچینجز آف ترکیہ کے صدر کے ساتھ ملاقات میں، وزیراعظم نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان کاروباری سطح پر باہمی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے تنظیم کی مسلسل کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان باقاعدہ رابطوں کے لیے ایک منظم ادارہ جاتی میکانزم قائم کرنے کی تجویز دی اور TOBB کو دعوت دی کہ وہ سرمایہ کاری کے ابھرتے ہوئے مواقع کا براہِ راست جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کاروباری وفد کی قیادت کرتے ہوئے پاکستان کا دورہ کرے۔
ترک کاروباری رہنماؤں نے حکومت پاکستان کی اقتصادی اصلاحات، سرمایہ کاری کے ماحول میں بہتری اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان کے معاشی نقطہء نظر پر اعتماد کا اظہار کیا اور پاکستان اور ترکی کے درمیان بڑھتی ہوئی اقتصادی شراکت داری میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے متعدد اسٹریٹجک شعبوں میں سرمایہ کاری کو بڑھانے اور طویل مدتی شراکت داری کو فروغ دینے میں اپنی دلچسپی کا اعادہ کیا۔
Paid my respects and conveyed deepest condolences on behalf of the Government and people of Pakistan, to the Government and brotherly people of Iran at the funeral ceremony of the late Supreme Leader of the Islamic Republic of Iran, Shaheed Ayatollah Sayyed Ali Khamenei.
The late Supreme Leader’s wisdom, leadership and profound influence on Iran and the wider region will be remembered for generations.
To demonstrate our solidarity with the Iranian people, I was accompanied by a high powered delegation including DPM Ishaq Dar, CDF & COAS Field Marshal Syed Asim Munir, senior Parliamentarians, including Chairman Pakistan People's Party Bilawal Bhutto Zardari and Speaker of the National Assembly Sardar Ayaz Sadiq, as well as senior Ministers and government officials.
As a brotherly neighbor, Pakistan stands with Iran in this time of grief.
PM Shehbaz Sharif arrived in Istanbul on 3 July 2026 for a bilateral visit to Türkiye. He was received at Atatürk Airport by Trade Minister Prof. Dr. Ömer Bolat, Pakistan’s Ambassador Dr. Yousuf Junaid, and other Turkish officials.
Today’s visit to Tehran reflects the depth of Pakistan-Iran ties. With PM Shehbaz Sharif’s leadership and Field Marshal Asim Munir’s presence, Pakistan showed it stands with Iran in grief & dignity,because trust and brotherhood grow stronger in hard times.
تہران کی فضا سوگوار ہے۔ ایرانی قوم نے اپنے شہید رہبر کی یاد میں اور ان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے پورے شہر میں ان کی تصاویر آویزاں کی ہیں۔ پاکستانی وفد، وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں ابھی تہران پہنچا ہے۔
Rivers know no borders, but agreements define responsibilities.
The Indus Waters Treaty turned a challenge into a structured partnership.
A legacy of law, balance, and shared accountability.
یہ سال پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا سال ہے۔ پاکستان نے جو تیسری جنگ عظیم رکوائی، آج دنیا اس کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ تعلقات استوار کر رہی ہے۔
~چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد کی نیوز کانفرنس
#BudgetForYouth
Following Islamabad’s push for peace talks and Pakistan’s diplomatic success, India faces another narrative setback. Modi’s hardline nationalism doesn’t align with BRICS/SCO claims, while Pakistan’s case, and international law—appears stronger.
روسی جغرافیائی سیاسی ماہر
Dr. Roxolana Zigon
نے جناح کنونشن سنٹر اسلام آباد میں منعقدہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق سیمینار سے اپنے خطاب میں پاکستان کے قومی نصب العین "ایمان، اتحاد، نظم و ضبط" کو جنوبی ایشیا میں امن، استحکام اور سفارت کاری کی بنیاد قرار دیا۔
#IndusWatersTreaty
"The story of Pakistan is, in many ways, the story of the Indus. It is for this reason that the Indus Waters Treaty of 1960 occupies such a unique place in international relations. Signed under the auspices of the World Bank, the treaty has endured wars, political upheavals, and prolonged periods of tension. Its resilience for more than six decades demonstrates an enduring truth: that cooperation, dialogue and adherence to international commitments remain the only sustainable path to peace.
The treaty stands as a remarkable example of the rules-based international order. It embodies the principles of good faith, the sanctity of agreements, and the peaceful resolution of disputes. These are not merely legal concepts; they are the foundations upon which trust is built.
Our national leadership, Prime Minister Shehbaz Sharif, Field Marshal Syed Asim Munir and other leaders have repeatedly stated that the people of Pakistan have an inalienable right to the waters of the Indus. The Indus Waters Treaty cannot be amended, revoked, suspended or held in abeyance unilaterally. This treaty came into being through mutual consensus, and only mutual consensus can lead to any amendment or revision.
India's failed attempt to unilaterally hold the treaty in abeyance has led to international embarrassment for India in various forums, including legal forums. Therefore, when a one-sided attempt is made to place this treaty in abeyance, the moral, social, and legal foundations of that attempt are extremely weak. Any structure built on weak foundations is bound to collapse."
#IndusWatersTreaty
Famous Chinese academic and Vice President of @CCG_org Dr. Victor Gao said that India's water diversion is a war crime and a "crime against humanity":He said China will fully support Pakistan in this regards. https://t.co/L04j1sJtRz via @YouTube