ﺍسَّـــﻼَﻡُ ﻋَﻠَﻴـْـﻜُﻢ ﻭَﺭَﺣْﻤَــــﺔُ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﻭَﺑَﺮَﻛـَـﺎﺗُﻪ
✨صبــــــح_بخــــــیر✨
﷽
إن الله و ملائكته يصلون على النبي يا أيها الذين آمنوا صلوا عليه وسلموا تسليما
(ﷺ)
#خاتم_النبیین_رَحۡمَةًلِّلۡعَٰالَمِينَ_محمّدﷺّ
Pati को चूहे मारने वाली दवा देकर की Biwi ने की हत्या, Insurance के 2 करोड़ प्रेमी से Share करना पड़ा भारी
Story:- ( @originaldipak50 & @varnitavajpayee )
Full Video:- ( https://t.co/CIMa9uZOkv )
حیرت انگیز۔
یہ ایشیا کپ کے دوران افغانستان اور بنگلہ دیش کا میچ تھا جس کے دوران 2 برسوں سے لاپتہ افغان خاتون مرسل کومل کا اپنے خاندان سے ڈرامائی انداز میں ملن ہوا۔
ایشیا کپ کا افغانستان اور بنگلہ دیش کا میچ لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں شروع ہونے میں ابھی تھوڑا وقت باقی تھا۔ پاکستان میں افغانستان کے ناظم الامور احمد شکیب بھی میچ دیکھنے کے لیے قذافی سٹیڈیم کی پارکنگ میں اپنے پروٹوکول کے ساتھ پہنچ چکے تھے۔
لاہور کی ٹریفک پولیس سٹیڈیم کے اندر اور باہر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کی کوششوں میں مصروف تھی۔ ایک ٹریفک وارڈن کی ڈیوٹی سٹیڈیم کے اندر تھی لیکن وہ بڑی شدت سے افغان ناظم الامور کے موٹر کیڈ کا انتظار کر رہے تھے۔
جیسے ہی ٹریفک وارڈن نے وائرلیس پر سنا کہ افغان ایمبیسڈر کا موٹر کیڈ سٹیڈیم میں داخل ہو رہا ہے تو وہ تیزی سے پارکنگ میں پہنچے اور پارکنگ سے وی آئی پی سٹینڈ تک لے جانے والی چھوٹی روور کی ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی اور احمد شکیب کی گاڑی کے پاس لگا دی۔ انہوں نے افغان ناظم الامور اور ان کے ملازمین کو پورے پروٹوکول کے ساتھ روور میں بٹھایا اور وی آئی پی سٹینڈ کی طرف روانہ ہو لیے۔
مقررہ جگہ پر پہنچ کر ٹریفک وارڈن نے اچانک ناظم الامور کو کہا کہ ’سر مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔‘ احمد شکیب رک گئے اور غور سے یونیفارم میں ملبوس ٹریفک وارڈن کو دیکھا۔ ٹریفک وارڈن نے فوری طور پر بولنا شروع کر دیا ’سر ہمارے پاس افغانستان سے اغوا کی گئی ایک نوجوان خاتون ہیں جن کا ایک بچہ بھی ہے۔ ہم افغانستان میں ان کے خاندان والوں کو ڈھونڈ رہے ہیں۔ کیا آپ ہماری مدد کر سکتے ہیں؟؟
احمد شکیب یہ سُن کر ہکا بکا رہ گئے اور بولے
’ہم پوری کوشش کریں گے‘
انہوں نے اپنے سٹاف کو ٹریفک وارڈن شاہد قیوم کا نمبر لے کر رابطہ میں رہنے کی ہدایت کر دی۔
دراصل ہوا کچھ یوں تھا کہ افغانستان بنگلہ دیش کرکٹ میچ سے دو ہفتے پہلے لاہور کے بلقیس ایدھی ہوم میں ٹریفک وارڈن شاہد بے سہارا افراد کا ریکارڈ کھنگال رہے تھے تو انہیں افغانستان سے تعلق رکھنے والی خاتون مرسل کومل سعیدی کا نام بھی فہرست میں ملا۔
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے شاہد قیوم نے بتایا کہ نام دیکھنے کے بعد ہماری ٹیم نے خاتون کو بلایا تو انہوں نے ایک 9 مہینے کا بچہ اٹھایا ہوا تھا۔ لیکن ان کی زبان ہمیں سمجھ نہیں آئی۔ ایک پشتو بولنے والے کو ہم نے بلایا تو ان کو بھی زبان سمجھ میں نہیں آئی۔ انہوں نے بتایا یہ دری اور فارسی کے مکس لہجے میں بات کر رہی ہیں۔‘
ٹریفک وارڈن شاہد بتاتے ہیں ’ہم نے پھر فارسی بولنے والے ایک مترجم کو ڈھونڈا اور ان کو لے کر بلقیس ایدھی ہوم آئے۔ تو ہمیں خاتون نے بتایا کہ کیسے دو سال پہلے افغانستان سے اغوا کر کے پاکستان لایا گایا۔ طویل انٹرویو کے بعد ہمارے پاس کافی معلومات آ چکی تھیں۔‘
شاہد قیوم کے مطابق مرسل نامی اس خاتون کی عمر 25 سال کے قریب تھی اور ان کا کابل کے مضافات میں گھر تھا۔ وہ شادی شدہ تھیں اور ان کا شوہر اور ایک بیٹا افغانستان میں ہی تھے جب ان کو اغوا کیا گیا تو وہ پانچ مہینے کی حاملہ تھیں۔
ٹریفک وارڈن شاہد قیوم نے جب افغان ناظم الامور کو قذافی کی پارکنگ میں روکا تھا تو اس وقت وہاں ان کی ڈیوٹی نہیں تھی۔ وہ لاہور پولیس چیف مستنصر فیروز کے احکامات پر گمشدہ افراد اور بچوں کو اپنے پیاروں سے ملوانے کا ٹاسک بھی پورا کر رہے ہیں۔ افغان ناظم الامور سے بات کرنے کا طریقہ انہوں نے وہی کھڑے کھڑے نکالا اور پروٹوکول فراہم کرتے ہوئے ان سے بات کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ وہ مرسل کے خاندان کو ہر صورت ڈھونڈنا چاہتے تھے۔
ایشیا کپ کے لاہور میں ہونے والے تیسرے میچ میں جو پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تھا اس دوران شاہد قیوم کے موبائل فون پر ایک تصویر موصول ہوئی۔ یہ تصویر افغان ناظم الامور کے سٹاف کی طرف سے بھیجی گئی تھی اور کچھ بھی بتائے بغیر صرف یہ ہدایت کی گئی کہ اس تصویر کو اس خاتون کو دکھایا جائے۔
شاہد بتاتے ہیں کہ ’میں وہ تصویر لے کر فوری طور پر بلقیس ایدھی ہوم پہنچا اور وہ تصویر مرسل کو دکھائی۔ تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع ہو گئی یہ تصویر ان کے شوہر کامل سعیدی کی تھی۔‘
جب افغان ناظم الامور کو بتایا گیا کہ وہ اپنے شوہر کو پہچان چکی ہیں تو وہاں سے مزید خاندان کے تصاویر بھیجی گئیں۔ مرسل نے اپنے باپ، بیٹے اور بہن کو بھی پہچان لیا۔
اسی طرح مرسل کی تصاویر اور ویڈیوز بھی بھیجی گئیں جو ان کے خاندان والوں نے پہچان لیں۔ یوں اس خاندان کا ملاپ ممکن ہوا۔ جمعہ آٹھ ستمبر 2023 کو مرسل کو اسلام آباد میں واقع افغان ناظم الامور کے دفتر میں پہنچایا جا رہا ہے۔ جہاں سے انہیں افغانستان بھیجنے کی تیاریاں پہلے سے ہی مکمل ہیں۔
لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ مرسل کومل افغانستان سے اغواء کر کے پاکستان کیسے لائی گئی؟ پاکستان میں وہ لاہور کیسے پہنچی؟؟
وطنِ عزیز کی مٹی ایک بار پھر اپنے ایک عظیم سپوت اور کئی بہادر محافظوں کے لہو سے سرخ ہو گئی۔ آرمی میڈیکل کور (AMC) کی مایۂ ناز افسر، ماہرِ امراضِ نسواں میجر ڈاکٹر ثناء اظہار، وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے کے نتیجے میں شہادت کے عظیم منصب پر فائز ہو گئیں۔
وہ صرف ایک فوجی افسر ہی نہیں تھیں بلکہ دکھی انسانیت کی خدمت کرنے والی ایک ہمدرد معالج بھی تھیں، جن کے ہاتھوں نے بے شمار ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو زندگی اور امید کا پیغام دیا۔ مگر آج وہی ہاتھ وطن کی حفاظت اور انسانیت کی خدمت کی راہ میں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے۔
اس المناک سانحے میں میجر ڈاکٹر ثناء اظہار کے ساتھ وطن کے 20 اور جانباز سپوتوں نے بھی جامِ شہادت نوش کیا۔ ان عظیم شہداء نے اپنے لہو سے وفا، جرات، قربانی اور حب الوطنی کی ایسی داستان رقم کی ہے جو رہتی دنیا تک سنہری حروف میں لکھی جاتی رہے گی۔
شہداء کا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ ان کی قربانیاں قوموں کی بقا، آزادی اور وقار کی ضمانت بنتی ہیں۔ آج پوری قوم اپنے ان عظیم بیٹوں اور بیٹی کی لازوال قربانی کو سلامِ عقیدت پیش کرتی ہے اور ان کے اہلِ خانہ کے غم میں برابر کی شریک ہے۔
اللہ تعالیٰ شہید میجر ڈاکٹر ثناء اظہار اور دیگر تمام شہداء کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات کو بلند سے بلند تر فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور ان کے لواحقین کو صبرِ جمیل، حوصلہ اور استقامت نصیب فرمائے۔
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
موت کا کوئی وقت مقرر نہیں
جیسے ہی لڑکی نے کلمہ پڑھا
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ"۔
اسکی آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہو گئیں
اس کی روح اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملی
یہ سچی کہانی مصر کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال کی ہے، جہاں آئی سی یو (ICU) وارڈ میں ڈاکٹر مجدی یعقوب ڈیوٹی پر موجود تھے۔
ڈاکٹر مجدی یعقوب اپنے کام میں ماہر تھے،
لیکن دنیا کی چمک دمک میں اتنے مگن تھے کہ نمازوں کی کوئی پرواہ نہیں کرتے تھے۔
وہ خود کہتے ہیں کہ انسان کتنا ہی غافل کیوں نہ ہو، اللہ پاک بعض اوقات اسے ہدایت دینے کے لیے ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے کہ روح کانپ اٹھتی ہے۔
ایک دن عصر کے وقت ہسپتال میں ایک 20 سالہ نوجوان لڑکی کو لایا گیا، جو یونیورسٹی کی طالبہ تھی۔
وہ ایک خوفناک سڑک حادثے کا شکار ہوئی تھی، اس کے سر اور جسم پر شدید چوٹیں آئی تھیں اور بہت زیادہ خون بہہ چکا تھا۔ لڑکی کی حالت اتنی نازک تھی کہ اسے فوری طور پر لائف سپورٹ (وینٹی لیٹر) پر منتقل کرنا پڑا۔
وارڈ کے باہر اس کے بوڑھے والدین زار و قطار رو رہے تھے اور اپنے جگر کے ٹکڑے کی زندگی کی دعائیں مانگ رہے تھے۔
ڈاکٹر مجدی اور نرسوں کا عملہ اس لڑکی کی جان بچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا تھا۔
اسی دوران لڑکی کو چند لمحوں کے لیے ہوش آیا۔ وہ شدید درد کی وجہ سے تڑپ رہی تھی، لیکن اس کی آنکھیں کچھ تلاش کر رہی تھیں۔
اس نے بہت ہی کمزور آواز میں اپنے پاس کھڑی نرس کا ہاتھ پکڑا۔ نرس نے جھک کر اس کی بات سننا چاہی۔
لڑکی نے ہچکی لیتے ہوئے پوچھا:
"کیا مغرب کی اذان ہو گئی ہے؟"
نرس یہ سوال سن کر دنگ رہ گئی۔ اس نے ڈاکٹر عاصم کو اشارہ کیا۔ ڈاکٹر صاحب قریب آئے اور بولے:
"بیٹا! اذانیں ہو چکی ہیں، لیکن تم اس وقت شدید تکلیف میں ہو، تمہارا آپریشن ہونا ہے، تم نماز کی فکر نہ کرو،
اللہ معاف کرنے والا ہے۔"بعد میں پڑھ لینا
لڑکی کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس نے تڑپ کر ایسی بات کہی جس نے ڈاکٹر مجدی کا دل دہلا دیا۔ اس نے کہا:
"ڈاکٹر صاحب! اگر آپریشن تھیٹر کے اندر میری روح نکل گئی، تو میں اپنے اللہ کو کیا جواب دوں گی؟
میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے، کبھی فرض نماز قضا نہیں کی الحمدللہ میں حافظ قرآن ہو مجھے بس ایک بار وضو کروا دیں، میں اپنے رب کے سامنے سرخرو ہو نا چاہتی ہوں۔"
ڈاکٹر مجدی یعقوب نے اسے سمجھایا: "بیٹا! تمہارے جسم سے خون بہہ رہا ہے، تم بستر سے ہل بھی نہیں سکتیں، اس حالت میں وضو ممکن نہیں۔"
اسکی بعد میں قضا بھی ہو سکتی ہے مجبوری ہے
لیکن اس لڑکی کے دل میں اللہ کی محبت کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ اس نے روتے ہوئے کہا: "ڈاکٹر صاحب!
اگر پانی نقصان دہ ہے، تو مجھے یہیں بستر پر تیمم کروا دیں، لیکن خدا کے لیے مجھے نماز پڑھنے سے نہ روکیں۔
اس 20سالہ لڑکی کا یہ ایمان اور جذبہ دیکھ کر ڈاکٹر مجدی یعقوب اور نرسوں کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔
ڈاکٹر صاحب نے فوراً نرس سے کہا کہ پاک مٹی یا غبار کا انتظام کرو۔ نرس نے بستر پر ہی اس لڑکی کو تیمم کروایا۔
تیمم کرتے ہی لڑکی کے چہرے پر ایک ایسا نور اور سکون آ گیا جیسے اس کا سارا درد ختم ہو گیا ہو۔
اس نے لیٹے لیٹے ہی، آنکھوں کے اشاروں سے مغرب کی نماز شروع کر دی۔ پورا عملہ خاموشی سے سر جھکائے کھڑا تھا اور ہسپتال کے اس کمرے میں ایک عجیب و غریب روحانی ماحول بن چکا تھا۔
جیسے ہی لڑکی نے نماز کا آخری سلام پھیرا، اس نے اپنی کمزور نظریں آسمان کی طرف اٹھائیں، اس کے چہرے پر ایک خوبصورت مسکراہٹ آئی، اور اس نے بلند آواز میں پڑھا:
"لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ"۔
کلمہ ختم ہوتے ہی اس کی آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہو گئیں اور اس کی پاکیزہ روح اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملی۔ وہ ہسپتال کے بستر پر اپنے رب کو راضی کر کے دنیا سے رخصت ہو گئی۔
ڈاکٹر مجدی یعقوب وہیں سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔
وہ سوچ رہے تھے کہ ایک 20 سال کی بچی موت کے منہ میں بھی اپنے رب کو یاد رکھے ہوئے تھی،
اور ایک میں ہوں جو صحت اور سب کچھ ہوتے ہوئے بھی نمازیں ضائع کر دیتا ہوں!
اس لڑکی کی موت نےڈاکٹر مجدی یعقوب کے دل کی دنیا بدل دی، انہوں نے اسی وقت توبہ کی اور ہمیشہ کے لیے پنجگانہ نماز کے پابند بن گئے۔
کہانی کا حاصل
موت عمر نہیں دیکھتی، نہ ہی بچہ جوان بوڑھا بیمار تندرست نہ ہی وہ ہسپتال کا بستر دیکھتی ہے۔ جب بلاوا آنا ہے، تو ایک سیکنڈ کی مہلت بھی نہیں ملنی۔
خوش نصیب ہیں وہ نوجوان جو جوانی کی غفلت میں بھی اپنے اللہ کو نہیں بھولتے،
تاکہ جب موت کا وقت آئے تو زبان پر کلمہ جاری ہو سکے۔ اللہ پاک ہمیں نماز کی پابندی اور ایمان پر خاتمہ نصیب فرمائے۔ آمین۔
#namazkipabandi #ishqeelhaie #allhakakhof #viral #viralpost #facebookpost