”ہم ہر دن ایک نیا پلان دیں گے، انشاءاللہ صوابی پہنچنے تک ہر چوک ڈی چوک بن چکا ہوگا۔ میرے پاکستانیو! یہ موقع ہے، آپ لوگوں نے نکلنا ہے۔ وہ لیڈر آپ کی خاطر جیل میں ہے، اس کی اہلیہ، بہنیں آپ کی خاطر جیل میں ہیں۔ آپ نے نکل کر یہ ثابت کرنا ہے کہ غیرتمند قومیں، غیرتمند لیڈر کو سلام کرتی ہیں-“
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب
#عوامی_سمندر_سڑکوں_پر
#HappyBirthdayImranKhan#اکتوبر5_یوم_عمران_خان
IMRAN KHAN IS A DIFFERENT CODE IN A HUMAN SOUL
Driven by conviction,
shaped by adversity,
and defined by an extraordinary refusal to live an ordinary life.
From the cricket field to philanthropy,
from building institutions to leading a nation,
from triumphs to trials
His journey has carried him through chapters
few human lives ever contain.
What an Era.
What a Legacy.
What a Story still being written.
We were truly living in an era of the great Imran Khan and we are proud of it!
Whoever wants to enter Politics should first understand how to structure an argument Logically, Rationally, and Realistically ..
That is why I believe Pakistan has produced one of the finest political leaders of all time .. Imran Khan !!
میرے لیڈر نے ہمیشہ آزاد عدلیہ کی بات کی ہے، ہمیشہ رول آف لا کی بات کی ہے، ہمیشہ انصاف اور آئین کی بالادستی کی بات کی ہے، اور ہمیشہ قانون کی حکمرانی کی بات کی ہے۔
آج میری سالگرہ کا دن ہے اور مجھے گھر سے نکلے تقریباً 25، 30 دن ہو گئے ہیں۔ میرے گھر پر پولیس نے ایسے ریڈ کرتی ہےجیسے میں کوئی بہت بڑا دہشت گرد ہوں۔ جس ملک میں دہشت گردی روکنے کے لیے میں نے اپنی جان خطرے میں ڈالی، آج سوال یہ ہے کہ کیا میں ہی ریاست کے لیے دہشت گرد بن گیا ہوں؟ ابتسام حسن
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan
@ibtsamhassan10
عامر ریاض قریشی سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی لاہور اور ان کے 17 سالہ بیٹے محمد رافع کو برکت مارکیٹ سے گرفتار کر لیا گیا ہے،فارم 47 کی جعلی حکومت میں
مائیں،بہنیں،بیٹیاں،بچے،نوجوان اور بوڑھے کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔
اس وقت ضرورت یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی خالص یوتھ سہیل آفریدی کے گرد یوں فصیل بن جائے جس میں سے کوئی گوہر ' کوئی اسد قیصر ' کوئی راجہ گزر کر ان تک نہ پہنچ سکے۔
سہیل آفریدی کو طاقتور ذہنوں کی سپورٹ اور ساتھ چاہیئے جو انہیں بھی پرعزم رکھیں ۔ نہ کہ ان کا مورال گرانے کی کوشش کریں
عمران خان نےاڈیالہ جیل سےواضح کر دیاہے کہ 26ویں آئینی ترمیم نےجمہوریت کے چاروں ستونوں (ووٹ کا حق،قانون کی حکمرانی، اخلاقی دیانت اور آزاد میڈیا،کو مکمل تباہ کردیا ہے۔یاد رکھیں،جو اس مہم میں پیچھے رہا،اسکا فیصلہ خان خود کرے گا
کیونکہ اب حقیقی آزادی کافیصلہ صرف عوامی طاقت سےہی ہوگا
“جب ایک قوم اپنے حق کے لیے خود کھڑی ہو جاتی ہے پھر اس کو کوئی طاقت جھکا نہیں سکتی۔ میں جیل میں بھی آزاد ہوں مگر میری قوم باہر ایک ایسی قید میں ہے جہاں نہ آزاد عدلیہ ہے نہ آزاد جمہوریت نہ ہی آزاد میڈیا۔ تمام پاکستانیوں کو اب اپنی حقیقی آزادی کے لیے باہر نکلنا ہو گا!!
دو سال سے میں صرف پاکستانی قوم کی خاطر جیل میں قید ہوں تا کہ آپ کو کوئی غلام نہ بنا سکے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ آپ خود اپنی آزادی کے لیے کھڑے ہوں اور اس جابر نظام کو شکست دیں۔
ملک کی خاطر میں نے بارہا مذاکرات کی بات کی مگر اب مذاکرات کا وقت گزر چکا ہے ۔ چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد اس ملک میں آئین و قانون اور انصاف کو دفن کر دیا گیا ہے۔ ہمیں عدالتوں سے انصاف کی جو امید تھی وہ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے، اس لیے اب پاکستانی قوم کو ملک گیر احتجاجی تحریک کے علاوہ کوئی اور طریقہ لا قانونیت کی اس دلدل سے باہر نہیں نکال سکتا۔
ملک گیر تحریک کا مکمل لائحہ عمل اسی ہفتے پیش کیا جائے گا- پانچ اگست کو میری نا حق قید کو پورے 2 برس مکمل ہو جائیں گے۔ اسی روز ہماری ملک گیر احتجاجی تحریک کا نقطہ عروج ہوگا۔
اب کسی سے کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے! صرف اور صرف سڑکوں پر احتجاج ہو گا تاکہ قوم زبردستی کے مسلط کردہ کٹھ پتلی حکمرانوں سے نجات حاصل کرے۔
دوٹوک پیغام دے رہا ہوں کہ تحریک انصاف کا جو عہدہ دار اس تحریک کا وزن نہیں اٹھا سکتا وہ ابھی سے الگ ہو جائے۔ جن لوگوں نے اُن کے آگے گھٹنے ٹیکے ہوئے ہیں وہ یاد رکھیں! کچھ عرصے بعد یہی لوگ انہیں کرش کر دیں گے اور عوام بھی انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی-
نیلسن منڈیلا اور گاندھی تک کو دیگر قیدیوں سے ملنے، کتابیں پڑھنے اور کتابیں لکھنے کی اجازت تھی- میں ایک ایسی قید کاٹ رہا ہوں جہاں روزانہ 22 گھنٹے مجھے 6x8 کے سیل میں بند رکھا جاتا ہے، پولیس اہلکار تک مجھ سے بات نہیں کر سکتے، 6 ماہ سے کتابیں بند ہیں، میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی جاتی، میرے وکلأ اور ساتھی مجھ سے نہیں مل سکتے، میرے اہل خانہ کو ایک ہفتے بعد چند منٹ کے لیے ملنے دیا جاتا ہے اور اکثر انہیں بھی روک لیا جاتا ہے، دس ماہ سے میرے ذاتی ڈاکٹر سے میرا معائنہ نہیں کروایا گیا، پچھلے ایک ہفتے سے تو میرا اخبار اور ٹی وی بھی بند ہے۔ جو کتابیں مجھے خاندان کی طرف سے بھجوائی جاتی ہیں وہ تک مجھے مہیا نہیں کی جاتیں اور سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں پڑی رہتی ہیں۔ میری اہلیہ کو بھی بدترین حالات میں قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے-
اس سب کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ اور اس کے بغل بچوں کا ہاتھ ہے۔ یہ سب کچھ مجھے توڑنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ لیکن میں آخری سانس تک ظلم کے خلاف کھڑا رہوں گا-
ہم نے قبائلی علاقوں کو کئی دہائیوں بعد ان کے آئینی و قانونی حقوق دلوائے اور علاقے کی تعمیر نو اور ترقی کے لیے بھرپور وسائل مہیا کیے- موجودہ رجیم نے پہلے تو تین سال تک ان علاقوں کے جائز فنڈز روکے رکھے اور اب ان کے آئینی حقوق واپس لینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جو کہ انتہائی قابل مذمت ہے- ہمارے پارلیمینٹیرینز اور نمائندوں نے ان اقدامات کا بائیکاٹ کر کے اچھا فیصلہ کیا-
ہمارے پنجاب کے ایم پی ایز کو جعلی حکومت کے بجٹ کے دوران احتجاج کرنے پر معطل کرنے کے پیچھے یہی وجہ ہے کہ مریم نواز کے خلاف احتجاج ان کو بہت ناگوار گزرا ہے- حالانکہ ہمیشہ بجٹ کے دوران احتجاج ہوتا آیا ہے-“
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام (۸ جولائی، ۲۰۲۵)
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی اہل خانہ سے گفتگو (یکم جولائی، ۲۰۲۵)
(نوٹ: یہ ٹویٹ یکم جولائی 2025 کو کی گئی ٹویٹ پر مبنی ہے)
”جعلی پارلیمنٹ کے ذریعے چھبیسویں کے بعد ستائیسویں ترمیم لانے کا تکلف کرنے کی بجائے کھل کر “بادشاہت” ڈکلئیر کر دینی چاہییے، کیونکہ ملک پر اس وقت مکمل طور پر ڈکٹیٹرشپ مسلط ہے-
پاکستان کی بنیاد “لا الہ الا اللہ” ہے- یہ کلمہ انسان کو ہر قسم کی غلامی سے آزادی دیتا ہے- پاکستان کو بڑی قربانیاں دے کر انگریز سے آزاد کروایا گیا تاکہ ایک ایسا ملک بنے جہاں ہر شہری کو شخصی آزادی حاصل ہو- مگر یہاں حالات بالکل برعکس ہیں اور ایک مافیا پوری قوم کو غلامی میں مبتلا رکھنا چاہتا ہے۔ میں جیل کی کال کوٹھڑی میں رہ لوں گا لیکن غلامی قبول نہیں کروں گا۔ میرا تمام لوگوں کو پیغام ہے کہ سب کو ایسی غلامی پر قید کو ترجیح دینی چاہیئے کیونکہ جب ہم باہر آزاد ہی نہیں ہیں تو پھر ایسی رہائی کا کیا فائدہ؟ علامہ اقبال کا شاہین اونچا اڑتا ہے، وہ کسی کا غلام بن کر نہیں رہتا-
پوری قوم خصوصاً تحریک انصاف کے ورکرز اور سپورٹرز کو پیغام دیتا ہوں کہ ملک میں جاری ظلم کے نظام کے خلاف تحریک کا آغاز کریں۔ میرے لیے اس غلامی کے نظام کو قبول کرنے سے بہتر موت ہے۔
میری آواز ہر طرح سے دبائی جا رہی ہے تا کہ لوگوں تک میرا پیغام نہ پہنچ سکے اور جبر کے خلاف کوئی کھڑا ہونے والا نہ بچے۔ لیکن میں آخری سانس تک ظلم کے خلاف کھڑا رہوں گا- اور میرا اپنے رب پر یقین ہے کہ پاکستان سے ظلم کا سایہ جلد ختم ہو گا-
جمہوریت میں چار چیزوں کی بہت اہمیت ہوتی ہے: ووٹ کا حق، قانون کی حکمرانی، اخلاقیات اور آزاد میڈیا- چھبیسویں آئینی ترمیم نے ان چاروں کو ختم کر کے رکھ دیا ہے-
۱: ووٹ کا حق: جب ایک ڈکٹیٹر آتا ہے تو اسے ووٹ کی ضرورت نہیں ہوتی تو وہ ڈنڈے کے زور پر ملک چلاتا ہے- جس طرح فارم 47 والی اسمبلیاں بنائی گئیں اور اب مخصوص نشستیں بانٹی گئیں اس سے عوام کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ ان کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
۲: قانون کی حکمرانی: عدلیہ کو حکومت کے ایک ذیلی محکمے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ عدالتیں اپنی مرضی کے ججز سے بھر دی گئی ہیں اور آزاد ججز کے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے گئے ہیں- ایسا صرف مارشل لاء میں ہی ہوتا ہے۔
۳: معاشرے کی اخلاقیات: اس ترمیم سے معاشرے میں اخلاقیات دفن کر دی گئی ہیں۔ اسمبلیوں میں ایسے لوگ بٹھا دئیے گئے ہیں جو عوام کے منتخب نمائندے نہیں ہیں- ارکان اسمبلی کی کھلے عام خرید و فروخت جاری ہے- اور عدلیہ بھی اسی مافیا کے انگوٹھے کے نیچے ہے-
۴: آزاد میڈیا: ڈکٹیٹرشپ میں میڈیا کو مکمل طور پر زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے۔ آزادی اظہار رائے پر مکمل پابندی عائد ہے۔ آزاد صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور باقیوں کو خرید لیا گیا ہے-
احتجاج بنیادی جمہوری اور آئینی حق ہے“
وزیراعظم غیر آئینی ہے، اس نے کروڑوں پاکستانیوں کا مینڈیٹ چھین لیا ہے،
میں پاکستان میں کہیں بھی بیٹھنے کے لیے تیار ہوں، لیکن سپیکر ہاؤس، پرائم منسٹر ہاؤس یا پرائم منسٹر چیمبر میں نہیں آؤں گا،
محمود اچکزئی
حیران ہوں، گورنر راج کا تم نے سوچا بھی کیسے تھا؟ یہی حل نکالا تھا تم نے؟ ہمیشہ بحران پیدا کر کے تم نے اپنا اقتدار بچانے کی کوشش کی ہے، اور ہمیشہ ہی ناکام ہوئے ہو۔ یہ آپ کی کند ذہنی کی عکاسی کرتی ہے۔ پہلے دن سے کہہ رہا ہوں، نہیں ہے تمہاری حیثیت گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے کی۔
عاصم منیر، ایک راستہ ہے: تم براہِ راست مارشل لا لگا لو۔ آرٹیکل 6 اسی مہینے لگے گا۔ نہ آپ کے پلے، نہ آپ کی آگے کی ہوئی اس فارم 47 کی پیداوار حکومت کے پلے کچھ ہے۔
میری جنگ کسی فردِ واحد کی نہیں، جمہوریت کی ہے، اور ازل سے ہے۔ قوم نے جس کو ووٹ دیا ہے، جس کو وہ دیکھنا چاہتی ہے، جس کا تم نے مینڈیٹ چھینا ہے، عاصم منیر، پھر کہہ رہا ہوں: پاکستان کے مسائل کا حل اڈیالہ میں بیٹھے اسی قیدی کے پاس ہے۔
سہیل آفریدی اور اس کے ساتھ جو کھڑا رہے گا، وہی سُرخرو ہوگا!
جو پاکستان قائدِاعظم نے بنایا تھا، وہ اسٹیبلشمنٹ نے کہیں گم کر دیا۔ 80 سال میں پہلی مرتبہ ایک شخص نے تمہیں ایکسپوز کیا اور عوام کو awareness دی۔ میں اس کے ساتھ یہ جنگ اس لیے لڑ رہا ہوں کہ وہ پاکستان، جہاں قائدِاعظم نے پالیسی میکر عوام کے منتخب نمائندوں کو بنایا تھا اور تمہاری حیثیت servant of the people کی رکھی تھی، وہ پھر کہیں گم نہ ہو جائے۔ اس لیے میری باتوں کو personally نہ لیں اور ان پر غور کریں!
امید ہے اب سمجھ آگئی ہوگی کہ میں عمران خان کے ساتھ کیوں ہوں!