سوچیے اگر یہی منظر کسی مغربی ملک کی خواتین کے ساتھ پیش آتا اور انہیں مسلمان فوجی اس طرح گھسیٹ کر لے جا رہے ہوتے، تو عالمی میڈیا کئی دن تک شور مچاتا، انسانی حقوق کی تنظیمیں ہنگامی اجلاس بلاتیں اور ہر اخبار کی سرخی یہی تصویر بنتی۔ مگر چونکہ یہ فلسطین کی مظلوم بیٹیاں ہیں، اس لیے دنیا کی اکثریت خاموش ہے۔سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ صرف بیرونی طاقتیں ہی نہیں بلکہ مسلم دنیا کے اندر بھی کچھ عناصر ایسے ہیں جو خاموشی، مفادات یا تعاون کے ذریعے ان مظلوموں کے دشمنوں کو مضبوط کر رہے ہیں۔ تصویر میں قابض اسرائیلی فوج فلسطینی خواتین کو حراست میں لے جاتی دکھائی دے رہی ہے۔
Striking civilian structures, including unfinished bridges, will not compel Iranians to surrender.
It only conveys the defeat and moral collapse of an enemy in disarray. Every bridge and building will be built back stronger. What will never recover: damage to America's standing.
⚡️ New massacre.. Martyrs scattered in the street after occupation forces bombed a gathering of civilians near Al-Hurriya School in Al-Zaytoun neighborhood south of Gaza City.
جو بھی یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ امریکہ اور بعض دیگر ممالک میں انسانی حقوق کے دعوے کس قدر جھوٹے ہیں، وہ صرف سربرنیتسا کے واقعات پر نظر ڈال لے۔
12 جولائی 1995
حالیہ چند مہینوں میں مزاحمت نے اپنی توانائیوں کا مظاہرہ کیا اور امریکہ کے اندازوں کو درہم برہم کر دیا۔ امریکہ اس علاقے میں، عراق، شام، لبنان وغیرہ پر اپنا غلبہ چاہتا تھا۔ مزاحمت نے دکھا دیا کہ یہ ممکن نہیں ہے، امریکیوں کو اس علاقے سے جانا پڑے گا۔
وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی آمین گنڈاپور کے اعلان کے بعد آج پہلے مرحلے میں پہلا لنگر خانہ پشاور پجگٸی روڈ والا دو سال بعد کھول دیا۔ پناہ گاہ بجگی روڈ پشاور میں آج کی رات 240 مزدوروں نے قیام و طعام کیا۔