#اردو_زبان
کس کو کس کس لمحے کھونا ہوتا ہے
چاہت میں یہ اکثر ہونا ہوتا ہے
تم نے مجھ سے ملنا کیونکر چھوڑ دیا
مجھ کو تم سے مل کر رونا ہوتا ہے
لوگ بھی کھل کر اس سے کھیلا کرتے ہیں
دل بھی جیسے ایک کھلونا ہوتا ہے
#اردو_زبان
وہ خوبصورت تھا
مگر اس کی خوبصورتی
اس کے چہرے تک محدود نہ تھی۔
وہ جب ہنستا
تو جیسے کسی اداس کمرے میں
کھڑکی کھل جاتی۔
وہ جب بولتا
تو لفظوں پر
نرمی اتر آتی۔
اور جب خاموش ہوتا
تو خاموشی بھی
خوبصورت لگنے لگتی۔
لڑکیوں کا جوؤں کے خلاف فیصلہ کن آپریشن!
جوؤں سے تنگ آکر بالوں کی پوری آبادی ہی ختم کر دی! 🤣 اب جوئیں بے گھر، کنگھی بے روزگار اور شیمپو کمپنیاں زیرِ غم ہیں! 😂
ای��ا تاریخی احتجاج کہ جوئیں بھی نعرہ لگا رہی ہیں: ہمیں گھر چاہیے، سر نہیں!۔ 🤣🤣
#اردو_زبان
#اردو_زبان
اگر بندہ ہر چیز کو جان لے، لیکن اپنے رب کو نہ جانے، تو گویا اس نے کچھ نہیں جانا۔ اور اگر وہ دنیا کے تمام حصے، اس کی لذتیں اور خواہشیں حاصل کر لے، لیکن اللّٰه کی محبت، اس کا شوق اور اس سے انس حاصل نہ کر سکے، تو گویا اس نے کوئی ��ذت، کوئی نعمت اور کوئی آنکھ کی ٹھنڈک حاصل نہیں کی ۔۔
اللهم إهدينا صراط المستقيم .. آمين
@AndaleebChdry ماشاءاللہ
متاثر کن تحریر، اللہ پاک آپ کو مزید استقامت عطا فرمائے آمین
اگر لڑکوں کے نام کی بجائے والدین کے نام لکھتی تو شاید زیادہ مناسب ہوتا، کیونکہ ہمارے معاشرے میں ایسے سین ہمارے والدین Create کرتے ہیں یا جو خالائیں وغیرہ ساتھ ہوتی ہیں وہ کرتی ہیں
جو کہ غلط اقدام ہے
#اردو_زبان
#اردو_زبان
سوشل میڈیا استعمال کرنے والی میری ہر بہن کے لئے تحریر:
شیطان کے مداخل سے بچو۔
آج کل، مرد اپنے گھر والوں کے لئے دن رات محنت کرتے ہیں، ایک یا زیادہ ملازمتیں کرتے ہیں، اور اپنی راحت اور صحت کی قربانی دے کر اپنے بیوی بچوں کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں، اگر شوہر کسی دوسرے ملک میں کام کر رہا ہو تو گھر سے دور رہتا ہے یا ��گر مقامی طور پر کام کر رہا ہو تو تھکاوٹ کی وجہ سے گھر واپس آ کر سو جاتا ہے۔ اس طرح، وہ اپنے خاندان کے ساتھ بہت کم وقت گزار پاتا ہے اور گھر میں مہمان کی طرح محسوس ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال اور بیویوں کے فارغ وقت کے ساتھ ساتھ کچھ بے روزگار مرد جو عورتوں کے جذبات سے کھیلنے اور ان کے شوہر کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہیں، ان کے لئے ایک شیطانی دروازہ کھولتے ہیں۔ اگر عورت ان میں سے کسی بھی دروازے کو کھولے تو بقیہ دروازے خود بخود کھل جاتے ہیں، جو بالآخر گھروں کی بربادی، بچوں کی بے گھر ہونے اور خاندانوں کے ٹوٹنے کا سبب بنتے ہیں۔
یہ سب کچھ اس طرح شروع ہوتا ہے:
کوئی غیر مرد بیوی کو پیغام بھیجتا ہے:
"صبح بخیر، شام بخیر"
"تم کیسی ہو؟"
"نظر نہیں آ رہی ہو"
"اپنا حال بتاؤ"
"تمہیں یاد کرتا ہوں"
یہ اسی طرح شروع ہوتا ہے اور انجام بربادی پر ہوتا ہے۔
یہ شیطان کا دروازہ کھولنے کے مترادف ہے، جو تمہارا گھر برباد کر دے گا۔
"تم کیوں اداس ہو؟"
"تمہارے باتوں سے لگتا ہے کہ تم پریشان ہو"
"مجھے بتاؤ، دل کھول کر بات کرو"
"کیا تمہارے شوہر نے تمہیں تنگ کیا ہے؟"
"اگر تم میری بیوی ہوتی تو میں تمہیں کبھی اکیلا نہ چھوڑتا"
"تمہاری خوبصورت مسکراہٹ کے پیچھے میں گہرا درد محسوس کر رہا ہوں"
یہ سب بے معنی باتیں ہیں، لیکن عورتیں ان پر یقین کر لیتی ہیں کیونکہ شیطان حرام کو آسان اور دلکش بنا دیتا ہے۔ وہ مرد کو بہت حساس اور سچا بنا دیتا ہے، اور عورت کو لگتا ہے کہ یہیں وہ شخص ہے جس کی اسے ضرورت تھی۔
"تمہاری آنکھیں بہت خوبصورت ہیں"
"آج کیا کر رہی ہو؟"
"کیا تم نے ناشتہ کیا؟"
"تمہاری فیس بک پروفائل بہت اداس لگ رہی ہے"
"کیا تم نے دوپہر کا کھانا کھایا؟"
اور اسی طرح، عورت اس مرد کے ساتھ جذباتی طور پر جڑ جاتی ہے اور روزانہ اس سے بات کرتی ہے۔ وہ اس مرد کو دوست سمجھ کر اپنی باتیں بتاتی ہے، لیکن اندر سے وہ اس سے محبت کرنے لگتی ہے اور چاہتی ہے کہ وہ بھی اس سے محبت کرے۔
اور پھر ایسی عورت بربادی کی پٹڑی پر چڑھ چکی ہوتی ہیں کبھی ��ھی پسل سکتی ہے۔
یہ سب شیطان کے دروازے کھولنے کا نتیجہ ہے۔
جب کوئی مرد تمہیں اس طرح کا پیغام بھیجے تو بلاک کر دو، بغیر کسی بحث و مباحثے کے۔ یہ اصول اور اصول ہیں، ورنہ تمہارے گھر کی بربادی ہوگی اور تم پچھتاؤ گی۔
اپنے گھر کی حفاظت کرو، چاہے تمہاری حالت کچھ بھی ہو۔ اپنے شوہر کے ساتھ رہو، چاہے وہ کتنا ہی تھکا ہوا کیوں نہ ہو۔
یاد رکھو، زیادہ تر طلاق کے کیسز سوشل میڈیا کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ ہمیں اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہئے، اپنی نظر نیچی رکھنی چاہئے، اور اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں سوچنا چاہئے۔
اللہ ہمیں اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ہمارے درمیان شیطان کو دور رکھے۔ آمی��۔
اور ایک بات اور:
ہم سب غلطیاں کرتے ہیں، لیکن اصل غلطی یہ ہے کہ ہم اللہ کی طرف واپس نہ جائیں اور اپنی غلطیوں کو درست نہ کریں۔ آج ہی سے، سچی توبہ کے ساتھ ایک نیا آغاز کرو اور گھروں کی بربادی سے بچو۔
کیوں نہ پھِر سے اُس دور میں جایا جائے
مانگ کر آگ گھر کا چُولھا جلایا جائے
بیٹھ کر گلی میں کریں سب دِل کی باتیں
رَکھ کر مکئی کی روٹی پہ ساگ کھایا جائے
جب درختوں پہ چڑھ کے بیر کھاتے ت��ے
کوئی ویسا درخت پھِر گھر میں لگایا جائے
وہ تانگے کی سواری وہ گھوڑے کی ٹپ ٹپ
دھیمے سُروں میں پھِر کوئی ترانہ گایا جائے
مہمان آئیں گھر میں اور ہو گرمی کا موسم
شکر اور ستو کا شربت اُن کو پلایا جائے
شام ہو تو ��چوں کو گھر بُلائیں آوازیں دے کر
ڈال کر مٹی کا تیل لالٹین کو جلایا جائے
کاش وہ سادہ لوح لوگ پلٹ آئیں واپس امیر
اور جدیدیت کا جنازہ دھُوم سے اُٹھایا جائے