نفاذِ شریعتِ اسلامی کے لیے مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک علیحدہ وفاق اور آزاد مسلم ریاستوں کے قیام کی تجویز پیش کی۔ اقبالؒ کے نزدیک مسلمانوں کی سیاسی خودمختاری محض اقتدار کا حصول نہیں، بلکہ اسلامی قانون کے نفاذ، معاشی انصاف اور ملت کے اجتماعی تشخص کے تحفظ کا ذریعہ تھی۔
2/2
قادیانی اور ان کے کتے ہمیشہ اسلام، پاکستان اور عوام کے سیاسی تشخص پر حملہ آور نظر آئیں گے۔ پاکستان کے لیے پہلے ایک متحدہ وفاق کا تصور بھی علامہ اقبالؒ نے پیش کیا، لیکن 1935ء کے دستور اور اس کے تحت ہونے والے انتخابات کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی حالات میں انہوں نے
1/2
علامہ اقبال کے اس خط کے منظر پر آنے کے بعد مطالعہ پاکستان دوبارہ لکھنا پڑے گا۔
علامہ اقبال 1934 کے اس خط میں کہہ رہے ہیں کہ یار پروفیسر ٹامسن میں نے پاکستان کا خواب نہيں دیکھا۔ مجھ پر یہ خواب نہ ڈالیں۔ میں نے تو تجویز دی تھی کہ انڈین فیڈریشن کے اندر شمال مغرب میں ایک صوبہ مسلمانوں کا بنایا ج��ئے۔ یہ صوبہ انڈین فیڈریشن کا حصہ ہوگا۔
علیحدہ ملک پاکستان کا تصور کیمرج والوں نے پیش کیا تھا۔ میرا اس سے کچھ لینا دینا نہيں ہے۔
آ�� کا مخلص،
محمد اقبال
کل تک ملنگوں نے جن کو اپنے باپ (والد نہیں) کے عہدے پر فائز کیا ہوا تھا، آج معطل کر کے انہیں ’’اوئے۔۔۔‘‘ کے منصب پر لے آئے ہیں۔ منافق کو حق گوئی سے وہی خوف ہے جو اسلاموفوب کو اسلام سے ہے۔
انہوں نے کبھی تصور ہی نہیں کیا تھا کہ کوئی ان کی عقیدت کے باطل معیارات کو بھی چیلنج کرے گا!
@Fartiloi5237951@_inkAndinsight کیا نفاذِ دین کی ��دوجہد سعد رضوی کی رہائی سے مشروط ہے؟
کیا تحریکِ لبیک ایک فرد کا شو تھی یا ایک منظم تحریک؟
اگر سعد رضوی گمشدہ ہو جائیں تو باقی سب صبر سے انتظار کریں؟ یہ قرآن و سنت میں کہاں لکھا ہے؟
@ad2lyj پانی پینے کا مشورہ کیا دینا، سیدھا امیرِ اہلِ سنت کے QR Code کو Scan کرنے کا مشورہ دیں؛ یوں بندہ فل ٹائم ٹھنڈا اور بےغیرت بن کر جی سکے گا، نہ غیرتِ ایمانی جاگنے کا خطرہ، نہ دماغ کی کوئی رگ پھٹنے کا اندیشہ۔
ریاست اپنی عملیت سے اسلامی ہوتی ہے، اور عالِم اپنے منہج سے اہلِ سنت۔ مگر یہاں ریاست کو محض کلمہ پڑھوا کر اسلامی، اور عالم کو صرف نعرے اور نیاز کے حلوے کی پلیٹ دیکھ کر سنی قرار دے دیا گیا۔ یہی پاکستان کی تاریخ کی بدترین خطاؤں میں سے ایک ہے، جس کا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے۔