It has been more than 24 hours, and we know nothing about my brother's whereabouts.
Please raise your voice. We are seriously concerned about his safety.
#ReleaseBalachBali
آج اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس کے ڈسٹرکٹ کورٹ کے سامنے اسلام آباد پولیس نے دن دہاڑے وکلا اور صحافیوں کی موجودگی میں، اعظم بلوچ جو لاپتہ سعید بلوچ کے بھائی ہیں اور انکے ہمراہ ماجد بلوچ سمیت انہیں زبردستی حراست میں لے لیاگیا۔
اعظم بلوچ اپنے گمشدہ بھائی سعید بلوچ کے کیس کے سلسلے میں عدالتوں کے چکر کاٹ رہے تھے۔ سعید بلوچ کو چھ ماہ سے زائد عرصہ قبل اسلام آباد سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا اور وہ اب تک بازیاب نہیں ہوسکے۔ ان کی بازیابی کے لیے بلوچ اسٹوڈنٹس کاؤنسل اسلام آباد گزشتہ دس دنوں سے احتجاج پر بیٹھے رہے مگر کوئی بھی مقتدر شخص انکے مطالبات سننے نہ آیا اور اب ظلم کی انتہا یہ ہے کہ جس بھائی نے سعید بلوچ کی بازیابی کے لیے عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے، احتجاج کیا اور قانونی راستہ اختیار کیا آج اسے بھی جبری طور پر حراست میں لیا گیا۔
ایک عرصے سے جبری طور پر گمشدہ افراد کے لواحقین کے ساتھ یہ رویہ رکھا جارہا ہے، کبھی انکے لواحقین کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے، کبھی انکے خلاف جھوٹے مقدمات یا انکا نام فورتھ شیڈول میں ڈالا جاتا ہے تاکہ وہ اس غیرقانونی عمل کے خلاف خاموش رہیں یا پھر احتجاج یا پوچھنے والے شخص کو ہی غائب کردیا جاتا ہے۔
یہاں پر جبری طور پر گمشدگیاں جرم نہیں ہے بلکہ اس جبری گمشدگی کے شکار افراد کے لواحقین کا اپنے پیارے کے بارے میں سوال پوچھنا جرم بن چکا ہے اور اسکی کی سزا اس طرح جبری گمشدگیوں کے زریعے دیا جارہا ہے۔
بلوچستان میں استاد ، طالب علم ، بوڑھے ، عورتیں ،بچے ، بچیاں کوئی بھی محفوظ نہیں ہیں۔ لوگوں کو لاپتہ کیا جارہا ہے گھروں پر بمباری کی جاری ہے ، لیڈرز جیل میں بند کئے جارہے ہیں ۔بلوچستان حکومت نے بلوچستان میں نظام زندگی درہم برہم کردی ہے ۔
#ReleaeeBalachBali#StopBalochGenocide
SHO #Rafaqat#ICT Police detained two baloch Students without warrant, right outside the courthouse of Capital .When the very grounds of justice can’t protect Baloch students in front of judiciary, what we expect from this #state ?
SHO #Rafaqat#ICT Police detained two baloch Students without warrant, right outside the courthouse of Capital .When the very grounds of justice can’t protect Baloch students in front of judiciary, what we expect from this #state ?
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد کا قائداعظم یونیورسٹی میں دھرنا و احتجاجی مظاہرہ
طلبہ کا جبری لاپتہ سعید بلوچ کی بازیابی اور بلوچ طلبہ کی پروفائلنگ بند کرنے کا مطالبہ
اسلام آباد ٹول پلازہ سے 8 جولائی کو جبری لاپتہ بلوچ طالب علم سعید کی بازیابی کیلیےطلباء قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں احتجاج کررہے ہیں۔
طلباء کا مطالبہ ہے کہ حکومت سعید بلوچ کی بازیابی کو یقینی بنائے، ان پر کوئی الزام ہےتو انہیں عدالت میں پیش کیاجائے۔
#ReleaseSaeedBaloch
Today marks the ninth day of our sit-in inside Quaid-i-Azam University.
For nine days, we have remained steadfast, united by a clear and just cause that demands recognition and action. Earlier today, we carried out a peace walk, showing that our struggle is grounded in principle