سنا ہے ذاتی ٹوئٹر اکاؤنٹ سے یہ حمود الرحمن کمیشن رپورٹ کے ویڈیوز شیئر کرنے پر مُرشد کیخلاف FIA نے انکوائری شروع کردی ہے
چلو پھر پاکستانیو دوبارہ اس وڈیو کو شئیر کرتے ہیں یہ رُکنی نہیں چاہیے...
@DGISPR14 Mjhe koi ye bta Dy un any wali naslon Ka Kia bneyga jingo ne Pakistan k borders sambhal y Hy future me....Inho NE is awam me itni nafrat Bhar Di Hy....kn jaega is kam k liye......company ne wo kam kia HM to doobey sanam tm ko b ky dubengy.
اکبر میں مرجاواں گی وطناں تے ویر آجا
اک تحریر اُٹھائے. بولیں دربار میں آ کر
آج مہندی لاون آییاں
غازی اٗٹھ ویکھ کہ تیریاں بہناں، اجڑ گیاں ویران
آہ نوحہ خوانی کا ایک عظیم باب بند ہوا 💔
انا للہ وانا الیہ راجعون
مولا کے حوالے اصغر خاں صاحب
مولا کریم درجات بلند فرمائیں
الہی آمین
@soldierspeaks صدر مملکت نے پچھلے دو سال سے جاری فسطائیت، ظلم، تشدد کی دھجیاں اڑا کر دکھ دیں وہ بھی دلیل اور نفاست کے ساتھ
۔۔
“جہاں خان صاحب @ImranKhanPTI کا نام پکارا ہال تالیوں سے گونج اٹھا اور صدر صاحب بھی اپنی ہنسی نہیں روک پائے”
عنوان: انٹرنیٹ کو کنٹرول کرنے کے لیے پاکستانی فوج کے منصوبے
تصدیق شدہ انٹیلی جنس رپورٹ:
فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) کا ہیڈ کوارٹر پورے پاکستان میں موٹر ویز کی تعمیر میں سرگرم عمل ہے، بشمول نیشنل لاجسٹک سیل (NLC) کی مدد سے اسلام آباد ایکسپریس وے کی توسیع کے لیے اہم معاہدوں کا حصول۔ اپنے کمانڈ سٹرکچر کے اندر، FWO دو کمپنیوں کی نگرانی کرتا ہے، جنہیں SCORE کہا جاتا ہے، جو اسلام آباد میں M-9 سپر ہائی وے اور لاہور کو پشاور سے ملانے والی M-1 اور M-2 ہائی ویز کے انتظام کے لیے ذمہ دار ہیں۔ ان کمپنیوں نے ٹیلی کام آپریٹرز پر موٹرویز کے ساتھ بچھائے گئے آپٹیکل فائبر کیبل (OFC) کے بنیادی ڈھانچے کے لیے بھاری ٹیکس عائد کیے ہیں، جو پہلے جی ٹی روڈ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ مزید برآں، FWO انجینئرنگ گروپس کے ذریعے کام کرتا ہے، جیسے کہ کراچی میں 494 انجینئرنگ گروپ، جو M-9 ہائی وے کی تعمیر میں شامل تھا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ گزشتہ سال ایسے واقعات ہوئے تھے جہاں ایف ڈبلیو او نے ٹیلی کام آپریٹرز کی کیبلز کاٹ دی تھیں، جس کی وجہ سے ان کمپنیوں کیجانب سے ایف ڈبلیو او کو سندھ ہائی کورٹ میں قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
جی ایچ کیو، آئی ٹی ڈائریکٹوریٹ کی ایک ذیلی کمپنی، جو پہلے ایف ڈبلیو او کا حصہ تھی، موٹر وے ٹول پلازہ آپریشنز کو تکنیکی مدد فراہم کر رہی ہے۔ اس کمپنی نے سائبر نیٹ (لاکھانی گروپ) کو تمام موٹرویز کے ساتھ ساتھ OFC انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے ایک ٹھیکہ دیا ہے، جس کے لیے 15 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔ FWO دیگر ٹیلی کام کمپنیوں پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ یا تو اپنے موجودہ OFC انفراسٹرکچر کو ہٹا دیں یا سائبر نیٹ سے OFC جوڑوں کو لیز پر لیں۔ اس اقدام نے چھوٹے ٹیلی کام آپریٹرز کو بری طرح متاثر کیا ہے، بنیادی طور پر اس زور زبردستی کے ذریعے فوج انٹرنیٹ کے بنیادی ڈھانچے پر اجارہ داری قائم کرنے جارہی ہے۔ عاصم منیر کی سربراہی میں چلنے والی اس حکمت عملی کا مقصد ملک کے انٹرنیٹ انفراسٹرکچر پر کنٹرول کو مستحکم کرنا ہے اور فوج کو مؤثر طریقے سے ڈیجیٹل کاروبار اور سروس پر بااختیار بنانا ہے۔
ایف ڈبلیو او کے ڈائریکٹر جنرل، میجر جنرل سمیع، اپنی تنظیم کی ملٹری انٹیلی جنس پر مبنی انٹیلی جنس بٹالین کا استعمال کر رہے ہیں تاکہ ٹیلی کام آپریٹرز کو زبردستی رائٹ آف وے (ROW) ادائیگی کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ تعمیل کرنے میں ناکامی کے نتیجے میں ٹیلی کام آپریٹرز کو اپنے OFC انفراسٹرکچر کو ہٹانے یا سائبر نیٹ سے لیز پر دیے گئے OFC جوڑوں پر سوئچ کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ ون نیٹ ورک کمپنی کے سی ای او اور پہلے ایف ڈبلیو او سے وابستہ بریگیڈیئر صدیق اس آپریشن کی قیادت کر رہے ہیں۔ نتیجتاً، کئی ٹیلی کام آپریٹرز پاکستان میں اپنے آپریشنز کو کم کر رہے ہیں، جس کی عکاسی ملک میں ٹیلی نار کی پسپائی بھی کرتا ہے۔ عاصم منیر کا مقصد ملک کے اندر انٹرنیٹ تک رسائی پر سخت کنٹرول قائم کرنا ہے۔
کے کتے کے بھونکنے اور مرغوں کے بولنے کی آوازیں سنیں
۔ پھر اس بستی کو زمین پر دے مارا جس کے بعد ان پر پتھروں کی بارش ہوئی۔
ہر پتھر پر مرنے والے کا نام لکھا ہوا تھا۔
جب یہ پتھر ان کو لگتے تو ان کے سر پاش پاش ہوجاتے۔
صبح سویرے شروع ہونے والا
یہ عذاب اشراک تک پوری بستی کو نیست و نابود کر چکا تھا
قوم لوط کی ان خوبصورت بستیوں کو اللہ نے ایک انتہائی بد بو دار
اور سیاہ جیل میں تبدیل کردیا۔ جس کے پانی سے رہتی دنیا تک کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔
سمندر کے اس حصے میں کوئی جاندار مچھلی، مینڈک وغیرہ زندہ نہیں رہ سکتے۔ اس لیے اسے ڈیڈ سی یعنی بہرے مردار کہا جاتا ہے
جو اسرائیل اور اردن کے درمیان واقع ہے۔ ماہرین آثار نے دس سالوں کی تحقیق و جستجو کے بعد اس تباہ شدہ شہر کو دریافت کیا تھا۔
تحقیقات سے پتہ چلا تھا کہ اس شہر میں زندگی بالکل ختم ہو چکی ہے۔
شہر کے راستے اور کھنڈرات کو دیکھ کر ارکلوجسٹ نے یہ اندازہ لگایا
کہ جب یہ شہر تباہ ہوا تو اس وقت لوگ روزمرہ کے معاملات اور کاموں میں مشغول تھے
اور یہاں زندگی اچانک ختم ہو گئی تھی
اہل سدوم جنہیں پتھر بنا دیا گیا تھا۔ ان کے بت ابھی تک بحیرہ مردار کے پاس موجود ہیں جو لوگوں کے لیے ایک عبرت ہے
آج یورپی ممالک میں انسانی آزادی کے نام پر اس بدکاری کی اجازت دی جاتی ہے
اور اس فحش عمل کو بعاعث فخر سمجھا جاتا ہے
روایتوں کے مطابق ایک مرتبہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے شیطان سے پوچھا کہ اللہ کے نزدیک سب سے بدترین عمل کیا ہے ابلیس بولا جب مرد مرد سے بدفعلی کرے اور عورت عورت سے خواہش پوری کرے۔
سب سے زیادہ بےحیا قوم لوط علیہ سلام کی قوم تھی یہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں میں دلچسپی رکھتے تھے
خاص کر مسافروں میں سے کوئی خوبصورت لڑکا ہوتا تو یہ لوگ اسے اپنا شکار بنا لیتے طلموت میں لکھا ہے
کہ اہل سدوم اپنی روز مرہ کی زندگی میں سخت ظالم دھوکہ باز اور بد معاملہ تھے
کوئی مسافر ان کے علاقے سے بخیریت نہیں گزر سکتا تھا
کوئی غریب ان کی بستیوں سے روٹی کا ایک ٹکڑا نہ پا سکتا تھا۔
کئی مرتبہ ایسا ہوتا تھا کہ باہر کا آدمی ان کے علاقے میں پہنچ کر فاقوں سے مر جاتا تھا اور یہ لوگ اس کے کپڑے اتار کر اس کی لاش کو برہنہ دفن کر دیتے۔ اپنی وادی کو انہوں نے ایک باغ بنا رکھا تھا
۔ جس کا سلسلہ میلوں تک پھیلا ہوا تھا اس باغ میں وہ انتہائی بے حیائی کے ساتھ اعلانیہ بد کاریاں کرتے تھے۔
حضرت لوط علیہ السلام نے انہیں توحید کی دعوت دی اور بدکاری کے اس گھناونے عمل سے توبہ کرنے کا حکم دیا۔
حضرت لوط نے کہا تم یہ کیوں کرتے ہو کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر لذت حاصل کرنے کے لیے مرد کی طرف مائل ہوتے ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ تم احمق لوگ ہو۔ تو پھر حضرت لوط اہل سدوم کو دن رات وعظ و نصیحت کیا کرتے تھے۔ لیکن اس قوم پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا۔
بلکہ وہ بدنصیب بہت فخریہ انداز میں یہ کام کرتے تھے انہیں حضرت لوط کا سمجھانا بھی برا لگتا تھا
لہذا انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ اگر تم ہمیں اسی طرح بھلا کہتے رہے اور ہمارے کاموں میں مداخلت کرتے رہے
تو ہم تمہیں اپنے شہر سے نکال دیں گے۔ حضرت لوط نے نصیحت و تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا۔
لہذا ایک دن اہل سدوم نے خود ہی عذاب الہی کا مطالبہ کر دیا۔
اللہ تعالی نے اب تک ان کے اس بدترین عمل فحاشی اور بدکاری کے باوجود ڈھیل دے رکھی تھی۔
لیکن جب انہوں نے حضرت لوط علیہ السلام سے ایک دن کہا
کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لے آؤ۔
لہذا ان پر عذاب الہی کا فیصلہ ہوگیا۔
اللہ نے اپنے خاص فرشتوں کو دنیا کی طرف روانہ کر دیا۔ یہ فرشتے دراصل حضرت میکائیل، اور جبرائل علیہ السلام تھے
پھر یہ فرشتے حضرت لوط علیہ السلام کے گھر تشریف لے آئے۔
حضرت لوط نے جب ان خوبصورت نوعمر لڑکوں کو دیکھا تو سخت گھبراہٹ اور پریشانی میں مبتلا ہوگئے۔
انہیں یہ خطرہ محسوس ہونے لگا کہ اگر ان کی قوم کے لوگوں نے انہیں دیکھ لیا۔
تو نہ جانے وہ انکے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔ حضرت لوط کی بیوی کا نام وائلہ تھا
اس نے آپ پر ایمان نہیں لایا تھا
اور وہ دراصل منافقہ تھی۔ وہ کافروں کے ساتھ تھی لہذا اس نے جاکر اہل سدوم کو یہ خبر دے دی۔
کہ لوط کے گھر دو نوجوان لڑکے مہمان ٹھہرے ہوئے ہیں
یہ سن کر بستی والے دوڑتے ہوئے۔ حضرت لوط کے گھر پہنچے
حضرت لوط نے کہا کہ یہ جو میری قوم کی لڑکیاں ہیں
یہ تمہارے لیے جائز اور پاک ہیں اللہ سے ڈرو مجھے میرے مہمانوں کے سامنے رسوا نہ کرو۔
کیا تم میں سے کوئی بھی شائستہ آدمی نہیں،؟
حضرت لوط علیہ السلام کی بات سن کر وہ لوگ بولے
تم بخوبی واقف ہو کہ ہمیں تمہاری بیٹیوں سے کوئی حاجت نہیں
اور جو ہماری اصل چاہت ہے اس سے تم بخوبی واقف ہو۔
قوم لوط کے اس شرم سار جواب سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے
کہ وہ فعل بد میں کس حد تک مبتلا ہو چکے تھے
جب حضرت لوط علیہ السلام کی قوم ان کے گھر کی طرف دوڑتی ہوئی آئی تو حضرت لوط نے گھر کے دروازے بند کر دیے اور ان نوجوانوں کو ایک کمرے میں چھپا دیا۔
ان بدکار لوگوں نے آپ کے گھر کا گھیراؤ کیا ہوا تھا
اور ان میں سے کچھ گھر کے دیوار پر بھی چڑھنے کی کوشش کر رہے تھے
حضرت لوط علیہ السلام اپنے مہمانوں کی عزت کے خیال سے بہت زیادہ گھبرائے ہوئے تھے فرشتے یہ سب منظر دیکھ رہے تھے جب انہوں نے حضرت لوط علیہ السلام کی بے بسی اور پریشانی کا یہ عالم دیکھا۔ تو حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے یوں فرمایا۔
اے لوط ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں
یہ لوگ ہرگز تم تک نہیں پہنچ سکیں گے
۔ ابھی کچھ رات باقی ہے تو آپ اپنے گھر والوں کو لے کر چل دو
اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔
اہل سدوم حضرت لوط علیہ السلام کے گھر کا دروازہ توڑنے پر بضد تھے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے گھر سے باہر نکل کر اپنے پر کا ایک کونا انہیں مارا۔
جس سے ان کی آنکھوں کے ڈھیلے باہر نکل آئے
اور بصارت ظاہر ہوگئی
یہ خاص عذاب ان لوگوں کو پہنچا۔ جو حضرت لوط کے پاس بدنیتی سے آئے تھے۔ حضرت لوط علیہ السلام حقیقت حال جان کر مطمئن ہو گئے
اور اپنے گھر والوں کے ساتھ رات کو ہی نکل کھڑے ہوئے۔
لیکن پھر بھی ان کی بیوی ان کے ساتھ تھی لیکن کچھ دور جا کر وہ واپس اپنے قوم کی طرف پلٹ گئی اور قوم کے ساتھ جہنم واصل ہو گئی۔
صبح کا آغاز ہوا تو اللہ کے حکم سے حضرت جبرئیل نے بستی کو اوپر سے اکھاڑ دیا اور پھر اپنے بازو پر رکھ کر آسمان پر چڑھ گئے یہاں تک کہ آسمان والوں نے بستی۔۔۔