نومبر 2021 میں پی ٹی آئی حکومت نے ٹی ٹی پی کے ساتھ ایک ماہ کی جنگ بندی کی تصدیق بھی کی تھی، جبکہ مذاکرات میں افغان طالبان ثالث کا کردار ادا کر رہے تھے۔ بعد میں جنگ بندی ختم ہوگئی اور مذاکراتی عمل بھی آگے نہ بڑھ سکا۔
#TTPTI
جب خیبرپختونخوا کے شہری اور سیکیورٹی اہلکار دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہوں، ایسے وقت میں صوبائی حکومت کا سیاسی دھرنوں اور لانگ مارچ کی تیاریوں میں مصروف ہونا کئی سوالات اٹھاتا ہے۔ امن و امان آخر کب ترجیح بنے گا؟
شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں عمران خان کی منتقلی یا ان کے لیے بیسمنٹ میں الگ فلور تیار کیے جانے کی خبر کے حق میں موقع پر کوئی شواہد سامنے نہیں آئے۔ صحافت میں دعوے سے پہلے تصدیق ضروری ہے، افواہ نہیں بلکہ حقیقت عوام تک پہنچنی چاہیے۔
خیبر پختونخوا کے پولیس جوانوں کا واضح مؤقف قابلِ غور ہے کہ ان کی ذمہ داری عوام کو دہشتگردی سے محفوظ رکھنا ہے، کسی سیاسی جماعت یا سیاستدان کی خدمت کرنا نہیں۔ پولیس کو سیاست سے دور رکھنا ہی عوام اور اہلکاروں دونوں کے مفاد میں ہے۔
@Saba5670 پولیس جیسے اہم ادارے میں ترقیوں کا معیار سیاسی وابستگی نہیں بلکہ میرٹ، کارکردگی اور پیشہ ورانہ اہلیت ہونی چاہیے۔ یہی ادارے کی مضبوطی کی بنیاد ہے۔
@faisi_659 پولیس کی پوسٹنگز اور تبادلوں میں سیاسی اختیار بڑھانے پر پہلے ہی سوالات اٹھ چکے ہیں۔ پولیس کو سیاسی اثر سے آزاد اور پیشہ ورانہ بنیادوں پر چلنا چاہیے۔
@Hasy666 کسانوں کے لیے ٹریکٹرز اور زرعی مشینری تک رسائی بڑھانا براہِ راست زرعی پیداوار اور کسان کی سہولت سے جڑا ہوا ہے۔ ایسے اقدامات تسلسل کے ساتھ جاری رہنے چاہئیں۔