ایک بار پھر ثابت ہوا کہ بعض ادارے معلومات تو دینا چاہتے ہیں مگر جوابدہ نہیں بننا چاہتے پریس کانفرنس کی جگہ ریکارڈ شدہ ویڈیو جاری کرنا دراصل صحافیوں کے تلخ سوالات سے بچنے کی حکمتِ عملی ہے شفافیت یک طرفہ بیان نہیں بلکہ کھلے سوالات کا سامنا کرنے کا نام
@ICT_Police@MohsinnaqviC42
@Mnasirbuttt ان میڈیا مالکان کا اب احتساب ضروری ہو گیا ہے
اور یہ احتساب نام نہاد صحافتی تنظیمیں نہیں ورکنگ جرنلسٹ ہی کر سکتا ہے ، بہت افسوسناک صورتحال ہے
بائیں جانب بریگیڈیئر محمد سلیم شہید (سابق 4 اے کے / کمانڈنگ آفیسر 41 اے کے) ہیں، جنہوں نے 2005 میں جامِ شہادت نوش کیا۔
بیس سال بعد اُن کے صاحبزادے میجر زیّاد سلیم اوّل (سابق 130 ایل سی / 41 اے کے) نے بھی اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے وطنِ عزیز کی خاطر جامِ شہادت نوش کیا۔
جولائی 2025 میں میجر زیّاد نے 30 جوانوں کی قیادت کرتے ہوئے بی ایل اے کے دہشت گردوں کے خلاف ایک آپریشن کی سربراہی کی۔ اس کارروائی کے دوران انہوں نے بے شمار جانیں بچائیں اور کم از کم 3 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ شدید زخمی ہونے کے باوجود انہوں نے اپنے جوانوں کو اپنی حالت سے بے خبر رکھا اور آخری لمحے تک کمانڈ کرتے رہے۔
وہ 23 جولائی 2025 کو شام 7 بج کر 25 منٹ پر شہید ہوئے۔ اپنے آخری لمحات میں انہوں نے کلمۂ طیبہ کا ورد کیا اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی، جس کی گواہی ان کے ایک ساتھی نے دی۔
اللہ تعالیٰ دونوں باپ بیٹے کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔ 🇵🇰
#pakmilitarycorner
ابا کی محبوبہ ۔۔۔۔۔
میرے بار بار مانگنے پر بھی ابا مجھے سائیکل نہیں دیا کرتے تھے.. بہت پیاری تھی اپنی سائیکل ابا کو' بڑے پیار سے ہر جمعہ کے روز اس کی سروس کرتے ساتھ ساتھ پرانے گانے چلتے..
بابو جی دھیرے چلنا
پیار میں زرا سنبھلنا
بڑے دھوکے ہیں اس راہ میں
ہاں زرا سنبھلنا
سائیکل نہ ہو جیسے محبوبہ ہو اتنی محبت حد ہے بھئی..
میں کیا کرتا..!!
مجھے ابا کی سائیکل بہت بھاتی ، جب موقع ملتا لے کر نکل پڑتا ۔ میں چلاتا بھی تو برے طریقے سے تھا نا ! اکثر ِگرا بھی دیتا ، چین اتر جاتی ۔ ہینڈل مڑ جاتا میرے گھٹنے بھی چھل جاتے
اماں سے ڈانٹ علیحدہ پڑتی..
پھر ایک دن ابا نے سائیکل عزیز چچا کو دے دی.. یہ میرے لیئے بہت بڑا صدمہ تھا' شاید میری زندگی کا سب سے بڑا صدمہ ۔ اپنے پیارے ابا کی یہ کج ادائی مجھے ہرگز نہیں بھائی.. وہ جانتے بھی تھے مجھے سائیکل چلانے کا کتنا شوق تھا اور میری بجائے سائیکل انہوں نے اُٹھا کر عزیز چچا کو دے دی ۔ میں ابا سے بہت ناراض تھا۔
پھر بچپن کے ہاتھ سے میرا ہاتھ نہ جانے کب چھوٹا پتہ ہی نہیں چلا اور میں بڑا ہو گیا سائیکل والی ناراضگی بھی میرے ساتھ ہی بڑی ہو گئی ۔
انہیں دنوں میں نے ایف ایس سی کا امتحان پاس کیا اور میرا میڈیکل میں داخلہ ہو گیا ۔۔۔ اور میں پڑھائی میں مصروف ہو گیا .. بچپن کی یادیں سنوار کر تہہ لگا کر سنبھال رکھی تھیں ۔ کبھی کبھار لوری کی دھنوں کی طرح بجتیں اُن میں ایک اداس دھن سب سے علیحدہ بجا کرتی ۔ گلی محلے سے گزرنے والی سائیکل کی گھنٹی اور ابا کے پرانے گانے اب بھی میری اداسی کا سبب بن جایا کرتے ۔ جانے کیوں سائیکل کا دکھ میرے دل سے جاتا نہیں تھا ۔ یادوں کی تپتی دھوپ میں ننگے پاؤں دوڑتا پھرتا ، عجیب دکھ تھا کملا جھلا ۔ شاید بچپن کے سب دکھ ایسے ہی ہوا کرتے ہیں' پھٹی جیب سے آخری دو آنے گرنے کے دکھ جیسے..
ابا بوڑھے ہو گئے بیمار رہنے لگے ۔ وقت گزر گیا اور میں ڈاکٹر بن گیا ابا کو جانے کی جلدی تھی شاید میرے نتیجے کا انتظار کر رہے تھے ، دو دن بعد ہی چلے گئے..
عزیز چچا افسوس کرنے آئے ، دیر تک میرا ہاتھ تھام کر بیٹھے ابا کی باتیں کرتے رہے ابا کا ذکر ہو اور ان کی محبوبہ کا ذکر نہ چھڑے یہ کیسے ہو سکتا ہے..
سب ہی سائیکل کو ابا کی محبوبہ کہا کرتے تھے.. یار تیری فیس بھرنے کے لیئے انہوں نے سائیکل بیچ ڈالی' میں نے بہت کہا آپ ادھار لے لیں ۔مگر ایک نہیں مانی ، تو جانتا ہے نا اپنے اصولوں کے کتنے پکے تھے تیرے ابا ۔۔!!
میں نے کہا اپنی محبوبہ کے بغیر جی پائیں گے ۔۔۔۔!
کہنے لگے میرے پتر پر ایسی ہزار محبوبائیں قربان..
اس سے آگے میں کچھ سُن ہی نہیں سکا ، میرے دل میں پڑی ناراضگی سسکنے لگی ،
بابو جی دھیرے چلنا پیار میں زرا سنبھلنا
او بڑے دھوکے ہیں اس راہ میں
یہ کیسا دھوکا کھایا تھا میں نے پیار میں..۔
منقول