جو حالات آج ہیں، بہت عرصے سے چل اور پل رہے یا آئندہ پیش آنے والے ہیں، ان کے عقب میں دشمن کی تحقیق اور جدو جہد کی ایک پوری تاریخ ہے۔
آخری اسلامی طاقت (عثمانیہ خلافت )کو توڑنے کے بعد تین عوامل پر بھرپور محنت کی گئی۔
1-امت کو قومیت (nationalism ) اور فقہی اختلاف کی بنیادپر ٹکڑے ٹکڑے کرنا۔
2- جہاد کو اتنا بدنام کرنا کہ ایک دن یہ لفظ مذاق بن کر رہ جائے۔
3-آقائے دوعالم ﷺ کی نورانی ذات کی حرمت پر حملے کرنا اور مسلمان کے دل سے ان کی uncompromising محبت کی بنیادوں کو ہلانا۔
اس بات کا فیصلہ میں آپ پہ چھوڑتا ہوں کہ دشمن اپنے گھناؤنے مقاصد میں کس حد تک کامیاب ہوا ہے۔
ہمارے بڑوں سے احتجاج ثابت ہے یا جہاد؟
احتجاج کیجئے البتہ یاد رکھئے کہ بھیڑیے نے بھیڑ کے احتجاج اور چیخ و پکار پہ اسے کبھی نہیں چھوڑا۔
مسئلہ کے سانپ کا سر کاٹنا ، اس کا حل ہے، اس کی
گزرگاہ پہ بنی لکیر پیٹنا بزدلوں کا کام ہے۔
اور بد قسمتی سے حقیقت یہی ہے کہ ہم سب موت اور مفلسی کے خوف اور دنیا اور مافیہا کے لالچ تلے ، مجموعی بے حسی اور بے غیرتی کے زمانے میں سانس لے رہے ہیں
#حرفِ_راشد
جو حالات آج ہیں، بہت عرصے سے چل اور پل رہے یا آئندہ پیش آنے والے ہیں، ان کے عقب میں دشمن کی تحقیق اور جدو جہد کی ایک پوری تاریخ ہے۔
آخری اسلامی طاقت (عثمانیہ خلافت )کو توڑنے کے بعد تین عوامل پر بھرپور محنت کی گئی۔
1-امت کو قومیت (nationalism ) اور فقہی اختلاف کی بنیادپر ٹکڑے ٹکڑے کرنا۔
2- جہاد کو اتنا بدنام کرنا کہ ایک دن یہ لفظ مذاق بن کر رہ جائے۔
3-آقائے دوعالم ﷺ کی نورانی ذات کی حرمت پر حملے کرنا اور مسلمان کے دل سے ان کی uncompromising محبت کی بنیادوں کو ہلانا۔
اس بات کا فیصلہ میں آپ پہ چھوڑتا ہوں کہ دشمن اپنے گھناؤنے مقاصد میں کس حد تک کامیاب ہوا ہے۔
ہمارے بڑوں سے احتجاج ثابت ہے یا جہاد؟
احتجاج کیجئے البتہ یاد رکھئے کہ بھیڑیے نے بھیڑ کے احتجاج اور چیخ و پکار پہ اسے کبھی نہیں چھوڑا۔
مسئلہ کے سانپ کا سر کاٹنا ، اس کا حل ہے، اس کی
گزرگاہ پہ بنی لکیر پیٹنا بزدلوں کا کام ہے۔
اور بد قسمتی سے حقیقت یہی ہے کہ ہم سب موت اور مفلسی کے خوف اور دنیا اور مافیہا کے لالچ تلے ، مجموعی بے حسی اور بے غیرتی کے زمانے میں سانس لے رہے ہیں
#حرفِ_راشد
جو حالات آج ہیں، بہت عرصے سے چل اور پل رہے یا آئندہ پیش آنے والے ہیں، ان کے عقب میں دشمن کی تحقیق اور جدو جہد کی ایک پوری تاریخ ہے۔
آخری اسلامی طاقت (عثمانیہ خلافت )کو توڑنے کے بعد تین عوامل پر بھرپور محنت کی گئی۔
1-امت کو قومیت (nationalism ) اور فقہی اختلاف کی بنیادپر ٹکڑے ٹکڑے کرنا۔
2- جہاد کو اتنا بدنام کرنا کہ ایک دن یہ لفظ مذاق بن کر رہ جائے۔
3-آقائے دوعالم ﷺ کی نورانی ذات ک�� حرمت پر حملے کرنا اور مسلمان کے دل سے ان کی uncompromising محبت کی بنیادوں کو ہلانا۔
اس بات کا فیصلہ میں آپ پہ چھوڑتا ہوں کہ دشمن اپنے گھناؤنے مقاصد میں کس حد تک کامیاب ہوا ہے۔
ہمارے بڑوں سے احتجاج ثابت ہے یا جہاد؟
احتجاج کیجئے البتہ یاد رکھئے کہ بھیڑیے نے بھیڑ کے احتجاج اور چیخ و پکار پہ اسے کبھی نہیں چھوڑا۔
مسئلہ کے سانپ کا سر کاٹنا ، اس کا حل ہے، اس کی
گزرگاہ پہ بنی لکیر پیٹنا بزدلوں کا کام ہے۔
اور بد قسمتی سے حقیقت یہی ہے کہ ہم سب موت اور مفلسی کے خوف اور دنیا اور مافیہا کے لالچ تلے ، مجموعی بے حسی اور بے غیرتی کے زمانے میں سانس لے رہے ہیں
#حرفِ_راشد