@ShamaJunejo ھاھاھاھاھاھا
اس کے ساتھ کیا ہوا دونوں بہنوں نے چدھڑ کو خوب لوٹا خوب عیاشیاں کیں اب کون سا انصاف چائیے اس کو
اس وقت رنگ رلیاں مناتی رہی اب معصوم بن گئی ہے واہ
@BakhtawarBZ سندھ کا مقابلہ اس وقت دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے شہروں سے ہے سندھ اس وقت ترقی میں بہت آگے نکل گیا ہے یقین نہیں آتا تو تھر پارکر جا کر دیکھ لیں
آیت نور کیس کے حوالے سے گزشتہ دنوں میں نے ہری پور کی سیاسی قیادت، بالخصوص خان برادران کے کردار کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے تھے۔ اب اس معاملے پر خان برادران کی جانب سے مجھ سے رابطہ کرکے اپنا تفصیلی مؤقف دیا گیا ہے۔
بطور صحافی میری ذمہ داری صرف سوال اٹھانا نہیں بلکہ جس فریق سے متعلق سوال اٹھایا جائے، اس کا جواب اور مؤقف بھی اسی طرح عوام کے سامنے رکھنا ہے۔
خان برادران کی جانب سے مجھے بتایا گیا کہ وہ آیت نور کی گمشدگی کے پہلے روز سے ہی اس کے والد محمد شفیق کے ساتھ رابطے میں تھے اور ان کے ساتھ مکمل تعاون کرتے رہے۔ ان کے مطابق اس بات کی تصدیق خود آیت نور کے والد محمد شفیق سے بھی کی جاسکتی ہے۔
دھرنے میں عدم شرکت کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ دھرنا آرگنائز کرنے والے بعض افراد ان کے سیاسی مخالف تھے، اس لیے ان کی وہاں موجودگی سے معاملہ سیاسی رخ اختیار کرسکتا تھا اور حالات کشیدہ ہونے کا خدشہ تھا۔ ان کا یہ بھی مؤقف ہے کہ دھرنے کے دوران ہونے والی بعض تقاریر میں انہیں سیاسی طور پر ہدف بنایا گیا۔
خان برادران کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ آیت نور کے والد محمد شفیق کیلئے سرکاری ملازمت اور ایک کروڑ روپے مالی امداد کی سفارش عمر ایوب خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے کی، جبکہ ان کے مطابق عمر ایوب خان ہی کی درخواست پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ہری پور آئے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اب کوشش کی جارہی ہے کہ اسمبلی کے ذریعے بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل جیسے جرائم سے متعلق زیادہ سخت اور مؤثر قانون سازی کی جائے تاکہ ایسے مقدمات میں قانونی عمل کو مؤثر بنا کر مجرموں کو جلد از جلد قرار واقعی سزا دلانے کی راہ ہموار ہوسکے۔
پولیس اور تفتیشی معاملات ک�� حوالے سے بھی ان کا کہنا ہے کہ وہ DPO ہری پور سے مسلسل رابطے میں رہے۔ اسی طرح ٹراما سینٹر، پوسٹ مارٹم، DNA اور دیگر طبی و فرانزک معاملات کے حوالے سے متعلقہ طبی حکام سے بھی رابطے کیے جاتے رہے۔
اس سلسلے میں میرے ساتھ بعض WhatsApp چیٹس بھی شیئر کی گئی ہیں جنہیں خان برادران اپنے اس مؤقف کے ثبوت کے طور پر پیش کررہے ہیں کہ وہ پس پردہ کیس کے مختلف معاملات پر متعلقہ حکام سے مسلسل رابطے میں تھے۔
میرے نزدیک یہاں ایک بات واضح رہنی چاہیے۔
میں نے پہلے جو سوالات اٹھائے، وہ دستیاب معلومات اور عوامی سطح پر نظر آنے والی صورتحال کی بنیاد پر اٹھائے تھے۔ اب جب متعلقہ فریق نے اپنا مؤقف اور اس کے حق میں کچھ مواد میرے سامنے رکھا ہے تو میری صحافتی ذمہ داری ہے کہ اس مؤقف کو بھی اسی دیانتداری کے ساتھ عوام کے سامنے رکھوں۔
میرا مقصد کسی سیاسی شخصیت کو ہدف بنانا یا کسی کو کلین چٹ دینا نہیں۔ مقصد صرف یہ ہے کہ آیت نور کیس سے متعلق ہر سوال، ہر دعویٰ اور ہر فریق کا مؤقف عوام کے سامنے آئے تاکہ رائے مکمل معلومات کی بنیاد پر قائم ہو۔
لاہور سے یہ رپورٹر آیت نور کیس میں ڈی پی او ہری پور کا انٹرویو کرنے گئے ۔ ان کے بقول سوالات سے ڈی پی او پریشان ہوگئے ۔ انہوں نے کہا کہ تمہارے بال ٹھیک نہیں ہیں ۔ پھر رستم نائی کو بلایا گیا اور صحافی کے بال سیٹ کرائے گئے جس کی ویڈیو بھی بنی اور وہ صحافی نے اپنے سوشل میڈیا پر بھی اپلوڈ کردی ۔
یہ کیا کیا دیکھنا پڑ رہا ہے ۔
@amnachaudhry01@ssgviews ھاھاھاھاھاھا
مقبوضہ کشمیر کی حیثیت کس دور میں ختم ہوئی تھی وہ کون تھا جس کی حکومت تھی 2019 میں
دوسرا بقول مہاتما کے کرسی سے جانے کے بعد سب کچھ ساڑھے تین سالوں میں باجوہ کرتا تھا تو یہ کریڈٹ پھر مہاتما کو کیسے دے رہے ہو تم یہوتھیے کوئی عقل ہے تم میں
پاکستان کی مشہور اداکارہ سعدیہ امام بھی آیت نور کیلئے رو پڑیں ۔ سعدیہ امام نے انسٹاگرام پر ویڈیو بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے ہری پور کی معصوم بچی آیت نور پر ہونے والے ظلم سے آگاہ کیا اور اس موقع پر وہ روتی رہیں ۔
سعدیہ امام نے کہاکہ آیت نور کی رپورٹ پڑھی بچی کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں، ادارے کیوں نہیں اٹھ رہے؟ پمز اسپتال میں بچے مرگئے، کوئی ڈاکٹر اور ن��س کو آنچ تک نہیں آئی، مصطفیٰ کمال صاحب آپ بدتمیزی کر رہے ہیں، آپ کو وزیر صحت کس نے بنا دیا؟
انہوں نے مزید کہا کہ خدا کے واسطے سوشل میڈیا پر پابندی لگائیں، قانون لے کر آئیں کہ کس عمر کے لوگ سوشل میڈیا کا استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں، پوری دنیا میں یہ قانون ہے تو ہمارے ملک میں کیوں نہیں؟
آپ گوگل پر کچھ لکھیں تو وہ سب کچھ کھول کر رکھ دیتا ہے، اتنی اجازت کیوں دی گئی ہے اسی لیے ایسا ہورہا ہے۔