ریاستِ پاکستان کی ناکامی، معاشی بدحالی اور عوام کی زندگی اجیرن بنانے کی جب بھی تاریخ لکھی جائے گی، تو مہنگے بجلی معاہدے کرنے والوں اور قوم کا خون نچوڑنے والوں کے نام سرفہرست ہوں گے۔ ان فیصلوں کی قیمت آج پوری قوم مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی تباہی کی صورت میں ادا کر رہی ہے۔
حیرت ہے
نہ ہی حکومت کو
نہ ہی IMF کو
نہ ہی وزارت خزانہ کو
نہ ہی وزارت پانی و بجلی کو،
11 ارب ڈالر سالانہ کپیسٹی چارجز لینے والے کرائے کے بجلی گھر نظر آتے،
مگر 200 یونٹ ماہانہ استعمال کرنے والے صارفین نظر بھی آتے ہیں اور چبھ بھی رہے ہیں،
#بھتہ_خور_آئی_پی_پیز_نامنظور
تمام پاکستانیوں کو شئیر کریں۔۔۔۔۔
واپڈا کے ذریعے عوام کا خون پینے والے 42 آئی پی پیز بند پڑے ہیں قوم اس کا اربوں دے رھی ھے اس ملک میں اندھیر نگری کاراج ھے بند شدہ ایک یونٹ آئی پی پی دس کروڑ ماہانہ لیتا ہے ۔۔۔ وفاقی وزیر حنیف عباسی
#بھتہ_خور_آئی_پی_پیز_نامنظور
بجلی صارفین سے گزارش ہے کہ شئیر کیجئے شکریہ اپنے حصے کا فرض نبھائیں... آواز بلند کریں جب تک تمام بھتہ خوروں کے نام publishنہیں کئے جاتے۔publish
سمجھ نہیں آرہی
ایک لیٹر پٹرول پر دوسو روپے ٹیکس دے کے
13 روپے والا بجلی کا یونٹ 70 میں لے کے
اپنے خریدے میٹر کا 700 روپے کرایہ دے کے
کس منہ سے کہوں
میاں دے نعرے وجنے ای وجنے نے
جس طرح اسمبلی میں مراعات بڑھانےکے لیے تمام کے تمام ممبران ایکا کر لیتے ہیں بجلی کی لوٹ مار کے خلاف قوم کو بھی ایک ہو جانا چاھیے ۔ یہ جو یہ ٹیکس وہ ٹیکس فکس چارجز ہیں ہیں یہ کسی مہزب ملک میں لگتے تو وہاں کی عدالتیں حکومت کی چیخیں نکلوا دیتیں اور ایک ایک پائی واپس کرنی پڑتی مگر بدقسمتی سے ہماری عدلیہ انصاف کی لائین میں بہت نیچے مزید یہ کہ بجلی گیس پانی مفت ہے جیب سے بھرنے پڑتے تو غریب کا احساس ہوتا ۔
پاکستانی عوام کو چاہئے کہ اپنے حقوق کے لیے ایک ہو جائیں ..... آپ کس پارٹی سے بھی ہیں....... بجلی کے ذریعے جو غریب عوام کو لوٹا جا رہا ہے اس کے خلاف اپنا پنا احتجاج ریکارڈ کرواوئیں۔
جج حضرات کو پانچ سو لیٹر پٹرول ماہانہ کے علاؤہ ساڑھے بائیس لیٹر پٹرول روزانہ یعنی 675 لٹر پٹرول ماہانہ مفت دیا جاتا ہے۔۔۔
اسی پٹرول پر غریب عوام سے تقریبا 180 روپے سے زائد فی لیٹر ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔۔۔
عدلیہ کی کارکردگی تو سب کے سامنے ہے۔۔۔
ملیے ان ملائی کھانے والے شہزادوں سے جو ڈیڑھ کروڑ تک تنخواہ لیتے ہیں اور ان کی کارکردگی یہ ہے کہ ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے اور ان سب کے پاس واحد حل یہ کہ بجلی کے بلوں پر ٹیکس لگا دو پیٹرول پر لیوی بڑھا دو اس کے علاوہ انہوں نے کبھی اس ملک کی معیشت کو فائدہ نہی دیا ہے
ملیے ان ملائی کھانے والے شہزادوں سے جو ڈیڑھ کروڑ تک تنخواہ لیتے ہیں اور ان کی کارکردگی یہ ہے کہ ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے اور ان سب کے پاس واحد حل یہ کہ بجلی کے بلوں پر ٹیکس لگا دو پیٹرول پر لیوی بڑھا دو اس کے علاوہ انہوں نے کبھی اس ملک کی معیشت کو فائدہ نہی دیا ہے
سری لنکا اور بنگلا دیش بننے
کا سب سے زیادہ خوف اس
اور اس جیسے تبقوں کو ہے جو
78سال سے اس عوام کا خون
چوس رہے ہیں انشااللہ ایک دن
ان سب حرامخوروں کا یوم حساب
آنا ہے