تم اگر واقعی معصوم ہو اور ابھی تک تمہیں پاکستانی ریاست کی حقیقت کا پتہ نہیں چلا ہے تو میں تمہیں ابھی کی دو مثالوں سے بتاتا ہوں۔
پختونخوا کے کرم میں فرقہ وارانہ تشدد کرنے کیلئے لوگوں کو بھاری اسلحے کے استعمال کی اجازت، درجنوں ہلاک۔ بلوچستان کے گوادر میں پرامن اجتماع پر حملے چھاپے۔
یہ شمالی وزیرستان کے تحصیل میر علی میں گاؤں زیرکی کے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول ہے جو "نامعلوم افراد" نے بموں سے اڑا کر کھنڈر بنا دیا ہے۔ شمالی وزیرستان میں آبادیوں کو کھنڈرات میں بدلنے کا کام کئی سالوں سے جاری ہے اور اس کام میں دہشت گردوں اور فوجیوں کے برابر کا حصہ ہے.
تاریخ میں یہ بھی لکھا جائے گا کہ جس وقت پاکستان کے خلیل الرحمٰن قمر جیسے مفکرین پنجاب کے نوجوانوں کو عشق اور پیار میں فرق سمجھانے میں لگے ہوئے تھے اس وقت بلوچستان اور پختونخوا کے نوجوان ریاستی دہشت گردی کے خلاف احتجاج اور مزاحمت کے راستوں پر بہت آگے نکل چکے تھے۔
بہت سے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ لڑنے کے لیے جو غیرت درکار ہے وہ حماس کے پاس ہی ہے۔
جبکہ صورتحال یہ ہے کہ روٹی پانی بجلی گیس نوکریوں کاروبار وغیرہ کے لیے غزہ کے لوگوں کا انحصار برادر اسلامی ملک مصر پر نہیں بلکہ دشمن ملک اسرائیل پر ہے۔ اب اسرائیل یہ بند کر رہا ہے تو غزہ والوں کے پاس کیا آپشن ہے؟ مصر تو غزہ کے لوگوں کو قبول کرنے سے انکاری ہے اور برسوں سے اس کی ناکابندی کر کے بیٹھا ہوا ہے۔
شرق الاوسط کے مطابق حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ سمیت اس کے آٹھ بڑے لیڈر قطر اور ترکی وغیرہ میں پرآسائش زندگی بسر کر رہے ہیں۔
پاکستان کی جہادی تنظیموں کی لیڈر شپ بھی ایسے ہی عام پاکستانیوں کو جنگ کے لیے بھیج کر خود پاکستان میں عیش کی زندگی گزارتی تھی اور اپنے بچوں کو ان مغربی ممالک میں پڑھنے اور سیٹل ہونے کے لیے بھیجتی رہی جن کے خلاف وہ رجز پڑھتی تھی۔
جنگ ان لیڈروں کے لیے بزنس ہے اور عام لوگوں کے لیے قیامت۔
18th December - 8 PM: the strongest team of the world cup versus a legend’s career’s fairytale farewell. A clash to remember for ages! Who will you support?
#FIFAWorldCup