In toxic cultures, people prove their intelligence by tearing others down.
In healthy cultures, people use their intelligence to build others up.
Knowledge and expertise are not weapons to wield. They're resources to share.
- Adam Grant
A Salary Doesn’t make Anyone Rich
I have Created a list of
- 46 Passive Income Ideas for 2024
Just need
- Mobile / Pc
- Internet
- 2 to 4 hours a day
To get for free , Just
Retweet and reply “ Money ”
[ Must be following ]
پاکستان کے ڈاکٹرز کی تنظیم پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن ( PIMA)کا ایک اور خوبصورت اقدام
واٹس ایپ پر اپنا مسئلہ لکھ کر یا آڈیو کے ذریعے بھیجیں۔۔کال مت کریں اٹینڈ نہیں ہوگی۔
حالات کے پیش نظر ڈاکٹرز نے اللّٰہ کی رضا کیلئے واٹس ایپ پر🩺 *ٹیلی-کلینک*🩺 کا آغاز کیا ہے تاکہ علاج یا کسی بھی طبی مشورے کیلئے مریضوں کو گھر سے نکلنے کی ضرورت نہ پڑے اللّٰہ ہمارے ملک اور پوری ۔ انسانیت کی حفاظت فرمائے ۔
🩺ڈاکٹر ظفر اقبال
ناک کان گلہ
0301-7026914
🩺ڈاکٹر عمران
ماہر امراض گردہ
0321-3093663
🩺ڈاکٹر وقاص قریشی
فیملی فزیشن
0320-0724587
🩺ڈاکٹر عامر عادل
معدہ جگر آنت
0300-8662579
🩺ڈاکٹر محمد عارف
دل بلڈ پریشر
0300-9666875
🩺ڈاکٹر عمیر چوہدری
چائلڈ اسپیشلسٹ
0300-7206935
🩺ڈاکٹر آصف لطیف
ایکسرے الٹرا ساؤنڈ
0300-6671026
🩺ڈاکٹر اعجاز واہلہ
شعبہ انتہائی نگہداشت
0300-6626115
🩺ڈاکٹر نعمان اکرم
نیوروفزیشن
0300-9459434
🩺ڈاکٹر خاور شہزاد
آرتھوپیڈک
0333-6574689
🩺ڈاکٹر اعجاز لک
امراض چشم
0300-9650703
🩺ڈاکٹر ذوالقرنین
فیملی فزیشن
0305-5684628
🩺ڈاکٹر رحمن مقبول
جنرل سرجن
0300-6506144
🩺ڈاکٹر ملک آفتاب اسلام
معدہ جگر
0300-7258400
🩺ڈاکٹر غفران سعید
ماہر امراض جلد
0322-7611321
(واٹسیپ)
🩺ڈاکٹر شاہد اقبال گل
فیملی فزیشن
0322-7611321
🩺ڈاکٹر عنبرین
گائنی
00966-567336011 (واٹس ایپ)
*پاکستان اسلامک میڈیکل ایسو سی ایشن*
پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ صدقہ جاریہ سمجھ کر شئیر کریں !
آج اس کہانی کو پورے تیس سال ہوگئے ہیں۔
یہ کہانی شروع ہوتی ہے فروری 1994 کی ایک شام جب پاکستانی ہاکی ٹیم کے کپتان شہباز سینئیر ایک ٹی وی شو میں مدعو تھے۔ انٹرویو کے دوران شہباز نے تھوڑا سا حسرت آمیز لہجے میں کہا کہ یہ ان کے کیریر کا آخری سال ہے اور اس سال چیمپئینز ٹرافی اور ورلڈ کپ دونوں منعقد ہونا ہیں۔ میری خواہش ہے کہ پاکستان میری کپتانی میں یہ دونوں ٹورنامنٹ جیتے۔
جس نے بھی یہ فقرہ سنا وہ ہنس دیا۔ پاکستان کو آخری بار ورلڈ کپ جیتے بارہ سال اور چیمپئنز ٹرافی جیتے چودہ سال ہوچکے تھے۔ دنیا میں ہالینڈ جرمنی اور آسٹریلیا کا راج تھا۔ اولمپکس میں کچھ عرصہ پہلے کافی مار پڑی تھی بلکہ ایشین گیمز میں ہمیں کوریا نے لمبا لٹا دیا تھا۔ ہاکی ٹیم کے حالات کافی برے تھے ایسے میں کپتان کی ایسی خواہش پر یہی کہا جاسکتا تھا کہ اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔
اس کے بعد اگلے دس مہینے میں جو کچھ ہوا وہ دنیائے ہاکی کا ایک ایسا باب ہے جو کسی اچھے ملک میں ہوا ہوتا تو اب تک اس پر درجن بھر فلمیں بن چکی ہوتیں۔ پاکستان نے شہباز کی قیادت میں دونوں ٹورنامنٹ جیتے اور ان مقابلوں میں پاکستان نے ایسی ہاکی کھیلی کہ بتانے اور دیکھنے میں زمین آسمان کا فاصلہ ہے۔ راقم ان تمام واقعات کا عینی شاہد ہے۔ شہباز کے انٹرویو کا بھی اور پھر دونوں بار اسے ٹرافیاں اٹھائے دیکھنے کا بھی۔ یہ ایک ایسی داستان ہے کہ جسے سنانے کے لیے فلمیں ناول ڈرامے کم پڑ جائیں۔ چیمپئنز ٹرافی کا فائنل نویں پنلٹی سٹروک پر جیتا۔ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں جرمنی کو اور فائنل میں ہالینڈ کو سٹروکس پر ہرایا۔ منصور نے بوولینڈر کا پنلٹی سٹروک روکا۔ شہباز کی مس ہٹ آہستہ آہستہ لڑکھتی گول میں چلی گئی۔ جرمنی کا گول ایمپائر نے ریجیکٹ کردیا۔ ایسی سنسنی خیز کہانیاں کہ بت کدے میں بیاں کروں تو صنم پکارے ہری ہری۔
لیکن کیا آپ میں سے کسی نے یہ کہانی کبھی پہلے سنی ہے؟ ۔ کیوں نہیں سنی۔ کرکٹ کے ورلڈ کپ کا ایک ایک لمحہ ہمیں یاد ہے لیکن یہ کہانی کسی نے کیوں نہیں سنائی۔ کسی نے اس پر کوئی ڈاکو منٹری کیوں نہیں بنائی۔ شہباز سینئیر، خواجہ جنید، وسیم فیروز، کامران اشرف یہ سب لوگ زندہ ہیں۔ یہ خود کیوں نہیں یہ کہانی سناتے؟ یہ اس ملک کی سب سے تھرلنگ سپورٹس سٹوری ہے لیکن اسکا کوئی کہیں ذکر نہیں۔
دنیا پروجیکشن کا کھیل ہے۔ یہاں جو خود کو اچھی طرح بیچ لے وہی کامیاب ہے۔ شہباز سینئیر ایک چھوٹے سے آفس میں خاموشی سے بیٹھا رہتا ہے۔ باقی لوگ کہیں کسی ڈپارٹمنٹ کی ٹیم کو کوچ کرتے ہیں یا اب اپنے ڈپارٹمنٹ میں ایڈمنسٹریشن لیول پر موو کرچکے ہیں۔ کوئی ذکر نہیں کرتا ایک ایسے سال کا جس کے شروع میں ایک آدمی نے حسرت بھرے لہجے میں کہا کہ وہ دنیا فتح کرنا چاہتا ہے اور پھر اس دھان پان سے آدمی نے جو کہا وہ کردکھایا۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اس انٹرویو کی وڈیو ملے تو پتہ چلے کہ ایگزیکٹ کس لمحے پر شہباز نے وہ بات کی تھی کیونکہ قبولیت کا ایسا لمحہ کم از کم میری نظر سے تو دوبارہ نہیں گزرا۔
بشکریہ منصور احمد
الحمدللہ میری ساری ٹیم کے اچھے Payout آئے ہیں..
اگر آپ میری ٹیم کا حصہ بننا چاہتے ہیں اور X سے کمانا چاہتے ہیں تو..
1۔ مجھے فالو کریں..
2۔ اس پوسٹ کو Repost کریں
3۔ کمنٹس میں X لکھ دیں.
میں خود اپ کو میسج کروں گا ان باکس میں
390:$
335:$
309:$
276:$
250:$
224:$
155:$
112 :$
109:$
96 :$
88 :$
65 :$
36 :$
عربی میں دوستی کے 13 درجے ہیں۔ لوگوں زیادہ تر 'دوست' لیول 5 یا اس سے نیچے کے ہوتے ہیں، اور ہم میں سے بہت سے لوگوں کا ایک بھی لیول 12 کا دوست نہیں ہے۔
دوستی کے درجات یہ ہیں:
1. زمیل
کوئی ایسا شخص جس سے آپ صرف ملاقات کی حد تک واقف ہوں۔
2. جلیس
کوئی ایسا شخص جس کے ساتھ آپ کچھ وقت بغیر کسی پریشانی کے گزار سکیں۔
3. سمیر
ایسا شخص جس کے ساتھ بات چیت کرنے میں آپ کو کوئی دقت نہ ہو۔
(یہ وہ مقام ہے جہاں سے معاملات سنجیدہ ہونا شروع ہوتے ہیں)
4. ندیم
پینے پلانے والا ایک ساتھی (صرف چائے) جسے آپ فرصت کے لمحوں میں یاد کر سکیں۔
5. صاحب
کوئی ایسا شخص جو آپ کی خیریت کے لیے فکرمند ہو۔ (اب ہم دوستی کے حقیقی مقام کی طرف بڑھ رہے ہیں)
6. رفیق
کوئی ایسا شخص جس پر آپ انحصار کر سکیں۔ آپ شاید ان کے ساتھ اپنی چھٹیاں بھی گزارنا چاہیں
7. صدیق
ایک سچا دوست، کوئی ایسا شخص جو آپ سے کسی مطلب برآری کے لیے دوستی نہیں کرتا۔ بلکہ اس سے آپ کے تعلقات کی بنیاد بےلوث اور اخلاص پر مبنی ہو
8. خلیل
ایک قریبی دوست، کوئی ایسا شخص جس کی موجودگی آپ کو خوش کر دے۔
9. انیس-
کوئی ایسا شخص جس کی موجودگی میں آپ راحت محسوس کریں
10 نجی -
قابل بھروسہ/اعتماد
کوئی ایسا شخص جس پر آپ کو گہرا اعتماد ہو۔
11. صفی-
آپ کا بہترین دوست، کوئی ایسا شخص جسے آپ دوسرے دوستوں پر فوقیت دیتے ہیں۔
12. قرین
کوئی ایسا شخص جو آپ سے الگ نہ ہو اور نہ صرف آپ جانتے ہوں کہ وہ کیسا سوچتا ہے بلکہ وہ بھی آپ کے خیالات سے واقف ہو آپ دونوں ایک دوسرے کے مزاج آشنا ہوں ۔
13۔ حبیب
یہ دوستی کی اعلیٰ ترین شکل ہے جس میں دوستی کے باقی سب اوصاف کے ساتھ دوست محبوب کے مرتبه پر فائز ہوتا ہے۔ يعنی . . . وہ انسان جس سے بے لوث محبت ہو۔
منقول
"۔ ہم نے اڑنا سیکھ لیا ہے پرندوں کی طرح ہوا میں ، ہم سمندروں میں مچھلیوں کی طرح تیرتے ہیں ، آج تک ہم نے جینا نہیں سیکھا زمین پر بھائیوں کی طرح ۔"
➖ مارٹن لوتھر کنگ
Don't steal the happiness of anyone, and do not trouble the heart of anyone. Our lives are short and in the grave, we will need those who pray for us and not against us.