پیر جی جب گھر ائے تو ان کی بیوی اپنے یار سے ملنے گئی ہوئی تھی پیر جی نے اپنی بچی کو کمرے میں بلایا اور غصے میں اس کے کپڑے پھاڑ کے اسے ننگا کیا اور اپنے لن پہ بٹھا کے اپنی بیوی اور بچی کو گالیاں دینے لگے بچی چپ چاپ لن پر اچھلتی رہی اور گالیاں سنتی رہی اور باپ کو فارغ کر کے اٹھی
پیر جی کی بہن رکشے میں کسی ضروری کام سے جا رہی تھی اچانک اسکو یاد ایا کہ وہ پیسے لے کر نہیں ائی اس نے رکشے والے سے کہا میرے پاس پیسے نہیں ہیں تو کسی اور طریقے سے وصولی کر لو رکشے والے کنجر نے موقع کا فائدہ اٹھایا اور بیری کی بہن کی قمیض اٹھا کے ممے چوسنے لگا حرامی نے پورے مزے لیے
رات بھر چودنے کے بعد جب تمہاری ماں تھکن سے چور ہو جائے تو ایک اچھے بیٹے کی طرح اپنی ماں کے ننگے جسم کی مالش کرو کیونکہ رات بھر نہ جانے کس کس نے اپنا لن اس کے منہ پھدی ور گانڈ میں دیا ہوگا کتنے ہی لوگوں نے اس سے رنڈی بنا کر اس کے جسم کو نوچا ہوگا اس لیے ماں کو سکون دو
جس کی بھی ماں بہن بیوی یا بیٹی خوبصورت جسم کی مالکن ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اس کے گھر کی عورتوں کے جسم کو نظر نہ لگے تو وہ پیر جی کے استانے پر اپنے گھر کی عورتوں کو لائے پیر جی ان کو ننگا کر کے ان کے اوپر چڑھ کے نظر اتاریں گے اپنے کالے لن سے ان کے جسم کو گندی نظر نہیں لگنے دیں گے
صبح سویرے گھر کا نوکر جو کہ پیر جی کی ماں کی خدمت کرتا ہے اور ان کی ماں کا بہت وفادار بھی ہے پیر جی کی ماں بھی گھر کے نوکر کا بہت خیال رکھتی ہیں جب بھی نوکر کو کسی کو چودنے کی طلب ہوتی ہے تو پیر جی کی ماں جسم پیش کر دیتی ہے نوکر بھی پورے حق سے ماں کو چودتا ہے
بیٹے کوصرف ماں کی خدمت نہی بلکہ اپنا ماں کی پھدی کی خدمت بھی کرنی چاہیے یہ وہ پھدی ہے جے کئی لوگ چود چکے ہیں اور بہت سے لوگ تمہاری ماں کی پھدی چودنے کی طلب میں رہتے ��یں اس لیے اپنی ماں کی پھدی کی مالش کرو اس سے دوسروں کے لن کے لیے تیار رکھو خود بھی چودو دوسروں کو بھی چودنے دو
پیر جی نے جوش میں ا کر پڑوس میں ایک لڑکی کو ننگا کر کے چود دیا جب اس کے بھائیوں کو یہ بات پتہ چلی تو وہ ادھی رات کو پیر جی کی گھر میں داخل ہوئے اور پیر جی کی بیوی اور بہن کو گھوڑی بنا کر بستر پر پوری رات اپنے لن کے جھٹکوں سے بدلہ لیتے رہے رات بھر لوگوں نے ان کی اوازیں سنی