ایس پی ثمینہ ظفر نے آیت نور کی والدہ سے کہا کہ تمہارا کتنے لوگوں کیساتھ چکر ہے ۔ اگر تم حاملہ نہ ہوتی تو تمہارے اندر بازو دیکر بتادیتی کہ تم پر کتنے لوگ چڑھے ہیں ۔
ثمینہ ظفر نے آیت نور کی والدہ سے یہ بھی کہا کہ تمہارا اپنے بہنوئی سے ناجائز رشتہ ہے جس کیلئے تم نے خود آیت نور کو راستے سے ہٹایا ہے ۔
آیت نور کی والدہ کے بہنوئی نواز کو 5 سے 6 دن تک پولیس نے اٹھایا اور اتنا تشدد کا نشانہ بنایا کہ وہ آج بھی بیٹھ نہیں سکتا ۔
@SohailAfridiISF@YarMKNiazi
ہری پور کی آیت نور انصاف مانگ رہی ہے ۔ سوال کررہی ہے کہ یہ قوم دو چار روز شور شرابہ کرتی ہے پھر بھول جاتی ہے ۔
پولیس سے یہ کیس پہلے روز ہی خراب ہوچکا ہے ۔ آپ سب آواز اٹھائیں کہ یہ کیس صوبائی کرائم برانچ کو ٹرانسفر کیا جائے ۔ جو بالکل آغاز سے تحقیقات کرے ۔
آیت نور کی آواز بنیں ۔ انصاف کیلئے آواز اٹھائیں ۔
تم بابا کو نہیں جانتے ۔۔ بھلا بتاؤ کیا غلط کہہ رہی تھی یہ۔ اس عورت نے پانچ افراد کو گاڑی سے ٹکر مار کر قتل کردیا۔۔ اور آج بری ہوگئی۔۔ نام ہے نتاشہ۔۔ لگ نشے میں رہی تھی ۔۔ لیکن بابا واقعی تگڑے تھے اس کے۔۔ کیا ریاست مدعی بنے گی اس کے خلاف؟
نتاشہ دانش نے آئس کے نشے میں دھت ہوکر کراچی یونیورسٹی کی طالبہ آمنہ عارف اور اس کے والد پر گاڑی چڑھادی تھی جو موقع پر چل بسے۔ 3 دیگر افراد بھی اس میں زخمی ہوئے ۔
سندھ پولیس کے سربراہ غلام نبی میمن نے بتایا تھا کہ طبی رپورٹ میں میتھ ایمفیٹامین یعنی آئس کے اثر کی نشاندہی ہوئی تھی۔ پولیس سرجن نے بھی کیمیائی تجزیے کو میتھ ایمفیٹامین کیلئے مثبت قرار دیا تھا۔
آج کراچی کی عدالت نے نتاشہ دانش کو اسی منشیات والے مقدمے میں ثبوت ناکافی ہونے کی بنیاد پر بری کردیا ہے۔ عدالت کے سامنے دفاع نے کہا کہ خون اور کیمیائی معائنے میں میتھ ایمفیٹامین ثابت نہیں ہوئی، جبکہ عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ الزام ثابت کرنے میں ناکام رہا۔
یہ ہے ہمارا نظام انصاف
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی صاحب ! ہری پور کی آیت نور آپ سے انصاف مانگ رہی ہے ۔ بچی کے والد محمد شفیق پولیس کی تفتیش سے مطمئن نہیں ہیں ۔ یہ کیس خراب ہوچکا ہے ۔ یہ کیس کرائم برانچ کو دیں ۔ جو اس کیس کی نئے سرے سے تفتیش کرے ۔ تاکہ ملزمان بچ نہ سکیں ۔ آپ سب بھی آواز اٹھائیں ورنہ شاید انصاف ایک خواب ہی رہے گا ۔
#JusticeForAyatNoor
ان بھائی نے سارا کریڈٹ مجھے دے دیا ۔ حالانکہ یہ آپ لوگوں کا کریڈٹ ہے کیونکہ آپ سب نے آواز اٹھائی ۔ طاہر اشرفی صاحب نے نوٹس لیا ۔ سفارتخانے سے رابطہ کیا ۔
ہم ٹویٹر والے سب کیلئے مل کر آواز اٹھاتے ہیں اور یہ آپ لوگوں کی آواز کی طاقت ہے ۔ جو ایسے مسائل حل کرسکتی ہے ۔ ہم مل جل کر ایسے عوامی مسائل کو بھی اجاگر کرتے رہنا چاہیے ۔
@Mrsyounas95@KaliwalYam اس بس کرو یہوتھیو مہاتما کا دور بھی ہم نے دیکھا جو انصاف اس نے کیا ہے وہ بھی لیٹا ہوا تھا کبھی امریکہ کے آگے کبھی جرنیلوں کے آگے اب بھی اس کو موقع ملے تو پھر وہی کرے گا جو وہ کہیں گے
آیت نور کیس سے متعلق میرے سامنے ایک نئی اطلاع آئی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ زیرِ حراست بعض افراد تک مبینہ طور پر یہ پیغام پہنچایا گیا ہے کہ پریشان نہ ہوں، آئندہ دنوں میں رہائی کی کوئی صورت نکل سکتی ہے۔ انہی ذرائع کی جانب سے متاثرہ فریق کے ساتھ راضی نامے کی کوششوں کی اطلاعات بھی دی جارہی ہیں۔
ملزمان کو عام قیدیوں سے الگ رکھا گیا ہے ۔ کیوں کہ پہلے بھی ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آچکا ہے ۔
میں یہاں واضح کردوں کہ ان اطلاعات کی سرکاری یا آزاد ذرائع سے حتمی تصدیق ابھی نہیں ہوسکی۔ البتہ گرفتار ملزمان کے والدین آٰیت نور کے گھر بھی گئے ہیں ۔ جبکہ بعض عناصر کھلے عام مقامی لوگوں کی موجودگی میں گرفتار ملزمان کو بیگناہ قرار دے رہے ہیں ۔ حالانکہ یہ فیصلہ کرنا عدالتوں کا کام ہے ۔ ملزمان کے حق میں رائے عامہ بنانا کہ وہ بیگناہ ہیں یہ کسی طور درست طرز عمل نہیں ہے ۔
ایک ماحول بنایا جارہا ہے جس میں آیت نور کا والد ملزمان کو بیگناہ تصور کرتے ہوئے راضی نامے کیلئے مان جائے ۔ جبکہ اصولاً یہ فیصلہ عدالتوں کو کرنا چاہیے ۔
اس مقدمے میں پولیس نے 7ATA نہ لگا کر بھی غفلت کا ارتکاب کیا ہے ۔
انصاف کیلئے ضروری ہے کہ آیت نور کا کیس کرائم برانچ کو بھیجا جائے ۔ کیوں کہ کرائم برانچ ہی نئے سرے سے اس کیس کی تفتیش کرسکتی ہے ۔
@hTanveerAwan تاریک انصاف واقعی تاریک انصاف ہی ثابت ہوئی ایک صوبے کو مثالی نہ بنا سکے یہ بے غیرت پولیس کو غیر سیاسی نہ کر سکے اداروں کو ٹھیک نہ کر سکے
یہ خاک ملک میں تبدیلی لائیں گے
میری اطلاعات کے مطابق جیل میں آیت نور کے ملزمان خوش اور مطمئن ہیں ۔ ان سے کہا گیا ہے کہ ہفتے ڈیڑھ میں راضی نامہ ہوجائے گا ۔ ملزمان کے والدین آیت نور کے والد کے گھر بھی گئے ہیں ۔
جبکہ ایم این اے بابر نواز کا یہ بیان ہری پور میں زبان زد عام ہوچکا ہے کہ آیت نور کیساتھ زیادتی ہوئی ہی نہیں ۔ بچی چار روز تک کنویں کے اندر زندہ رہی ۔ انہوں نے ڈی این اے رپورٹ کا حوالہ دیا ہے
گوکہ بعد میں انہوں نے اپنے بیان کی تردید کردی ۔
وزیراعلیٰ سہیل خان آفریدی @SohailAfridiISF صاحب @KP_Police1@YarMKNiazi
ہم سب کی بچیاں ہیں ۔ اس معاملے کو کرائم برانچ کو دیں ۔ ہری پور کی پولیس نے جو تفتیش کی ہے ۔ اس کی بنیاد پر کبھی انصاف نہیں ہوگا اور یہ کیس خراب ہوچکا ہے یا کردیا گیا ہے ۔
کرائم برانچ اس کیس کی از سرے نو تفتیش کرے ۔
@ranausamazahid ریاست صرف اقلیتوں اور رافضیوں کے تحفظ کے لیے کام کرتی ہے باقی سب ان کے ظالموں کے لیے کیڑے مکوڑے ہیں، ملک سے تو مرتے دم تک پیار ہے لیکن اب جن کے زندہ باد کے نعرے لگایا کرتے تھے ان سے اب نفرت ہے ہمیں اور شدید نفرت ہے
@ShamaJunejo ھاھاھاھاھاھا
اس کے ساتھ کیا ہوا دونوں بہنوں نے چدھڑ کو خوب لوٹا خوب عیاشیاں کیں اب کون سا انصاف چائیے اس کو
اس وقت رنگ رلیاں مناتی رہی اب معصوم بن گئی ہے واہ