*اے میرے رب!*
*میری وفات سے پہلے میری اصلاح کر دینا،*
*اور میرا بہترین اختتام کرنا۔۔۔*
*اور مُجھے موت دینا اس حال میں کہ تو مُجھ سے بے انتہا راضی ہو،*
*اور میرے جانے کے بعد کسی کو چن لینا جو میرے لیے دعا گو رہے۔۔۔*
*آمین یا رب*
سردار امان کا بڑا اعلان جاری 🔥
اگر تم آزاد کشمیر راشن بند کروگے تو تجارتی راستے اور بھی ہے, ہم ان راستوں کو کھول دینگے!
ہم تمھاری سبسڈی کو لات مارتے ہیں م, تم ہمارے کشمیر سے نکلو تمھارا کیا کام ہے,ہم جانے اور انڈیا جانے
عاصم منیر کا شکریہ👏کشمیریوں کو اس حد تک لے جانے کے لیے
پاکستانیوں کو پاکستانی فوج سعودی عرب پہنچنے کی اطلاع نا پاکستانی فوج نے دی نا پاکستانی میڈیا نے دی نا آئی ایس پی آر نے دی نا کسی عسکری ٹاوٹ نے دی بلکہ سعودی عرب نے دی اور عین اس وقت دی جب ایرانی وفد جنگ بندی کے لیے پاکستان میں موجود تھا۔
یہ معاہدہ نہیں مفاد ہے۔
پاکستانی فورسز کے سعودی عرب پہنچنے کی خبر بھی پاکستانیوں کو سعودی عرب سے مل رہی ہے۔ یہ وہی دفاعی معاہدہ ہے جو جعلی پارلیمنٹ اور جعلی کابینہ تک میں ڈسکس نہیں ہوا۔ عاصم منیر کے مفادات پاکستان کے مفادات نہیں ہیں۔ پاکستان کا دنیا کی جنگوں میں فریق بننا افسوسناک ہے۔
اگر آپ کسی عدالت میں 16ویں نمبر پر بیٹھے ہوئے ایک جسٹس ہوں اور آپ کو اچانک اسلام آباد ہائیکورٹ کاچیف جسٹس بنا دیا جائے تو پھر آپ نے انصاف نہیں دینا ہوتا۔ پھر آپ نے یہی کرنا ہوتا ہے جو آپ کر رہے ہیں۔۔یہی وجہ ہے کہ آپ کو پھر نوازا بھی جاتا ہے۔۔آپ کی اہلیہ کو بھی ممبر بنا دیا جاتا ہے۔ سلطان سکندر صاحب کی اہلیہ کو بھی اسی طرح ممبر بنایا گیا ہے: نعیم حید رپنجوتھا
@NaeemPanjuthaa
علی امین گنڈاپور نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان عمران خان کو جیل سے اسپتال اور پھر وہاں سے ان کی رہائش گاہ منتقل کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا، ناکام کیوں بنایا؟ صحافی حامد میر نے پوری کہانی بیان کر دی
عمران خان کی قید پر وہ زرداری صاحب طنز کر رہے ہیں جنہوں نے خود بیماری کا جواز اور بہانہ بنا کر اسلام آباد ہائیکورٹ میں فاروق ایچ نائیک کے ذریعے درخواست کی تھی، زرداری صاحب کو کم از کم 8 بیماریاں بتائی گئیں اور نواز شریف کی بیماریوں کی طرح اتنا خوفناک نقشہ پیش کیا گیا کہ الامان الحفیظ۔ انسان کچھ تو شرم کرتا ہے، عہدے کا لحاظ نہ سہی کم از کم اپنے ماضی کا لحاظ ہی کر لینا چاہیے
یہ جو دہشتگردی ہے
اسکے پیچھے وردی ہے
صرف ایک نعرہ نہیں ایک پورا فلسفہ ہے جو پاکستان کے معروضی حالات کو ایک جملے میں سمو دیتا ہے۔
فوج دہشتگردی روکنے میں ناکام ہے۔ فوج مختلف دہشتگرد گروہوں کو پالتی اور نکالتی رہتی ہے۔ فوجی کی پھیلائی ہوئی معاشی ناکامیاں عوام کو غربت ، جہالت اور بالآخر دہشتگردی کی طرف دھکیلتی ہیں۔ طویل فوج کا پیدا کیا گیا سیاسی عدم استحکام بھی بالآخر بلوچستان جیسی صورتحال میں دہشتگردی کا سبب بنتا ہے ، لہذا
یہ جو دہشتگردی ہے
اسکے پیچھے وردی ہے