#FFC
A one-year delay in disclosing management’s share purchases undermines transparency and erodes investor confidence. Timely disclosure is not just a regulatory requirement it is essential for maintaining a fair and efficient market.
Bohar der krdi meharban aaty aaty 😊
Top performing Halal stocks since October 2025 till May 2026.
Which of these stocks would you have bought in October? Personally, I wouldn't buy just any of them. Too many red flags there in all of them.
That's a fact.
I myself started my PsX journey in September/October 2025 and invested in KMI-30 stocks mostly.
Till date, my portfolio stands at 0% growth but at the time of dips, I bought more stocks to average the losses.
I updated this dashboard now after a gap of 4 months since January.
An interesting fact discovered. Stock market returns are now 0% from October 2025 till May 2026 if someone invested in KMI ALL stocks at equal weights. (1/2)
میں نے سنہ 2009 میں بائیک کے لیے پٹرول خریدنا شروع کیا۔ پہلے بائیک تھی پھر گاڑی لی۔ مجھے کسی نے یہ بات نہیں بتائی۔ خود ہی نجانے کیوں ایسا کیا۔ کہ اگلی صبح پٹرول مہنکا ہونے سے پہلے ٹینکی فل کرائی ہو۔ کامن سینس نے ہی بتایا وہ ٹینکی آخر کتنا عرصہ چلے گی؟ بائیک کی ٹینکی میں آٹھ دس لٹر پٹرول پر آخر کتنی بچت ہو جائے گی؟ اور لمبی لائن میں لگنے والی ذلالت الگ۔
آج محض ریسرچ کے مقصد سے ایک پٹرول پمپ پر چند منٹ رکا۔ وہ صرف 1000 روپے کا یعنی اڑھائی لٹر پٹرول فی بائیک دے رہے تھے۔ ڈیڑھ دو سو بائیکس کی لمبی لائن میں اس وقت ضرورت والے چند ایک جبکہ صبح پٹرول مہنگا ہونے کے ڈر سے سستے ریٹ پر چند لٹر پٹرول لینے والے لگ بھگ 90% لوگ تھے۔
بہت سے پمپ تو پٹرول دینا روک چکے ہیں۔ دوسری میری ایک عادت ہے جو پٹرول پمپ اس وجہ سے پٹرول دینا بند کر دے کہ مہنگا ہوگا تو رات بارہ بجے کے بعد ریٹ بڑھا کر بیچیں گے۔ اسکے پاس کبھی زندگی میں دوبارہ نہیں گیا۔ ایسے کم ظرف کمینوں کا مستقل بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ جو پٹرول پمپ رات گیارہ کے بعد بھی چند منٹ بعد پٹرول مہنگا ہونے سے پہلے بھی پٹرول دیتا رہے۔ ہمیشہ اس کے پاس جائیے۔ اور پلیز اس چیز سے بھی باہر نکلیے۔
یقین مانیے ابھی اپنی آنکھوں سے چند ایک کروڑ پتی لوگوں کو ہزار روپے کا پٹرول لینے کے لیے لمبی لائن میں لگے دیکھا۔ ان کو شاید یہ کسی نے کبھی بتایا ہی نہیں کہ یہ انکے شایان شان کام نہیں ہے۔ بھیڑ چال میں وہ بھی خوار ہو رہے ہیں۔ اور اس سو دو سو روپے کی بچت سے وہ کونسا تاج محل تعمیر کر لیں گے۔ سوچتا ہوں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہماری یہ حالت کر دی گئی ہے۔ کہ ہمیں روز مرہ زندگی کی ضروتوں میں ہی ایسا ذلیل و رسوا کیا جائے کہ اپنے بنیادی حقوق کی بات کرنا ہی ہم بھول جائیں۔خطیب احمد کی وال سے